آگرہ: مسجد نہر والی سکندرا کے خطیب محمد اقبال نے جمعہ کے خطبے میں رمضان المبارک اور قرآن کریم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رمضان اللہ تعالیٰ کو زیادہ یاد کرنے اور اس کی کتاب سے تعلق جوڑنے کا مہینہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدس مہینے میں سب سے بہترین عمل قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرنا ہے۔
انہوں نے حاضرین سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم نے کبھی قرآن کریم پڑھتے یا سنتے وقت یہ محسوس کیا کہ ہمارے جسم لرز اٹھے ہوں، رونگٹے کھڑے ہو گئے ہوں یا ہماری آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے ہوں؟ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر کمی کہاں رہ گئی ہے۔
خطیب محمد اقبال نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سچے اہل ایمان وہ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے (سورہ الانفال: آیت 2)۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرآن میں یہ بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ ایک دن انسان سے پوچھا جائے گا کہ اس نے قرآن کریم سے کتنا تعلق قائم رکھا (سورہ الزخرف)۔
انہوں نے کہا کہ اکثر لوگ قرآن کریم کی اصل زبان نہیں سمجھتے، اسی وجہ سے اس کے اثرات دلوں میں پوری طرح محسوس نہیں ہوتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ جو زبان ہم سمجھتے ہیں، اس میں قرآن کا ترجمہ پڑھا جائے تاکہ اس کے پیغام کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ رمضان المبارک کا قرآن کریم سے گہرا تعلق ہے، کیونکہ اسی بابرکت مہینے کی ایک عظیم رات لیلۃ القدر میں قرآن نازل ہوا۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ اس مہینے میں قرآن کریم سے خصوصی تعلق قائم کریں اور زیادہ سے زیادہ تلاوت کریں۔
خطیب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو پوری انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے، صرف مسلمانوں کے لیے نہیں۔ جو شخص اس میں غور و فکر کرے گا وہی اس کی ہدایت سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے گا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے قرآن کریم کی وہ قدر نہیں کی جو اس کے شایانِ شان تھی۔ ہم نے اس نصیحت اور رہنمائی کی کتاب کو صرف مردوں کو ایصالِ ثواب کے لیے پڑھنے تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ یہ زندہ انسانوں کی زندگی سنوارنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ انسان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن سب کو اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہونا ہے اور اس دن یہ سوال ہوگا کہ ہم نے قرآن کریم سے کس قدر تعلق قائم کیا۔ انہوں نے اپیل کی کہ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں ہر شخص خاموشی کے ساتھ اپنے رب سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگے اور اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے کا عزم کرے۔

