اردو کاؤنسل ہند، بھاگلپور کی تشکیلِ نو کے بعد پہلی نشست کا انعقاد
بھاگلپور: اردو کاؤنسل ہند، بھاگلپور کی تشکیلِ نو کے بعد پہلی نشست الصفہ اکیڈمی میں منعقد ہوئی جس میں اردو زبان کے فروغ اور اشاعت پر غور و فکر کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر شاہد رضا جمال نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا مکرم شاہین، مہتمم الصفہ اکیڈمی نے انجام دیئے۔ اس موقع پر مختلف دانشوروں اور ماہرین نے اردو کے فروغ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تجاویز پیش کیں۔
صدر اجلاس ڈاکٹر شاہد رضا جمال نے اردو زبان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل نہ اردو سیکھ رہی ہے اور نہ ہی والدین اور اساتذہ اس جانب توجہ دے رہے ہیں۔ سب نے اردو کے فروغ کی ذمہ داری حکومت پر ڈال رکھی ہے، لیکن ہمیں خود بھی عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کو گھروں میں زینت بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ آئندہ نسلیں اس زبان سے واقف ہوں۔ اگر ہم اردو زبان نہیں جانتے تو دیگر زبانوں کو بھی بہتر انداز میں ادا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بہار اردو اکادمی کی تشکیلِ نو کی جائے، ہر اسکول میں اردو ٹیچر بحال کیا جائے اور وزیر اعلیٰ کے اعلان کے مطابق اسکولوں میں اردو کتابیں دستیاب کرائی جائیں۔ اردو اخبارات کو اشتہارات اردو زبان میں ہی دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر سابق صدر شعبہ اردو پی جی ڈپارٹمنٹ تلکامانجھی بھاگلپوریونیورسٹی
ڈاکٹر شیریں زباں خانم نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو کسی مخصوص مذہب، طبقے یا فرقے کی زبان نہیں بلکہ یہ سب کی زبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم کے بعد پاکستان نے اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا، جبکہ ہندوستان میں اسے مسلمانوں کی زبان قرار دے دیا گیا۔ ہمیں اس سوچ کو ختم کر کے اردو کے فروغ کے لیے خود کوشش کرنی ہوگی۔ اردو سب کی محبوب زبان ہے، لوگ اردو شعر و ادب کو پسند کرتے ہیں، لیکن ہم اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دلانے میں ناکام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سینٹ جوزف اسکول میں والدین کے دباؤ پر اردو ٹیچر رکھا جا سکتا ہے تو دیگر اسکولوں میں بھی پریشر گروپ بنا کر اردو کی تعلیم کے لیے جدوجہد کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کاؤنسل میں غیر مسلم افراد کو شامل کرنا ضروری ہے، تاکہ اردو زبان کا جو پیغام یکجہتی کا ہے وہ عام ہو سکے۔
ٹی این بی کالج کے استاد ڈاکٹر اختر آزاد نے کہا کہ ہمیں طلبہ کو یہ بتانا ہوگا کہ اردو پڑھنے کے بعد وہ کیا کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ بچوں میں اردو سے محبت پیدا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر بچے اردو کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو وہ مختلف مقابلہ جاتی امتحانات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے مستقبل کے لیے لڑائی لڑنی ہوگی، بغیر کسی فائدے کے اور پورے خلوص کے ساتھ۔ ہمیں بچوں کو اردو کے ساتھ جوڑنا ہوگا، تاکہ یہ زبان ہمیشہ زندہ رہے۔
کاؤنسل کے سکریٹری ڈاکٹر ارشد رضا نے کاؤنسل کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے عوام و خواص کے اشتراک سے جدوجہد کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مشنری اسکولوں میں اردو کی تعلیم کے لیے ایک پریشر گروپ بنایا جائے گا، جیسا کہ اس سے قبل بھی اس حوالے سے جدوجہد کی گئی تھی۔ انہوں نے اردو کے فروغ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات پر زور دیا۔
مولانا مکرم شاہین نے کہا کہ اردو کے فروغ کا مرکز اور مبدا مدارس اسلامیہ ہیں۔ ان اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور اردو زبان کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے بھرپور کوشش کرنی ہوگی۔
اس نشست میں دانشوروں اور ماہرین کی تجاویز کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور عوام و خواص کو اس مہم میں شامل کیا جائے گا، تاکہ اردو زبان کا تحفظ اور ترقی ممکن ہو سکے۔اس موقع پر جوثر ایاغ،حسنین انصاری،جاوید انور، محمد صدیق،اسد اقبال رومی،سجاد عالم،ایک دم صدیقی،قمر رحمان ،توقیر احمد عرف پپو،نعیم رضا وغیرہ موجود تھے۔