उर्दू

معروف ادیب اور قلم کار ڈاکٹر زبیر احمد صدیقی کی تحقیق و تنقید پر مبنی “ادبی مباحث” معیاری نقد و تبصرہ سے باوصف حال ہی میں منظر عام پرآئے گی


رپورٹ(شوذب منیر)
ادب سے میری وابستگی محض ایک ذاتی میلان نہیں، بلکہ اردو زبان و ادب کے ذوق کو شعور کی آب و تاب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انہی علمی فضاؤں سے ملی ہے، جہاں کازبان و بیان کی باریکیوں، متن کے تہذیبی پس منظر، اور فکری ارتقا پر گہرائی سے گفتگوطرۂ امتیاز رہا ہے۔دوران پی ایچ ڈی میں نے شعبۂ اردو کے ہی پلیٹ فارم سے تحقیق و تنقید کے نئے زاویے دریافت کیے اور علمی مکالمے کی روایت کو قریب سے دیکھا۔ شعبے میں پروجیکٹ فیلو کی حیثیت سے بھی پروفیسر سید محمد ہاشم صاحب کے ساتھ خدمات انجام دینے کا موقع ملا، جس نے مجھے علمی و تحقیقی تجربات کے مزید مواقع فراہم کیے۔یہ سفرہنوزجاری ہے، اور اسی مادرِ علمی کے مرکز برائے فاصلاتی اور آن لائن تعلیم میں بطوراسسٹنٹ پروفیسراردو (معاہداتی)وابستہ ہوں۔ ان خیالات کا اظہار معروف ادیب اور قلمکارمولانا زبیر احمد صدیقی نے اپنی نئی تصنیف ادبی مباحث کے متعلق بات کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ادبی مضامین کو یکجا کرنے کی روایت اردو ادب کا ایک حسین ورثہ ہے، جو نہ صرف فکر و فن کی حفاظت کا ذریعہ ہے بلکہ قاری کے لیے ادبی ذوق کی تسکین کا وسیلہ بھی ہے۔ ادب کی تفہیم ایک ایسا عمل ہے جو انسانی ذہن کو نئے زاویوں اور امکانات سے روشناس کراتا ہے۔مطالعہ اور تفکر انسان کو ہمیشہ نئے زاویے عطا کرتے ہیں، جو تنقید، تحقیق، یا کسی خیال کے تعارف کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ زیرنظر کتاب انہی متنوع خیالات اور تحریری جہات کا ایک مجموعہ ہے، انھیں ترتیب دینے کا ایک مقصد اپنے ان مضامین کویکجاکرنا ہے جوگاہے بہ گاہے گذشتہ ایک دہائی میں مختلف کتب و رسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔
مولانا زبیر احمد صدیقی نے مذید کہا کہ علم و تحقیق کے میدان میں رسائل اور جرائد ہمیشہ علمی اور ادبی مبحث کا مرکز رہے ہیں، لیکن یہ امرواقعہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں شائع شدہ مضامین اکثر نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان مضامین کو کتابی شکل دی گئی ہے؛ تاکہ یہ محفوظ رہیں اور قارئین کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بن سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ادب معاشرتی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے؛ لہٰذا اس میں موجو توانائی کو سمجھنا اور اس پر تبصرہ کرنا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم نہ صرف ادب بلکہ اس کے اثرات، پس منظر اور مقصد کو بھی گہرائی سے دیکھیں۔ تمام مضامین اسی تناظر میں لکھے گئے ہیں، ان تحریروں کے لکھنے کا مقصد ہمیشہ ادب کو سمجھنا رہا ہے، نہ کہ سمجھانا۔ میری کوشش ہمیشہ ادب کو سمجھنے اور اس کی تخلیقی جہات پر غور کرنے کی رہی ہے۔ یہ تحریریں کسی حتمی رائے کا دعویٰ نہیں کرتیں، بلکہ یہ مجموعہ ادب کو سمجھنے اور ان پر غور و فکر
کرنے کی صرف ایک کوشش ہے؛ مقصوداس مجموعے کی اشاعت سے نہ صرف ان تحریروں کو قارئین تک پہنچانے کی خواہش کا اظہار ہے، بلکہ ان کے ذریعے نئے مباحث اور خیالات کو جنم دینے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہنا بھی ضروی معلوم ہوتا ہے کہ اس مجموعے میں شامل مضامین کسی ایک نقطۂ نظر یا آراء اور موضوع پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ یہ مختلف موضوعات کو محیط ہیں۔ در اصل یہ مجموعہ قارئین کے لیے ایک دعوت فکرہے؛ کہ ہم ادب کو پڑھیں، اس پر غور کریں، اس کے مختلف پہلوؤں کو سمجھیں اور اس سے حاصل ہونے والی بصیرت کو اپنے ذاتی اور اجتماعی تجربات سے جوڑیں۔اس میں شامل بعض تحریریں تحقیقی نوعیت کی ہیں، کچھ تجزیاتی اور تنقیدی ہیں، اور چند ایسی بھی ہیں جو شخصیات اور علمی اور ادبی تبصروں پر مشتمل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیش نظر مجموعے میں زمانی یا کسی خاص ترتیب کو ملحوظ نہیںرکھا گیا ہے، اسمیں پہلا مضمون اسلوب احمد انصاری کا زاویۂ نقد در معرفت شعر اقبال حالیہ تحریر ہے، جو پروفیسر عبدالرحیم قدوائی اور ڈاکٹر اسعدفیصل فاروقی کی مرتب کردہ کتاب تحدیث اقبال بیادگار پروفیسر اسلوب احمد انصاری میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ آخر میں اس مجموعے میں دو نشریے بھی شامل ہیں، جو آل انڈیا ریڈیو آگرہ سے نشرہوئے تھے۔ تمام مضامین کی تفصیلات: اشاعت کے مہینے اور سال، بشمول حوالہ کتب اور رسائل وجرائدوغیرہ مضمون کے آخر میں درج ہیں؛ تاکہ قارئین ان کے تاریخی سیاق و سباق سے بھی آگاہ ہوسکیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی تسلیم کرناضروری ہے کہ مضامین کا معیار اور قدرو منزلت کا تعین قارئین کی صواب دید پر مبنی ہوتا ہے؛ ہر قاری کے ذوق و نظر کا دائرہ مختلف ہوتا ہے، اور یہی تنوع کسی بھی تحریر کی حقیقی آزمائش اور قدر کا پیمانہ بنتا ہے۔ میں اپنی علمی اورادبی کاوشوں کو پیش کرتے ہوئے
دلی مسرت محسوس کررہاہوں۔ اس کتاب کے ذریعے، میرا مقصد نہ صرف اپنے خیالات اور تجربات کو آپ تک پہنچانا ہے بلکہ آپ کے افکار اور آراء سے خود کو بہتر کرنا بھی مقصودہے۔
یہ شعبۂ اردو کا ہی فیضان ہے، کہ آسمان ادب کے نابغۂ روز گار اساتذہ کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا، بالخصوص پروفیسر ابوالکلام قاسمی اور پروفیسر ظفر احمد صدیقی نے میری علمی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ علاوہ ازیںپروفیسر خورشید احمد اورپروفیسر قمرالہدی فریدی، جن کی علمی وسعت اور تنقیدی بصیرت نے مجھے ادب کے عمیق پہلوؤں پر غور و فکر کی راہ دکھائی؛ پروفیسر صغیر افراہیم اور پروفیسر سراج اجملی، جن کے تدبر اور فکر انگیز مباحث نے میری علمی جستجو کو مزید مہمیز کیا؛ اوراستاد محترم ڈاکٹر سلطان احمدصاحب، جن کی رہنمائی اور نوازشات میرے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہیں۔ گویا یہ صفحات میرے اساتذہ کے علمی احسانات کا ایک اعتراف ہیں۔
آخرمیں، اللہ باری تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس مجموعے کو یکجا کرنے کی توفیق
دی۔ میں دیگر تمام اساتذہ اور احباب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی۔ یہن شاء اللہ کتاب آپ کے لیے ہے، آپ کی آراء میرے لیے نہ صرف رہنمائی کا ذریعہ ہوں گی بلکہ آئندہ کاموں کی سمت کا تعین بھی کریں گی۔