مولانا عبدالرحمن کٹکی سمیت تین ملزم دہشت گردی کے الزام سے بری
جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے دو ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی
جمشید پور ,مشہور عالم دین مولانا عبدالرحمن کٹکی سمیت تین ملزمین کو جمشید پور سیشن عدالت نے ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر دہشت گردی جیسے سنگین الزامات سے بری کردیا ۔ عدالت نے ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر ملزمین کو مقدمہ سے بری کردیا ۔ گزشتہ ۲۱، فروری کو فریقین کی بحث کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے آج ظاہر کیا گیا ۔
اس مقدمہ میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی نے مولانا عبدالرحمن کٹکی کے ساتھ ساتھ عبدالسمیع کو قانونی امداد فراہم کی ہے۔ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ بھالے پانڈا اور ایڈوکیٹ دلیپ نے گواہان سے جرح کی اور خصوصی عدالت میں حتمی بحث بھی کی تھی ۔ مقامی وکلاء کی معاونت ایڈوکیٹ واصف رحمن نے کی تھی ۔
اس مقدمہ میں ملزمین کے خلاف گواہی دینے کے لئیے استغاثہ نے ۱۵ سرکاری گواہان کو عدالت میں پیش کیا تھا لیکن ان گواہان کی گواہی کو عدالت نے قبول کرنے سے انکار کردیا اور ملزمین کے خلاف قائم مقدمہ سے انہیں بری کردیا ۔
استغاثہ نے ملزمین پر ممنوعہ تنظیم القاعدہ کے رکن ہونے اور ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے جیسے سنگین الزامات عائید کیئے تھے، ملزمین، پر یہ بھی الزام تھا کہ وہ القاعدہ سے جڑنے کے لیئے نوجوانوں کی ذہن سازی بھی کر تے تھے۔ استغاثہ نے ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 121/121A/124(A)/120(B)/34، آرمس ایکٹ کی دفعات 25(1-B)A/26/35/25(1-A)، یو اے پی اے قانون کی دفعات 16/17/18/18B/19/20/21/23 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا لیکن استغاثہ ٹرائل کے دوران یہ ثابت نہیں کرسکا کہ ملزمین دہشت گردی جیسے سنگین معاملے ملوث تھے۔
آج ایڈیشنل سیشن جج بملیس کمار سہائے نے ملزمین اور ان کے وکلاء کی موجود گی میں فیصلہ ظاہر کیا ۔ آج عدالت میں ملزمین کے اہل خانہ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے ۔احاطہ عدالت میں سیکوریٹی کے سخت اقدامات کئیے گئے تھے ۔
یہ مقدمہ کئی سالوں سے التواء کا شکار تھا، مقدمہ کی جلداز جلد سماعت کے لیئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کو سخت ہدایت دی تھی کہ مقدمہ کی سماعت جلداز جلد مکمل کی جائے، سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد ہی اس مقدمہ کی تیز سماعت ہوئی۔
تفتیشی ایجنسی نے ملزم مولانا عبدالرحمن کٹکی کے خلاف دہلی، جمشید پور اور کٹک میں مقدمات قائم کیئے تھے، دہلی مقدمہ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے ، آج جمشید پور مقدمہ کا فیصلہ بھی ملزمین کے حق میں آگیا ہے ۔ مولانا عبدالرحمن کے خلاف اب صرف کٹک مقدمہ ہی بچا ہے جس میں سرکاری گواہان کی گواہی جاری ہے۔ کٹک مقدمہ کی جلداز جلد سماعت مکمل کیئے جانے کا اڑیسہ ہائی کورٹ نے سیشن عدالت کو حکم جاری کیا ہے نیز اڑیسہ ہائی کورٹ میں مولانا عبدالرحمن کٹکی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت زیر سماعت ہے۔
جمشید پور مقدمہ کا سامنا کررہے ملزمین مولانا کلیم الدین مظاہر اور عبدالسمیع کی جیل سے رہائی ہوجائے گی جبکہ مولانا عبدالرحمن کٹکی کی رہائی کٹک مقدمہ میں ضمانت نا ملنے کی وجہ سے نہیں ہوپائے گی لیکن جمشید پور مقدمہ سے ملنے والی راحت مولانا عبدالرحمن کے کٹک مقدمہ میں انہیں راحت دے گی۔