उर्दू

غزل و سائنس کا امتزاج۔محمدعادل فراز


مبصر : ڈاکٹر رفیع الدین ناصر


دورِحاضر میں زندگی کا ہر شعبہ سائنس سے متاثر ہے۔ اللہ کی دی ہوئی اس عظیم نعمت کو جاننا اور اس سے فیضیاب ہونا ایک بیدار قوم کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ دورِحاضر کو سائنس و ٹیکنالوجی کا دور کہتے ہیں۔ اس لئے عہد حاضر میں تمام شعبہ حیات سائنس کے زیراثر ہیں۔ ان شعبہ حیات میں ادب کا اہم مقام ہے۔ ادب کے توسط سے ہی ہمیں بہت ساری باتوں کا علم ہوتا ہے۔ ادب چاہے نثر ہو یا نظم بہت سی اہم باتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ہمارے اطراف میں رونما ہونے والے واقعات کوپیش کرتا ہے۔ جہاں اس میں بہت حد تک تخیل کا عنصر شامل ہوتا ہے، وہیں حقیقت کی عکاسی بھی ہوتی ہے اور اگر یہ حقیقی عکاسی سائنس کے تعلق سے ہوتو قاری بہت متاثر ہوتا ہے اور قدرت میں پنہاں ان رازوں کو جاننے میں اُس کی دلچسپی مزید بڑھ جاتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کو ان سائنسی دریافتوں کی روشنی میں مزید بہتر بنانے اور آسائش سے پُر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب بھی کوئی ادیب اپنے رشحات قلم کے ذریعہ کسی سائنسی حوالے کو پیش کرتا ہے تو اس سے اُس ادیب کے سائنسی مطالعہ کی گہرائی اور گیرائی کا پتہ چلتا ہے۔ اردو زبان کے نثرنگاروں نے اپنے افسانوں، کہانیوں، ناولوں اور مضامین کے توسط سے سائنس کی بے شمار پرتوں کو کھولنے کی کامیاب کوشیشں کی ہیں۔ اسی طرح شعراء کرام نے شاعری کے توسط سے قدرت میں پنہاں ان رازوں سے نہ صرف پردہ اٹھایا بلکہ جدید سائنسی ایجادات پر بھرپور معلومات بہم پہنچائی ہے۔ جس کو اردو دنیا نے آسانی سے سمجھ لیا اور رسیمان قدرت میں پنہاں رازوں کو بہت خوب جانا۔
کتاب ”اردو غزل میں سائنسی عناصر“ کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو اُس سے اردو شعراء کرام کی سائنسی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ دو مصرعوں میں کسی ایک سائنسی مفروضہ کو بیان کرنا آسان کام نہیں، اس سائنسی مفروضہ کو سائنس داں برسوں کی محنت اور تحقیق کے بعد پیش کرتے ہیں اور ہمارے شعراء کرام جب انھیں اپنے شعر کے قالب میں ڈھالتے ہیں تو ایک بیدار ذہن اس کے پس پشت موجود تمام حقائق کو جاننے کی کوشش کرتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت ساری ایسی تحقیقات یاسائنسی معلومات ہوتی ہیں جو ایک عام اردو قاری کی فہم و فراست سے بالاتر ہوتی ہیں۔ غالباً اس بات کو ملحوظ رکھ کر علی گڑھ کے ہونہار سپوت محمدعادل فراز نے ایک انتہائی معیاری کتاب ”اردو غزل میں سائنسی عناصر“ کو اردو دنیا کے روبرو پیش کیا۔ جب ہم محمدعادل فراز کے کوائف پر نظر ڈالتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ وہ خود اردو اور سائنس کا امتزاج ہے۔ جہاں انھوں نے سول انجینئرنگ میں ڈپلوما کیا تو وہیں اردو میں ایم اے مکمل کیا۔ اس بنیاد پر اُن کی تحریریں سائنسی معلومات کو جب ادب کی چاشنی میں ڈبوکر منصہ شہود پر لے آتی ہیں تو پڑھنے والے کو بہترین لذت کے ساتھ ساتھ تجسس میں اضافہ کرتی ہیں اور پھر تشنگی کا احساس بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی اس کائنات کے مفروضوں کو ہمارے اردو شعراء نے جہاں کہیں بھی پیش کیا اُس کے راز محمد عادل فراز نے مزید کھولے ہیں۔ محمدعادل نے علمی و ادبی گھرانے میں پرورش پائی۔ ابتداء سے ہی انھوں نے بچوں کے لئے ادبی نظمیں لکھیں، جس کی بہت پذیرائی ہوئی۔


محمدعادل فراز کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ وہ اردو غزل کا مطالعہ کر کے واہ واہ کر کے خاموش نہیں بیٹھتے بلکہ رکتے ہیں، ہر شعر کو سمجھتے ہیں اور جہاں کہیں بھی انھیں سائنسی عنصر محسوس ہوتا ہے تب وہ اُس سائنسی عنصر کی گہرائی کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور پتہ نہیں اس کے لئے وہ کتنی تجربہ گاہوں، کتب خانوں کی خاک چھانتے ہیں اور اُس کے بعد اس شعر کے پس منظر کو صفحہ قرطاس پر بکھیرتے ہیں تو وہ ایک شاہکار بنتا ہے۔ محمدعادل فراز بنیادی طور سے سیول انجینئرنگ کے ڈپلوما ہولڈر ہیں لیکن اُن کی تحریروں میں ماحولیات، نباتیات، کونیات، ارضیات، حشرات الارض، میڈیکل سائنس، قدرتی آفات، فوبیا، گہن کے ساتھ ساتھ انٹروورٹ پرسنالٹی کے علاوہ بے شمار سائنسی عنوانات کا تذکرہ ملتا ہے اور وہ بھی اس انداز سے ملتا ہے کہ گویا وہ اس مخصوص سائنسی علم کے ماہر ہیں۔ اگر ہم کتاب ”اردو غزل میں سائنسی عناصر“ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ محمدعادل فراز نے ”فوبیا“ کے ۰۰۱/اقسام کا مطالعہ کیا اور اس میں سے بیشتر کو اردو شاعری کے حوالے سے اس کتاب میں پیش کیا۔ چنانچہ میسو فوبیا (Misophobia) کے حوالے سے اورنگ آباد کے مشہور شاعر جناب بشرؔنواز (مرحوم) کے اس شعر کا حوالہ دیتے ہیں ؎


بہت تھا خوف جس کا پھر وہی قصہ نکل آیا
مرے دکھ سے کسی آواز کا رشتہ نکل آیا
محمدعادل فراز اس شعر کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”شاعر اپنے اس شعر میں میسوفوبیا کا ذکر کررہا ہے۔ وہ اس فوبیا کی علامت بتاتے ہوئے اس بات پر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ کسی طرح آواز کے خوف سے اس کو اذیت ہورہی ہے۔ جب مریض آواز کے خوف میں مبتلا ہوتاہے تو اس کی رات کی نیند اور دن کا چین بھی حرام ہوجاتا ہے۔“ اسی شعر کو اورنگ آباد والے کسی اور مفہوم میں لیتے ہیں۔ محمدعادل فراز کی زنبیل میں اس طرح کے کئی اشعار مختلف اقسام کے فوبیا پر موجود ہیں۔ جس کو سمجھنا ہر ایک کے لئے اس لئے ضروری ہے کہ کہیں ہم کسی قسم کے فوبیا میں تو مبتلا نہیں ہیں۔


محمد عادل فراز کی عرق ریزی جب ہم سائنسی تلمیحات کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ محمدعادل فراز اردو غزل کے خزانے سے ایسے قیمتی تلمیحات کے ہیروں کو اس مضمون کے تاج میں جڑاہے کہ اس کی چمک دمک دور تک پھیلی نظر آتی ہے۔ مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ جام جمشید۔ جام جم۔ جام جہاں نما، آبِ حیات، تخت سلیمان، دیوار قہقہ، آئینہ سکندری، کشتی نوح، پارس پتھر، باغ ارم، بہشت شداد وغیرہ۔


محمدعادل فراز کی کتاب ”اردو غزل میں سائنسی عناصر“ کا مطالعہ کرتے ہیں تو علم ہوتا ہے کہ اردو شعراء کرام نے کئی ادق سائنسی علوم کو اردو شاعری میں پیش کیا اور ان علوم کو یکجا کر کے پیش کرنے کاکام محمدعادل فراز نے جس خوش اسلوبی سے انجام دیا، بلاکسی مبالغہ کے ہم دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ عالمی طور سے اردو ادب میں اردو غزل اور سائنس کے حوالے سے اس طرح کی تحقیقی کتاب شائع نہیں ہوئی۔ اس کتاب کی کئی اہم باتوں میں سے ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں مختلف شعراء کرام نے سائنس کے مختلف عناوین کی جو ترجمانی کی، اُس حوالے سے شعراء کرام پر علیحدہ علیحدہ مضامین ہیں جیسے نباتات کی ترجمانی کے حوالے سے زینت اللہ جاوید، انٹروورٹ پرسنالٹی کے حوالے سے ڈاکٹر وفانقوی، سائنسی حسن کے حوالے سے مجازؔلکھنؤی، سائنسی تخیل کے حوالے سے حسنین عاقب کے علاوہ مختلف سائنسی عناوین کی ترجمانی کرنے والے شاعروں کو ان کے اشعار کے ساتھ بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا۔


کتاب ”اردو غزل میں سائنسی عناصر“ مکمل طور سے بہت معیاری سائنسی عنوانات سے پُر ہے۔ ان سائنسی مفروضوں کو جو عادل فراز نے جس آسان عام فہم زبان میں پیش کیا اُس کو ایک عام قاری ہی کیا بلکہ بچے بھی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں اور جان سکتے ہیں کہ اردو غزل کا دامن جدید و قدیم سائنسی خزانے سے بھرا ہوا۔ احساس کمتری کو دور کر کے اس خزانے سے اگر ہم فائدہ اٹھاتے ہیں تو یقینا ہم موجودہ ترقی یافتہ سائنسی زمانے سے ہم آہنگ ہوسکتے ہیں –


کتاب ” اردو غزل میں سائنسی عناصر (تحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ)” کے تعلق سے ملک و بیرون ملک کے ماہرین نے جس خوشی، مسرت و تاثرات کو پیش کئے اسکو کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ – ان میں شامل ہیں ڈاکٹر سید بصیرالحسن وفاؔ، پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی، پروفیسر رفیع الدین ناصر، پروفیسر جمال نصرت، فخرالدین عارفی، ڈاکٹر ریاض توحیدی، سجاد نقوی، خان حسنین عاقب، سید اختر علی، اسلم چشتی، ڈاکٹر خلیل تماندار، ایم جے خالد، محمد معز الدین خان معز اور ڈاکٹر محمد راشد اقبال۔ اس کی وجہ سے کتاب کی اہمیت میں بہت اضافہ ہوا۔ کتاب بہترین گیٹ اپ، عمدہ طباعت اور معلومات سے پرہے، دور حاضر میں اس کتاب کی قیمت چار سو روپئے مناسب معلوم ہوتی ہے۔ اس کتاب کا ہر گھر اور ہر لائبریری میں رہنا بہت ضروری ہے تاکہ ہمارے بچے اور اردو قاری سائنس کے مختلف نکات کو آسانی سے سمجھ سکے۔ اس اعلیٰ تحقیقی کاوش پر محمد عادل فراز دلی مبارکباد کے مستحق ہیں۔.

Dr. Rafiuddin Naser (National Awardee Teacher)
Head Department of Botany,
Maulana Azad College of Arts, Science and Commerce,
Dr. Rafiq Zakaria Campus, Rauza Bagh, Aurangabad-431001 (MS)
Emial: rafiuddinnaser@rediffmail.com
Mobile: 9422211634