رپورٹ۔ ایس منیر
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور میونسپل کارپوریشن کے درمیان زمین کو لے کر جاری تنازع مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ زمین اے ایم یو کو دیے جانے کے مطالبے کو لے کر اے ایم یو ٹیچرس ایسوسی ایشن اور طلبہ سبھی احتجاج کر رہے ہیں۔ وہیں اے ایم یو انتظامیہ بھی اس سلسلے میں کوشش جاری رکھنے کا دعوی کر رہی ہے، لیکن اے ایم یو انتظامیہ کے دعوے اور آر ٹی آئی کے جوابات میل نہیں کھا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ایڈووکیٹ سید کیف حسن نے جو کچھ کہا، وہ آنکھیں کھولنے والا ہے۔ واضح رہے کہ نگر نگم کی جانب سے اے ایم یو کی ہارس رائیڈنگ کی زمین پر قبضہ کرنے کی پہلی کوشش کے خلاف ایڈووکیٹ سید کیف حسن نے سب سے پہلے الہ آباد ہائی کورٹ میں نگر نگم کے خلاف دعوی دائر کیا تھا ۔
ْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْْ
خاموشی نہیں، ذمہ داری اور شفافیت کا وقت ہے۔ایڈووکیٹ سید کیف حسن

ایڈووکیٹ سید کیف حسن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اے ایم یو کی ہارس رائیڈنگ کی زمین کے معاملے میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جس طرح دعوی اور کارروائی سامنے آئی ہے، وہ نہایت تشویش ناک ہے۔ یہ معاملہ محض زمین کے ایک ٹکڑے کا نہیں، بلکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخی شناخت، تعلیمی وقار اور مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے معاملے میں جذبات سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ قانون، حقائق اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر مضبوط اور واضح موقف اختیار کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اے ایم یو انتظامیہ اور اس کے افسران اپنے بیانات میں یہ کہہ رہے ہیں کہ یونیورسٹی نے پہلے ہی ایس ڈی ایم عدالت میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے، لیکن اسی سال مئی میں آر ٹی آئی کے جواب میں پراپرٹی آفس کی جانب سے بتایا گیا کہ ہارس رائیڈنگ کی زمین سے متعلق کسی مقدمے کی معلومات دفتر میں موجود نہیں ہیں۔ اگر ایک طرف مقدمہ دائر کیے جانے کی بات کہی جا رہی ہے اور دوسری طرف متعلقہ دفتر کے ریکارڈ میں ایسے کسی کیس کی معلومات موجود نہیں ہیں تو یہ دونوں باتیں بظاہر ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو اس تضاد کی واضح وضاحت عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔سید کیف حسن نے کہا کہ اے ایم یو انتظامیہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف بیانات جاری کرنا کافی نہیں ہے۔ اگر واقعی یونیورسٹی نے قانونی کارروائی شروع کی ہے تو مقدمے کی تفصیلات، متعلقہ دستاویزات اور قانونی موقف کو واضح طور پر سامنے لایا جانا چاہیے۔ آخر یہ معاملہ اے ایم یو کی زمین اور اس کے مفادات کا ہے، اس لیے یونیورسٹی کے طلبہ، اساتذہ، سابق طلبہ اور علی گڑھ کے عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ انتظامیہ نے اب تک کیا قانونی قدم اٹھایا ہے اور اس کی موجودہ حیثیت کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہارس رائیڈنگ کی زمین پر میونسپل کارپوریشن کے دعوے کے خلاف انہوں نے خود الہ آباد ہائی کورٹ میں میونسپل کارپوریشن کے خلاف دعوی دائر کیا تھا۔ اس لیے اس معاملے کو محض بیانات یا رسمی کارروائی تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ قانونی میدان میں جو حقائق اور شواہد موجود ہیں، انہیں پوری سنجیدگی کے ساتھ عدالت کے سامنے رکھنا اور ادارے کے مفاد کا دفاع کرنا ضروری ہے۔سید کیف حسن نے کہا کہ اس معاملے کا ایک اور نہایت اہم پہلو ایس ڈی ایم سے متعلق ہے۔ اگر یہی افسر مبینہ طور پر خود زبردستی قبضہ دلوانے کے لیے موقع پر آیا تھا تو پھر اسی افسر سے غیر جانب دارانہ انصاف کی امید کرنا ایک سنگین سوال پیدا کرتا ہے۔ جس افسر کے کردار اور کارروائی پر خود سوال اٹھ رہے ہوں، اس سے فریقین کے درمیان غیر جانب دار فیصلہ کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ ایسی صورت حال میں بہتر یہی ہوگا کہ متعلقہ ایس ڈی ایم خود کو اس معاملے سے الگ کر لے، یا ضلع مجسٹریٹ اس معاملے کو کسی غیر جانب دار عدالتی فورم میں منتقل کرنے پر غور کریں، تاکہ کسی بھی فریق کو انصاف کے عمل پر سوال اٹھانے کا موقع نہ ملے۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت کسی سیاسی جماعت کے خلاف محاذ آرائی کا نہیں، بلکہ اے ایم یو کے مفادات کے تحفظ کا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو محض انتظار، خاموشی یا رسمی بیانات کے بجائے عملی اور قانونی اقدامات کرنے چاہئیں۔ اگر کہیں انتظامی کوتاہی ہوئی ہے تو اس کی وضاحت ہونی چاہیے، اور اگر قانونی کارروائی کی گئی ہے تو اس کے شواہد بھی سامنے آنے چاہئیں۔ اے ایم یو جیسا تاریخی ادارہ ابہام، تضاد اور خاموشی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔سید کیف حسن نے کہا کہ اے ایم یو سے وابستہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر اپنا کردار ادا کرے۔ اختلاف رائے اپنی جگہ، لیکن ادارے کے مفاد کے معاملے میں تمام ممکنہ قانونی راستوں کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اے ایم یو انتظامیہ اپنی قانونی حکمت عملی واضح کرے، متعلقہ ریکارڈ عوام کے سامنے رکھے اور اس معاملے میں پوری قوت، شفافیت اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھے۔ کیونکہ خاموشی سے نہ زمین کے دعوے ختم ہوتے ہیں اور نہ ہی قانونی مسائل حل ہوتے ہیں؛ بعض اوقات خاموشی خود سب سے بڑا سوال بن جاتی ہے۔
ْْْْْْْْْْْْْْْ
اے ایم یو کی زمین کے معاملے میں منتخب نمائندوں کی خاموشی افسوس ناک ہے۔ مفتی محمد اکبر قاسمی، رکن ورکنگ کمیٹی، مغربی اتر پردیش

جمعیت علمائے ہندمغربی اتر پردیش کی ورکنگ کمیٹی کے رکن مفتی محمد اکبر قاسمی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی زمین کے معاملے میں جس طرح میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کارروائی اور دعوی سامنے آ رہا ہے، وہ نہایت تشویش ناک ہے۔ یہ صرف زمین کا معاملہ نہیں بلکہ علی گڑھ کی تاریخی شناخت، تعلیمی وراثت اور ایک عظیم ادارے کے مفادات سے جڑا ہوا معاملہ ہے،ایسے حساس وقت میں ہر ذمہ دار شہری اور خصوصا منتخب نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ حقائق کی بنیاد پر اپنی ذمہ داری ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ علی گڑھ میونسپل کارپوریشن میں سماجوادی پارٹی کے ۳۳ اور بی ایس پی کے ۲ کونسلر موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد مسلم سماج سے تعلق رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان منتخب نمائندوں نے اس معاملے پر اپنی آواز بلند کی؟ کیا انہوں نے میونسپل کمشنر یا میئر سے ملاقات کرکے اپنا موقف واضح کیا؟ کیا انہوں نے عوام کے درمیان جاکر اس معاملے کی حقیقت بتانے کی کوشش کی؟ اگر ایسا نہیں ہوا تو یہ انتہائی افسوس ناک صورت حال ہے۔ مفتی محمد اکبر قاسمی نے کہا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر جب کسی تاریخی تعلیمی ادارے کے مفادات کا سوال ہو تو خاموشی اختیار کرنا مناسب نہیں۔ عوام نے اپنے نمائندوں کو صرف ایوان میں بیٹھنے کے لیے منتخب نہیں کیا بلکہ اپنے مسائل اور حقوق کی آواز بلند کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔ اگر منتخب نمائندے ایسے اہم معاملے پر خاموش رہیں گے تو عوام ان سے ضرور سوال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاملے میں جذبات کے بجائے قانون، حقائق اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اے ایم یو کی زمین سے متعلق تمام حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں اور کسی بھی کارروائی سے پہلے قانونی اور آئینی تقاضوں کو مکمل طور پر ملحوظ رکھا جائے۔مفتی محمد اکبر قاسمی نے کہا کہ آج کی خاموشی کل آنے والی نسلوں کے سامنے جواب طلبی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے تمام منتخب نمائندوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری سمجھیں، متعلقہ حکام کے سامنے اپنا موقف رکھیں اور اس معاملے میں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے واضح اور موثر کردار ادا کریں۔
ْْْْْْْْْْْْْْْْ
اے ایم یو کی زمین کا معاملہ حل کرانے میں پروفیسر طارق منصور کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پروفیسر بصیر احمد خان، سینئر لیڈر ان ڈین یونین مسلم لیگ

اے ایم یو کی زمین کے معاملے میں جس طرح میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کارروائی اور دعوی سامنے آ رہا ہے، وہ نہایت تشویش ناک ہے۔ یہ معاملہ محض زمین کے ایک ٹکڑے کا نہیں بلکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخی شناخت، اس کے تعلیمی وقار اور اس کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے حساس وقت میں ہر وہ شخص جو اے ایم یو سے کسی بھی حیثیت سے وابستہ رہا ہے، اس ادارے کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری محسوس کرے، یہی وقت کا تقاضا ہے۔پروفیسر بصیر احمد خان نے علی گڑھ آمد پر نمائندہ انقلاب سے بات چیت کے دوران یہ بات کہی۔ واضح رہے کہ پروفیسر بصیر احمد خان اے ایم یو طلبہ یونین کے سابق صدر رہے ہیں، ساتھ ہی اگنو میں بطور پی وی سی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہیں ان کا شمار شمالی ہند میں مسلم لیگ کو حیات نو بخشنے والے سینئر لیڈروں میں ہوتا ہے ۔پروفیسر بصیر نے کہا کہ اے ایم یو کے لیے اس پورے معاملے میں ایک حوصلہ افزا اور نہایت اہم پہلو بھی موجود ہے۔ اے ایم یو کے سابق طالب علم، یونیورسٹی کے سابق استاد اور بعد میں اسی عظیم ادارے کے وائس چانسلر رہ چکے پروفیسر طارق منصور آج حکمراں جماعت بی جے پی کے قومی نائب صدر اور رکن قانون ساز کونسل ہیں اور علی گڑھ میں مقیم بھی ہیں۔ ان کا سیاسی اور انتظامی سطح پر جو اثر و رسوخ ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایسے میں اگر اے ایم یو کی زمین کا مسئلہ حل کرانے کے لیے انہیں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے تو یہ کوئی غیر معمولی یا ناممکن کام نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک سابق طالب علم اپنے مادر علمی کے لیے صرف چند رسمی جملے بھی نہ کہہ سکے تو پھر یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ عہدے، تعلق اور اثر و رسوخ آخر کس کام کے ہیں؟ آج پروفیسر طارق منصور کے پاس موقع بھی ہے، ذمہ داری بھی اور رسائی بھی۔ انہیں اس معاملے کو محض ایک مقامی تنازع سمجھنے کے بجائے سنجیدگی سے لینا چاہیے اور خود آگے بڑھ کر متعلقہ حکام سے بات کرنی چاہیے۔پروفیسر بصیر نے کہا کہ پروفیسر طارق منصور کو اتر پردیش کے وزیر اعلی اور وزیر اعظم سے ملاقات کرکے اے ایم یو کی زمین کے معاملے کی حقیقت ان کے سامنے رکھنی چاہیے اور قانونی و آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اس مسئلے کے حل کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں تو یہ صرف اے ایم یو کے لیے نہیں بلکہ ان کے اپنے مادر علمی سے تعلق کے اعتبار سے بھی ایک مثبت اور قابل احترام قدم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جانب اے ایم یو انتظامیہ کو بھی محض انتظار کرنے کے بجائے پہل کرنی چاہیے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو پروفیسر طارق منصور سے باقاعدہ رابطہ کرکے تمام دستاویزی شواہد ان کے سامنے رکھنے چاہئیں اور ان سے مسئلے کے حل میں تعاون طلب کرنا چاہیے۔ اختلاف رائے اپنی جگہ، لیکن جب معاملہ ادارے کے مفاد کا ہو تو تمام ممکنہ راستوں کو بروئے کار لانا دانش مندی ہے۔پروفیسر بصیر نے کہا کہ اس معاملے میں کسی سیاسی جماعت کے خلاف محاذ آرائی مقصد نہیں ہونی چاہیے۔ اصل مقصد حقائق، قانون اور دستاویزات کی بنیاد پر اے ایم یو کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست سے بالاتر ہوکر ذمہ دار افراد اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ خاموشی سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ بعض اوقات خاموشی ہی مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
