سابق طالب علم نے تقرری کے عمل پر اٹھائے سوال، اے ایم یو انتظامیہ کا ضابطوں کے مطابق انتخاب کا دعویٰ
رپورٹ: ایس۔ منیر
علی گڑھ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں تقرری کے معاملے کو لے کر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کے بیٹے علی فرحان گلریز کی شعبۂ قانون میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تقرری کو لے کر شکایت سامنے آئی ہے۔ شکایت کے بعد مرکزی وزارتِ تعلیم نے اے ایم یو انتظامیہ سے اس معاملے میں جواب طلب کیا ہے۔
فرحان گلریز کی تقرری ڈاکٹر بی آر امبیڈکر چیئر کے تحت اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ چیئر ڈاکٹر امبیڈکر کی زندگی اور افکار، سماجی انصاف، مساوات اور پسماندہ طبقات کے بااختیار بنانے سے متعلق تدریس اور تحقیق کے لیے قائم کی گئی ہے۔ تقرری پانچ سال یا چیئر کی مدت ختم ہونے تک، جو بھی پہلے ہو، کے لیے کی گئی ہے۔
تقرری سے متعلق خط 16 جولائی کو جاری کیا گیا، جبکہ سلیکشن کمیٹی کا اجلاس 24 جون کو ہوا تھا۔
سابق طالب علم نے تقرری کے عمل پر اٹھائے سوال
اے ایم یو کے سابق طالب علم اور وکیل سید کیف حسن نے 15 جولائی کو صدرِ جمہوریہ، مرکزی وزارتِ تعلیم اور یو جی سی کے سامنے تقرری کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایت درج کرائی تھی۔
شکایت میں وائس چانسلر کے اشتہار کی منظوری میں کردار، وزارتِ تعلیم اور یو جی سی کو پیشگی اطلاع دیے جانے اور تقرری کے عمل کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
شکایت کنندہ نے سلیکشن کمیٹی کی تشکیل پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر رواں سال ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس نہیں ہوا تو سلیکشن کمیٹی کے لیے دو بیرونی ماہرین کے نام کس اختیار کے تحت نامزد کیے گئے، اس کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔
قریبی رشتہ دار کی تقرری سے متعلق کیا ہیں ضابطے؟
شکایت کنندہ نے سال 2018 میں اس وقت کی وزارتِ انسانی وسائل کی ترقی کی جانب سے جاری رہنما اصولوں کا حوالہ دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر یا ادارے کے سربراہ کا کوئی قریبی رشتہ دار کسی عہدے کے لیے درخواست دیتا ہے تو اس رشتے کی پیشگی اطلاع دینا اور وائس چانسلر کو تقرری کے عمل سے خود کو الگ رکھنا ضروری ہے۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے معاملات میں صرف وائس چانسلر کا تقرری کے عمل سے الگ ہونا ہی کافی حفاظتی اقدام نہیں سمجھا جاتا، بلکہ متعلقہ وزارت کو پیشگی اطلاع دینے اور سلیکشن کمیٹی میں اضافی ماہرین کی شمولیت کی بھی بات کہی گئی ہے۔
اے ایم یو انتظامیہ نے کیا کہا؟
دوسری جانب اے ایم یو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر چیئر کے تحت اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری تمام قابلِ اطلاق ضابطوں اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق کی گئی ہے۔
یونیورسٹی کے مطابق یہ تقرری پانچ سال یا چیئر کی مدت تک، جو بھی پہلے ہو، عارضی بنیاد پر کی گئی ہے۔ اس عہدے کے اخراجات اور اسپانسرشپ حکومتِ ہند کی وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کی جانب سے ڈاکٹر امبیڈکر فاؤنڈیشن کے ذریعے کی جاتی ہے۔
اے ایم یو کا کہنا ہے کہ یہ چیئر وزارت اور یونیورسٹی کے درمیان ہوئے معاہدے کے تحت کام کرتی ہے اور وزارتِ تعلیم یا یو جی سی کے تحت آنے والے عام عہدوں سے الگ ہے۔
یونیورسٹی کے مطابق انتخاب پرو وائس چانسلر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی سلیکشن کمیٹی نے کیا، جس میں ڈاکٹر امبیڈکر فاؤنڈیشن کی جانب سے نامزد ماہر بھی شامل تھے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وائس چانسلر نے تقرری کے پورے عمل سے خود کو الگ رکھا اور ان کا اس عمل میں کوئی کردار نہیں تھا۔
کارروائی نہ ہونے پر عدالت جانے کی وارننگ
شکایت کنندہ وکیل سید کیف حسن کا کہنا ہے کہ اگر معاملے میں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی جاتی تو وہ عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔
اب وزارتِ تعلیم کی جانب سے مانگے گئے جواب کے بعد یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اے ایم یو انتظامیہ تقرری کے عمل، سلیکشن کمیٹی کی تشکیل اور متعلقہ ضابطوں کے حوالے سے کیا وضاحت پیش کرتی ہے۔
