لکھنؤ۔ انڈین یونین مسلم لیگ اتر پردیش کے صدر ڈاکٹر محمد متین خان نے ریاست کے 558 امدادیافتہ مدارس کی مبینہ اینٹی کرپشن جانچ پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مدارس کو بدنام کرنے اور انہیں بند کرنے کی سمت میں اٹھایا گیا ایک تشویشناک قدم قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر متین خان نے کہا کہ اگر کسی مخصوص مدرسے یا فرد کے خلاف شکایت موصول ہوتی ہے تو قانون کے مطابق غیر جانب دارانہ جانچ ہونی چاہیے، لیکن تمام امدادیافتہ مدارس کو شک کے دائرے میں کھڑا کرنا قابل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اگر بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے تو جانچ کا دائرہ یکساں ہونا چاہیے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری، طلبہ کی تعداد، عمارتوں، وسائل، تقرریوں اور سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق معاملات کی بھی اسی شفافیت اور سنجیدگی کے ساتھ جانچ ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر متین خان نے الزام عائد کیا کہ مدارس کو نشانہ بنا کر عوام کی توجہ دیگر حقیقی مسائل اور سرکاری محکموں میں موجود مبینہ بے ضابطگیوں سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ادارے میں کسی فرد کی سطح پر مالی یا انتظامی بے ضابطگی سامنے آتی ہے تو متعلقہ شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، لیکن پورے مدرسہ تعلیمی نظام کو بدنام کرنا مناسب نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ امدادیافتہ مدارس طویل عرصے سے ہزاروں بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں اور ان میں بڑی تعداد میں اساتذہ و ملازمین اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کسی بھی مدرسے یا اس کے انتظام کے خلاف کارروائی سے قبل ٹھوس شواہد اور مناسب قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر محمد متین خان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مدارس کی جانچ غیر جانب دارانہ، شفاف اور قانون کے دائرے میں کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انڈین یونین مسلم لیگ بدعنوانی کے خلاف ہے اور کسی بھی ادارے میں بدعنوانی یا مالی بے ضابطگی کی حمایت نہیں کرتی، تاہم بدعنوانی کے نام پر مدارس کو بدنام کرنے یا خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کی جمہوری اور قانونی طریقے سے مخالفت کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت واقعی تعلیمی نظام میں بہتری چاہتی ہے تو مدارس کے ساتھ ساتھ بنیادی، ثانوی اور دیگر سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی یکساں معیار کے تحت جامع اور غیر جانب دارانہ جانچ کرائی جانی چاہیے۔
