ڈاکٹر محمد شاہد صدیقی ( علیگ)
witness.alig@gmail.com
جس پل کا انتظار تھا آخر وہ گھڑی آہی گئی کیونکہ جس طرح بابری مسجد کے بعد شرپسندوں کے حوصلے سا تو ے آسمان پر ہیں۔گیان واپی مسجد ، متھر ا کی شاہی عید گاہ اور بدایوں کی جامع مسجد کو کورٹ میں گھےسٹا جاچکا ہے ۔ اس کے علاوہ متعدد مساجد ،درگاہوں اور قبرستانوں کو مسما ر کرکے مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔حال ہی میں سہارنپور کلکٹریٹ میں شہید جامع مسجد اس کی تازہ مثال ہے اور اس فہرست کو ہر ممکنہ طریقوں سے طویل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ عنقریب اتر پردیش میں صوبائی انتخابات ہونا متوقع ہے۔
ہمارے ملک کا عدالتی نظام ایسا ہے کہ عوام کو عدالتیں کچھوے کی چال چلتی ہوئی نظر آتی ہیں اور بیشتر مقدمات میں فریقین کو تاریخ پہ تاریخ کی صدا ئیں زیادہ سننے کو ملتی ہیں ، لیکن حالات نے ایسی کروٹ بدلی کہ ملک کی عدالتیں خرگوش کی چال تو چھوڑئیے راکٹ کی رفتار سے بھی زیادہ تیز فیصلے دے رہی ہیں ،مگر زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ فیصلے جب ہی نافذ ہوتے ہیں جب ان کا تعلق ملک کی سب سے بڑی سیاسی یتیم اقلیت یعنی مسلمانوں کے تشخص یا ان کے دینی جذباتی مسائل سے ہو۔ جن کے ذریعہ تقطیب(پولرائز یشن) کرکے ان سے سیاسی فائدہ اٹھا یا جاسکے، ورنہ عدالتی سمتوں سے آنے والی باد صبح اور بادنسیم میں رتّی بھر بھی فرق نہیں آیا ہے ۔ اگرکسی فرد کے دل میں رائی کے برابر بھی اسلام کے تئیں نفرت ہے اور وہ بابر کا بدلہ عبد ل سے لینا چاہتا ہے تو یہ وقت اس کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور مناسب ہے ، اسے مایوسی نہیں ملے گی ۔ اسی ضمن میں میرٹھ کے ایک وکیل راج کمار شرما اٹھے اور انہوں نے میرٹھ کمشنرو ضلع مجسٹریٹ کو خط لکھ کر شعبہ آثار قدیمہ سے مسجد کی جانچ کرانے کی گزارش کی ۔ان کا دعویٰ ہے کہ میرٹھ کی تاریخی جامع مسجد سمراٹ اشوک کے دور حکومت کے ایک بودھ وہار کو توڑ کربنائی گئی ہے۔

دراصل یہ شوشہ میرٹھ کالج کے شعبہ تاریخ کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر کے ۔ڈی ۔شرما کے تنگ نظر دماغ کی دین ہے جنہوں نے متعدد مرتبہ اپنی کج نظر ی کا مظاہر ہ کیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ مذکورہ وکیل صاحب بھی ان کے خیالات سے بے حد متاثر ہیں۔جنہوں نے انتظامیہ کے سامنے گہار لگائی ۔وقت کے پہیہ کو پانچ ہزار سال پیچھے لے جانے کے پیرو کاروں کا کہنا ہے کہ یہ شاہی جامع مسجد محمود غزنوی نے بودھ وہارکو منہدم کرکے تعمیر کرائی تھی اور اس کے پختہ ثبوت ان کے پاس موجو د ہیں نیز وہ میرٹھ گزٹیر کا بھی حوالہ دے رہیں۔ اب اگر بات کریں گزٹیر زکی تو وہ پہلی ملک گیر جنگ آزادی 1857ءکی ناکامی کے بعد مر تب کیے گئے ہیں۔ جنہیں عیار انگریزوں نے پھوٹ ڈالو راج کرو کے آلہ کے طور پر بخوبی استعمال کیا ہے،بعدازاں انگریز وں کے چیلوں نے بھی ان کے توسط سےکتنی ہی تاریخی وراثتوں کو متنازعہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے جن کو کسی بھی صورت میں قابل اعتماد نہیں سمجھا سکتا ہے ۔ جہاں تک پروفیسر موصوف کی شخصیت اور تحقیقی ایماندارانہ کاوشوں کی بات ہے تو مذکورہ پروفیسر اور ان کے معاونین کی مرتب کردہ ا یک کتاب ’سانجھی شہادت کے کچھ پھول‘ راقم کے زیر مطالعہ رہی ہے۔ جس میں مو صوف کے متعدد مضامین شامل ہیں۔ جس میں ایک مضمون ’رانگڑ ،بنجارے،گوجراور غدر‘ہے جو ضلع سہارنپور سے متعلق ہے۔جس میں انہوں نے سہارنپور ضلع کے انقلابی روح رواں شہید کوتوال کا بار بار تذکرہ کیا ہے۔ جن کو انبالہ میں آناً فاناً میں پھانسی دے دی گئی تھی ، لیکن اس عظیم شہید مجاہد آزادی کا نام ایک بار بھی ان کی نوک ِقلم کے نیچے نہیں آیا کیونکہ اس کوتوال کا نام علیم اللہ خاں تھا۔ اب اسے دیکھ کر کوئی بھی شخص مسلمانوں کے تئیں ان کے دلی جذبات کو سمجھ سکتا ہے اور خود فیصلہ کرسکتا ہے کہ ان کا دعویٰ کتنا مستند ہوسکتا ہے ۔

انقلا بی شہر میرٹھ کی تاریخی جامع مسجد کی تعمیر بعض افراد کے قیاس آرائیوں کے مطابق سلطا ن محمود غزنوی کے وزیر حسن مہندی کے ذریعہ 1019ءمیں کی گئی ہے، جبکہ مسجد میں کتبہ پرکندہ کے مطابق اسے شمس الدین التمش کے نیک صالح فرزند سلطان ناصر الدین محمود نے تقریباً 1249 ءمطابق 0647ھ میں تعمیر کرائی تھی۔در حقیقت سلطان محمود غزنوی نے کبھی میرٹھ میں قد م ہی نہیں رکھابلکہ یہ شاہی جامع مسجد محمود غزنوی کے 200سال بعد تعمیر ہوئی تھی۔
بہرکیف وسلم بریلوی کہتے ہیں :
فیصلہ لکھا ہوا رکھا ہے پہلے سے خلاف
آپ کیا خاک عدالت میں صفائی دیں گے
