کمزور شواہد اور مقدمے کی سماعت میں تاخیر کو عدالت نے بنایا بنیاد، جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی قانونی پیروی
نئی دہلی:
داعش سے مبینہ روابط اور دہشت گردی کے الزامات سے متعلق ایک مقدمے میں گرفتار ہاپوڑ کے محمد ثاقب کو تقریباً آٹھ سال بعد دہلی ہائی کورٹ نے سخت شرائط کے ساتھ ضمانت منظور کر دی۔ محمد ثاقب کو 26 دسمبر 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مقدمے کی قانونی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے کی جا رہی تھی۔
دہلی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ، جسٹس نوین چاؤلہ اور جسٹس رویندر دودیجا پر مشتمل، نے ضمانت منظور کرتے ہوئے مقدمے میں موجود شواہد اور ٹرائل میں ہونے والی طویل تاخیر کا جائزہ لیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم کے خلاف پولیس اور مجسٹریٹ کے سامنے بیان دینے والے گواہوں کی گواہیاں مکمل ہو چکی ہیں، تاہم یہ شواہد اس مرحلے پر اتنے مضبوط نہیں ہیں کہ ملزم کو مزید طویل عرصے تک حراست میں رکھا جائے۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ گزشتہ تقریباً دس برس کے دوران استغاثہ کی جانب سے 120 سرکاری گواہوں میں سے صرف 40 گواہوں کو عدالت کے سامنے پیش کیا جا سکا ہے۔ عدالت کے مطابق اگر مقدمے کی سماعت اسی رفتار سے جاری رہی تو مستقبل قریب میں ٹرائل مکمل ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
محمد ثاقب کی جانب سے ایڈووکیٹ صارم نوید اور ان کے معاون وکلاء نے ضمانت کی عرضداشت پر بحث کی۔ دورانِ سماعت دفاع کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ این آئی اے کی جانب سے عائد الزامات کی بنیاد کمزور ہے۔ وکیل کے مطابق چارج شیٹ میں محمد ثاقب کے کشمیر جانے کا ذکر تو ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ کشمیر کیوں گئے تھے اور وہاں ان کی کن افراد سے ملاقات ہوئی تھی۔
دفاعی وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ دہلی ہائی کورٹ میں ضمانت کی عرضداشت پر تقریباً دو سال تک سماعت جاری رہی، لیکن اس دوران ٹرائل کورٹ میں مقدمے کی کارروائی مکمل نہیں ہو سکی۔ دفاع کی جانب سے سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے مقدمے کی سماعت میں غیر معمولی تاخیر کو بھی ضمانت کی بنیاد بنانے کی درخواست کی گئی۔
یہ مقدمہ ’’امروہہ-دہلی داعش ماڈیول‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس مقدمے کا سامنا کرنے والے دیگر ملزمان میں سے اب تک کسی کو ضمانت نہیں ملی تھی، اور محمد ثاقب اس مقدمے میں ضمانت پر رہا ہونے والے پہلے ملزم ہیں۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے مطابق اس ضمانت کے بعد مقدمے کے دیگر ملزمان کے لیے بھی قانونی طور پر ضمانت کی درخواستوں کی راہ ہموار ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر اس مقدمے کا سامنا کرنے والے 10 ملزمان کے مقدمات کی ٹرائل کورٹ میں قانونی پیروی کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ ضمانت ملنے کا مطلب الزامات سے بری ہونا نہیں ہے؛ مقدمے کی سماعت اور قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
