اردو کے مزاج میں ہندوستان کی روح شامل ہے:ڈاکٹر محمد شمس اقبال
اردو کی کہاوتیں اور تلمیحات ہندوستانی تہذیب کی بہترین نمائندگی کرتی ہیں:محمد نسیم الدین فریس
قومی اردو کونسل اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے باہمی اشتراک سے ’’اردو اور دیگر ہندوستانی زبانیں: لسانی، ادبی و ثقافتی روابط‘‘ کے موضوع پر دو روزہ قومی سمینار کا انعقاد
حیدرآباد/نئی دہلی: سی پی ڈی یو ایم ٹی آڈیٹوریم، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، بہ اشتراک مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد، دو روزہ قومی سمینار بعنوان ’’اردو اور دیگر ہندوستانی زبانیں: لسانی، ادبی و ثقافتی روابط‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس کے پہلے دن افتتاحی اجلاس کے علاوہ تین تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر سید عین الحسن (وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد) نے کی۔ اس اجلاس کے دیگر شرکا میں پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد (رجسٹرار، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد)، ڈاکٹر محمد شمس اقبال (ڈائرکٹر، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی)، پروفیسر گلفشاں حبیب (ڈین، اسکول آف لینگویجز، لنگوسٹکس اینڈ انڈولوجی، مانو، حیدرآباد)، پروفیسر محمد نسیم الدین فریس (سابق ڈین، اسکول آف لینگویجز، لنگوسٹکس اینڈ انڈولوجی، مانو، حیدرآباد) اور ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک)، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، شامل رہے۔
صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر سید عین الحسن نے کہا کہ قومی اردو کونسل اور مانو کا امتزاج فطری امتزاج ہے، جس کی کوششوں میں زبان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ زبان اگر اپنی شناخت باقی رکھتی ہے تو یہ زندگی کے کسی بھی میدان میں ماند نہیں پڑتی۔ زبان اپنا راستہ خود بناتی ہے، جس کا خوب صورت سلسلہ شاعری سے شروع ہوتا ہے۔ زبان بولے جانے کے ساتھ ساتھ خاموشی کے ساتھ بھی اپنا گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ انھوں نے اردو زبان سے پیدا ہونے والی کیفیات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اردو میں یہ کیفیات دوسری زبانوں سے اختلاط اور میل جول سے ہی پیدا ہوئی ہیں۔
مہمانِ اعزازی پروفیسر اشتیاق احمد نے سمینار کے موضوع کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ہی وسیع اور متنوع موضوع ہے، جس پر کافی علمی اور بامعنی گفتگو ہو سکتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ ماہرین اپنے مقالات میں اس پر بہتر انداز میں روشنی ڈالیں گے۔
افتتاحی کلمات میں ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے سمینار کے موضوع کی معنویت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا یہ سمینار ایسی جگہ، یعنی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں منعقد ہو رہا ہے، جو اردو کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ قومی اردو کونسل نے زبان کے حوالے سے جو سمینار منعقد کیے یا کر رہی ہے، ان میں کونسل کی یہ کوشش رہی ہے کہ زبان کے ذریعے ہندوستان کی تکثیریت پر بھرپور گفتگو ہو اور زبان کی خوب صورتی کے ساتھ اس کی مختلف خوبیوں کو بھی واضح کیا جا سکے۔ قومی اردو کونسل نے اسی مقصد کے پیش نظر گزشتہ ڈھائی برسوں میں دو عالمی کانفرنسوں کے ساتھ ملک کے الگ الگ خطوں میں اردو اور دیگر ہندوستانی زبانوں کے تہذیبی، ثقافتی اور لسانی پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے سمینارز اور پینل ڈسکشن منعقد کیے ہیں۔ یہ سمینار بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اردو کے مزاج میں ہندوستانیت شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دوسری زبانوں سے جوڑ کر دیکھنے سے ہندوستانی کے تکثیری سماج کی حقیقی تصویر سامنے آتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مانو اور قومی کونسل مل کر مستقبل کے ہندوستان کی تعمیر میں اس زبان کے ذریعے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور ’وکست بھارت 2047‘ کے وژن کو عملی طور پر مضبوطی عطا کرنے میں اس کا رول کلیدی ہو سکتا ہے۔
استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے پروفیسر گلفشاں حبیب نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا اور اس دو روزہ سمینار کے مقاصد پر بھی روشنی ڈالی۔
کلیدی خطبے میں پروفیسر محمد نسیم الدین فریس نے اردو کی لسانی، ادبی اور تہذیبی روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے تینوں کے تاریخی تناظر اور عملی جہت کو واضح کیا اور کہا کہ زبانوں کے باہمی اختلاط سے اخذ و قبول کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، جس کے گہرے اثرات ایک دوسرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ سنسکرت اور تَدبھَو کے بغیر اردو کے جملے لکھنا محال ہے، اس لیے کہ اس کا بنیادی ڈھانچہ ہند آریائی ہے۔ اردو نے مختلف علاقوں کی بولیوں سے بھی کافی استفادہ کیا ہے۔ اس حوالے سے یہ بہت ہی سیال زبان رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی بہت سی کہاوتیں، محاورے اور تلمیحات ایسی ہیں جو ہندوستانی تہذیب کی بہترین نمائندگی کرتی ہیں۔ انھوں نے اردو کی مختلف شعری اصناف سے اس کی بہت سی مثالیں بھی پیش کیں۔ ساتھ ہی اس ضمن میں ترجمے کی اہمیت اور اس کے کردار پر بھی گفتگو کی۔ آخر میں ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔
افتتاحی اجلاس کی نظامت کے فرائض پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی (ڈائرکٹر، سی پی ڈی یو ایم ٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد) نے انجام دیے۔
پہلے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر رحمت یوسف زئی اور پروفیسر رشبھ دیو شرما نے کی۔ اس تکنیکی اجلاس میں پروفیسر شہاب ظفر اعظمی، پروفیسر محمد جہانگیر وارثی، پروفیسر نکہت جہاں، پروفیسر مشتاق عالم قادری اور جناب وقار قادری نے اپنے مقالات پیش کیے۔ اس اجلاس میں نظامت کے فرائض محترمہ نہاں رباب نے انجام دیے۔
دوسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر محمد جہانگیر وارثی اور پروفیسر سید سجاد حسین نے کی۔ اس اجلاس میں پروفیسر سید محمود کاظمی، پروفیسر احمد خان، جناب مکرم نیاز، ڈاکٹر طلحہ عرفان اور ڈاکٹر رمیشہ قمر نے اپنے مقالات پیش کیے۔ اس تکنیکی اجلاس میں نظامت کے فرائض جناب محمد فرقان عالم نے انجام دیے۔
تیسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر صدیقی محمود اور پروفیسر وبھا شرما نے کی۔ اس اجلاس میں پروفیسر عزیز بانو، پروفیسر سید شجاعت علی، پروفیسر فیروز عالم اور ڈاکٹر صابر علی سیوانی نے اپنے مقالات پیش کیے۔ اس تکنیکی اجلاس کی نظامت کے فرائض محترمہ عصمت فاطمہ نے انجام دیے۔
آخر میں مانو ڈراما کلب کی ٹیم نے ’’رستم و سہراب‘‘ کے عنوان سے ڈراما پیش کیا۔
