آگرہ _ مسجد نہر والی کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبہ جمعہ میں نمازیوں کو آج کے ماحول میں فیک ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کے تعلق سے قرآن اور حدیث کے احکامات پر بات کی ، انہوں نے کہا کہ آج کا سب سے بڑا فتنہ یہ ہی ہے ، کہ فیک ویڈیو اور جھوٹ کو سچ ثابت کر کےسماج میں مشکلیں پیدا کی جا رہی ہیں ، اور اس کام میں اے آ ئی سے مدد لی جاتی ہے ، ہمیں اس کا حصہ نہیں بننا چاہیے ، قرآن کریم ہماری رہنمائی اس طرح کرتا ہے ” اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تحقیق کرلیا کرو” (الحجرات: 6) یعنی کوئی کچھ بھی بول دے یا لکھ دے یا ویڈیو ریکارڈنگ شیر کردے ہم بغیر سوچے سمجھے اس کو آگے بڑھا دیتے ہیں ، تم میں سے جو برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے ، فیک ویڈیو کو ڈیلیٹ کرنا آگے نہ بھیجنا یہی ہاتھ سے برا ئی کو روکنا ہے ، ” بندہ ایک بات کہتا ہے اسے معمولی سمجھتا ہے لیکن اس کی وجہ سے 70 سال تک جہنم میں گرتا چلا جاتا ہے ” ( ترمذی: 2314) آج کے دور میں وہ ایک بات ایک ویڈیو ہے ، جو پورے سماج میں فتنہ پھلادیتی ہے ، یہ غوروفکر کرنے کی بات ہے ، ” ہر سنی سنائی بات کو آگے بڑھانا ہی انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے ” (صحیح مسلم) اس لیے کسی بھی ویڈیو کو یک دم فارورڈ کرنا درست نہیں ، اے آئی سے بنائی گئی ویڈیو الگ سے معلوم ہوجاتی ہے آپ کسی جان کار سے معلوم کرسکتے ہیں وہ آپ کو بتادے گا کہ یہ اے آ ئی سے بنائی گئی ویڈیو ہے ، میرے بھائیو آج ہم ایسے فتنے میں جی رہے ہیں جو پہلے نہیں تھا پہلے جھوٹ زبان سے نکلتا تھا چند لوگوں تک پہنچتا تھا آج ایک فیک ویڈیو دس منٹ میں دس ہزار لوگوں تک پہنچ جاتی ہے ، یہ فیک ویڈیو پورے شہر کا امن خراب کردیتی ہے ، ” اس دن سے ڈرو جب تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے ” ( البقرہ: 281) آج تمہارے پاس قلم ہے ، زبان ہے ، کیمرے کے ذریعے کسی کی بھی عزت اچھالتے ہو کل اللہ تمارا حساب لے گا ، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اس فتنے کے دور میں کوئی ویڈیو آجائے تو اپنے تک رکھیں یا ڈیلیٹ کردیں ، ایسی ویڈیو جسے آب سمجتے ہوں کہ اس میں کوئی نقصان نہیں ہے تو اس کو شیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ، افسوس کہ اے آ ئی جیسی ٹکنیک کا غلط استعمال کیا جارہا ہے کاش اس کا استعمال پوزیٹو کریں تو ایک بہترین مددگار ثابت ہوگا ، اللہ ہمیں صحیح سوجھ بوجھ عطا فرمائے آمین یارب العالمین _
