رپورٹ شوذب منیر
طلبہ کی جدوجہد کامیاب، یاسر فہد کی بھوک ہڑتال ختم جائز مطالبات تسلیم کرنے میں تاخیر پر انتظامیہ کے رویے پر سوالات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ کے مسلسل ۱۹ ؍روزہ احتجاج کے بعد بالآخر انتظامیہ کو ان کے مطالبات تسلیم کرنے پڑے۔ طلبہ کے دباؤ کے سامنے انتظامیہ نے نہ صرف تعلیمی سیشن۲۷۔ ۲۰۲۶ کے لیے طلبہ یونین کے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیا، بلکہ پراکٹر کی تبدیلی کا مطالبہ بھی مان لیا۔ طلبہ یونین کے انتخابات ۵ ؍نومبر کو ہوں گے۔ اس پیش رفت کو احتجاج کرنے والے طلبہ کی اہم کامیابی قرار دیا جارہا ہے، تاہم یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جن مطالبات کو آخرکار تسلیم کرلیا گیا، انہیں ماننے کے لیے انتظامیہ کو ۱۹ روز تک جاری رہنے والے احتجاج کا انتظار کیوں کرنا پڑا؟
اعلان کردہ شیڈول کے مطابق متعلقہ ڈین صاحبان ۲۶ ؍اکتوبر کو صبح ۱۰ ؍بجے ووٹر فہرستیں آویزاں کریں گے۔ ان فہرستوں میں تصحیح کے لیے درخواستیں ۲۷ ؍اکتوبر کو دوپہر ۲ ؍بجے تک جمع کرائی جاسکیں گی، جبکہ اسی روز شام ۴ ؍بجے حتمی ووٹر فہرستیں جاری کردی جائیں گی۔ امیدوار ۲۹ ؍اکتوبر کو صبح ۱۰ ؍بجے سے دوپہر ایک بجے تک طلبہ یونین کے دفتر میں اپنے کاغذات نامزدگی جمع کراسکیں گے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اسی روز شام ۴ ؍بجے ہوگی۔امیدوار ۳۰ ؍اکتوبر کو صبح ۱۰ بجے سے دوپہر ایک بجے تک اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے، جبکہ درست قرار دیے گئے امید واروں کی فہرست اسی روز شام ۴ بجے جاری کی جائے گی۔ ۳۱ اکتوبر کو صبح ۱۰ بجے امیدواروں کو سیریل نمبر الاٹ کیے جائیں گے اور ان نمبروں کے ساتھ حتمی فہرست شام ۴ ؍بجے شائع کی جائے گی۔ امیدواروں کی حتمی تقاریر ۳ ؍نومبر کو دوپہر ۲ ؍بجے سے یونین ہال میں ہوں گی۔
ووٹنگ ۵ نومبر کو متعلقہ فیکلٹیوں میں صبح ۹ ؍بجے سے شام ۵ ؍بجے تک ہوگی۔ اس دوران دوپہر ایک بجے سے ۲ ؍بجے تک کھانے کا وقفہ رہے گا۔ ووٹوں کی گنتی شام ۷ بجے شروع ہوگی اور نتائج کے اعلان تک جاری رہے گی۔ ووٹوں کی گنتی کے مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ انتخابات کے انعقاد کے لیے شعبہ قانون کے پروفیسر جاوید طالب کو چیف الیکشن افسر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ویمنس کالج کے شعبہ انگریزی کی پروفیسر نازیہ حسن کو ویمنس کالج کی انڈرگریجویٹ طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے چیف الیکشن افسر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
اے ایم یو میں طلبہ کا ۱۹ ؍روز سے جاری احتجاج جمعہ، ۹ ؍اکتوبر کو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تمام مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ختم ہوگیا۔ احتجاج میں پوسٹ گریجویٹ طالب علم یاسر فہد کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال بھی شامل تھی۔ طلبہ کے اہم مطالبات میں طلبہ یونین کے انتخابات کرانے اور پراکٹر کو تبدیل کرنے کا مطالبہ شامل تھا۔ انتظامیہ کی جانب سے ان مطالبات کو تسلیم کیے جانے کے بعد احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس طرح طویل جدوجہد کے بعد طلبہ اپنے اہم مطالبات منوانے میں کامیاب رہے۔
وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے احتجاجی مقام کا دورہ کیا، طلبہ سے ملاقات کی اور یاسر فہد کو جوس پلا کر ان کی بھوک ہڑتال ختم کرائی۔ اس موقع پر انہوں نے طلبہ کے پرامن اور جمہوری طرز عمل کو سراہا اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے یونیورسٹی کے عزم کا اعادہ کیا۔ پروفیسر نعیمہ خاتون نے طلبہ سے کہا کہ ان کا احتجاج جمہوری، پرامن اور اصولوں پر مبنی تھا اور اسی کے نتیجے میں کامیابی حاصل ہوئی، تا ہم، اس کامیابی نے یونیورسٹی انتظامیہ کے طرز عمل پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ طلبہ یونین کے انتخابات کا انعقاد اور پراکٹر کی تبدیلی ایسے مطالبات تھے جنہیں بالآخر انتظامیہ نے تسلیم کرلیا، لیکن ان کے حل کے لیے طلبہ کو ۱۹ ؍روز تک احتجاج کرنا پڑا۔ اس دوران یاسر فہد نے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال بھی کی۔ سوال یہ ہے کہ اگر طلبہ کے مطالبات جائز اور قابل قبول تھے تو انتظامیہ نے انہیں بروقت تسلیم کرکے معاملہ حل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ کیا طلبہ کی آواز سننے کے لیے احتجاج اور بھوک ہڑتال ناگزیر تھے؟ انتظامیہ کے اس رویے نے طلبہ اور یونیورسٹی کے درمیان اعتماد کے تعلق پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
طلبہ کے دو اہم مطالبات، یعنی اے ایم یو طلبہ یونین کے انتخابات کا اعلان اور پراکٹر کی تبدیلی، انتظامیہ نے تسلیم کرلیے ہیں۔ شعبہ سیاسیات کے پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری کو یونیورسٹی کا نیا پراکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے پروفیسر محمد نوید خان کی جگہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔ طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے پروفیسر جاوید طالب کو چیف الیکشن افسر مقرر کرنے کے ساتھ ویمنس کالج کی انڈرگریجویٹ طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے پروفیسر نازیہ حسن کو بھی چیف الیکشن افسر نامزد کیا گیا ہے۔
یاسر فہد اور دیگر احتجاجی طلبہ نے مسئلے کے حل پر اطمینان کا اظہار کیا۔ احتجاج ختم ہونے کے بعد طلبہ نے دھرنے کا مقام رضاکارانہ طور پر خالی کردیا۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان ، رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر، ڈی ایس ڈبلیو پروفیسر اطہر انصاری، پراکٹر پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری، کنٹرولر امتحانات پروفیسر مجیب اللہ زبیری، وائس چانسلر کے او ایس ڈی پروفیسر اصفر علی خان، الیکشن افسر پروفیسر جاوید طالب، کلچرل ایجوکیشن سینٹر (سی ای سی) کے کوآرڈینیٹر پروفیسر ایم رضوان خان، او ایس ڈی سلیکشن کمیٹی پروفیسر سروش عمر، دفتر رابطہ عامہ کی ممبر انچارج پروفیسر وبھا شرما، شعبہ لسانیات کے چیئرپرسن پروفیسر ایم جے وارثی، فنانس افسر نورالسلام، یونیورسٹی کے دیگر عہدیداران اور اساتذہ بڑی تعداد میں موجود تھے۔
احتجاج کا خاتمہ اور طلبہ یونین کے انتخابات کا اعلان یونیورسٹی کیمپس میں معمولات کی بحالی کی راہ ہموار کرتا ہے، طلبہ کی کامیابی اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے جائز مطالبات کو نظرانداز کرنے کے بجائے بات چیت اور بروقت فیصلوں کے ذریعے حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ طلبہ یونین جیسے نمائندہ ادارے کی اہمیت بھی اسی سے واضح ہوتی ہے۔ اب انتظامیہ کے سامنے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ انتخابات کو مقررہ شیڈول کے مطابق شفاف انداز میں منعقد کرائے اور آئندہ ایسے حالات پیدا نہ ہونے دے جن میں طلبہ کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے طویل احتجاج اور بھوک ہڑتال کا راستہ اختیار کرنا پڑے۔
