کیاپروفیسر نفیس انصاری پر ہراسانی اور اے پی آئی اسکور سے متعلق الزامات، انتظامیہ کی جانب سے وضاحت کا انتظار
رپورٹ۔ شوذب منیر
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نئے پراکٹر پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری کی تقرری کے بعد انتظامی تقرریوں کے معیار اور شکایات کے ازالے کے طریقہ کار پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ اس سے پہلے سابق پراکٹر پروفیسر نوید خان کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج ہونے کی بات سامنے آئی تھی، اس کے باوجود انہیں اس اہم عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔ اب نئے پراکٹر کے حوالے سے سامنے آنے والے الزامات کے تناظر میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ اہم عہدوں پر تقرری سے پہلے متعلقہ شکایات اور ریکارڈ کا کس حد تک جائزہ لیتی ہے۔
پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری پر فرقہ وارانہ بنیاد پر ہراساں کیے جانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس معاملے میں سنٹرل ویجلنس کمیشن (سی وی سی) سے شکایت کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم شکایت کی موجودہ حیثیت، الزامات کی تصدیق اور متعلقہ اداروں کی جانب سے کسی کارروائی کے بارے میں باضابطہ معلومات دستیاب ہونا ضروری ہے۔ ان الزامات کو تحقیقات یا متعلقہ ریکارڈ کی تصدیق کے بغیر ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پروفیسر رچنا کوشل کے مطابق، انہوں نے ۲۲ ستمبر ۲۰۲۵ کو پروفیسر نفیس انصاری کے خلاف فرقہ وارانہ بنیاد پر ہراساں کیے جانے کی شکایت درج کرائی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شکایت کے ساتھ ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی جمع کرائی گئی تھی، جس میں ان کے بقول پروفیسر نفیس انصاری ہندو اساتذہ کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ پروفیسر رچنا کوشل نے یہ الزام بھی لگایا کہ پروفیسر نفیس انصاری نے اپنا اے پی آئی اسکور مبینہ طور پر دھوکہ دہی سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بنیاد پر وہ ان کی تقرری کو غیر قانونی سمجھتی ہیں۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ دستاویزات کا جائزہ ضروری ہے۔
پروفیسر رچنا کوشل نے مزید الزام لگایا ہے کہ پروفیسر محمد نفیس احمد انصاری کے چیئرپرسن رہنے کے دوران انہیں ہراساں کیا گیا اور ان کی سینیارٹی متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق، انہوں نے اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو متعدد ثبوت بھی پیش کیے، لیکن ان کی شکایت ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہے اور وائس چانسلر کی جانب سے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ان الزامات اور شکایت کی موجودہ صورت حال کی تصدیق کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف اور متعلقہ ریکارڈ اہم ہوگا۔
معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ شکایت کی موجودگی میں انتظامیہ نے اب تک کیا کارروائی کی ہے ۔ کیا پروفیسر رچنا کوشل کی شکایت اور ان کی جانب سے پیش کیے گئے مبینہ ثبوتوں کا جائزہ لیا گیا؟ اگر شکایت زیر التوا ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟ ان سوالات کا جواب متعلقہ حکام ہی دے سکتے ہیں۔ کسی شخص کے خلاف الزام لگنے سے وہ قصوروار ثابت نہیں ہوجاتا، اسی طرح شکایت کی جانچ کے بغیر اسے بے بنیاد قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ اس لیے غیر جانب دارانہ تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ ضروری ہے۔
اے ایم یو میں پراکٹر کا عہدہ کیمپس میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور طلبہ و اساتذہ کے درمیان اعتماد قائم رکھنے کے حوالے سے اہم ہے۔ اس منصب پر فائز شخص کے فیصلوں میں غیر جانب داری اور شفافیت پر اعتماد ہونا ضروری ہے۔ نئے پراکٹر کی تقرری کے بعد الزامات سامنے آنے کے باعث انتظامیہ سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ متعلقہ شکایات کی حیثیت اور تقرری کے طریقہ کار کے بارے میں وضاحت کرے، تاکہ غیر مصدقہ دعووں اور قیاس آرائیوں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر معاملے کو سمجھا جا سکے۔
وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ سے بنیادی سوالات یہ ہیں کہ کیا پروفیسر رچنا کوشل کی شکایت پر کوئی کارروائی کی گئی؟ اگر شکایت اب بھی زیر التوا ہے تو تاخیر کی وجہ کیا ہے؟ کیا اے پی آئی اسکور سے متعلق الزام کی جانچ ہوئی اور پراکٹر کی تقرری سے پہلے متعلقہ شکایات اور ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا؟ ان سوالات پر انتظامیہ کا واضح موقف سامنے آنے سے معاملے کی صورت حال بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔
نئے پراکٹر کی تقرری کے بعد سامنے آنے والے سوالات کے پیش نظر یونیورسٹی انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ شکایات کی جانچ اور تقرری کے طریقہ کار سے متعلق شفافیت یقینی بنائے۔ اگر شکایات میں کوئی حقیقت پائی جاتی ہے تو ضابطے کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ الزامات ثابت نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ شخص کی ساکھ کو غیر ضروری نقصان سے بچانا بھی ضروری ہے۔ اس طرح شکایت گزار کے حقوق اور متعلقہ شخص کے ساتھ انصاف، دونوں کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں پی وی سی پروفیسر محسن خاں سے بات کرنےکے لئے فون کیا گیا تو کال اٹنڈ نہیں ہوئی، وہیں خبر لکھے جانت کو جوب بھی نہیں ملا ۔ایسے میں شکایت کی موجودہ حیثیت، اس پر ممکنہ کارروائی اور تقرری سے قبل متعلقہ ریکارڈ کے جائزے سے متعلق سوالات کے جواب سامنے آنا باقی ہیں ۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا باضابطہ موقف اور متعلقہ دستاویزات کی تصدیق ہی اس معاملے میں صورت حال واضح کر سکتی ہے۔
