داناپور میں حضرت مخدوم سید شاہ محمد یاسین قادری چشتی داناپوریؒ کا 276واں عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد
پٹنہ/داناپور: حضرت مخدوم سید شاہ محمد یاسین قادری چشتی داناپوری رحمۃ اللہ علیہ کا 276واں عرس 12 اکتوبر 2026 کو خانقاہ قادریہ چشتیہ نظامیہ، شاہ ٹولی داناپور میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ تقریب کی صدارت خانقاہ کے سجادہ نشین سید شاہ احمد سلطان قادری چشتی نے کی۔ اس موقع پر مختلف صوفیانہ پروگراموں کا انعقاد کیا گیا، جس میں دور دراز سے آئے زائرین، علمائے کرام اور مشائخ نے شرکت کی۔
عرس کے موقع پر نمازِ عصر کے بعد صوفیانہ قوالی پیش کی گئی۔ نمازِ مغرب کے بعد رسالہ مخدوم یاسین حسین کے تیسرے ایڈیشن کی رونمائی دور دراز سے تشریف لائے مشائخِ کرام اور علمائے کرام کے دستِ مبارک سے عمل میں آئی۔ اس کے بعد حضرت مخدوم یاسین رحمۃ اللہ علیہ کے روضۂ مبارک پر چادر پوشی اور گل پوشی کی رسم ادا کی گئی۔
اس موقع پر سجادہ نشین نے امتِ مسلمہ کی خوشحالی، رزق، صحت و تندرستی، ہندو مسلم بھائی چارے اور ملک کی ترقی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ دعا کے بعد عرس میں شریک تمام زائرین کے درمیان لنگرِ یاسینیہ تقسیم کیا گیا۔ خانقاہ کے سرپرست سید شاہ نہال الدین قادری چشتی نے عرس میں شرکت کرنے والے تمام زائرین کا شکریہ ادا کیا۔
صوفی خانقاہ ایسوسی ایشن کی جانب سے قومی یکجہتی کا پیغام
تقریب میں صوفی خانقاہ ایسوسی ایشن بہار کے ریاستی صدر صوفی سید شاہ محمد مہتاب عالم چشتی نظامی، سجادہ نشین خانقاہ چشتیہ فریدیہ، چاندپورہ، بہار شریف نے ایسوسی ایشن کی جانب سے چلائی جا رہی قومی یکجہتی اور بھائی چارے کی مہم کے تحت امن و محبت اور قومی ہم آہنگی کا پیغام دیا۔ انہوں نے صوفی تعلیمات کے ذریعے معاشرے میں امن، محبت، باہمی رواداری اور ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
اس موقع پر خانقاہ خلیلیہ فردوسیہ، کھگول کے سید شاہ فیروز خلیلی، شاہ رئیس اعظم خانقاہ فریدیہ، ڈاکٹر شہریار، سید شاہ طلحہ عثمانی قادری، سید شاہ طٰہٰ عثمانی قادری، سید اُمم قادری، وویکانند، سید مذکّر قادری، سید منعم قادری، سید ارمان قادری، سید مزمل قادری، مولانا صدام حسین عمادی، سید مشتاق، سید شہباز عباسی، مولانا اسلم، حافظ محمد منتظر، سید منور، سید غفران رضوی، سید وسیم احمد، مہتاب فردوسی، سید نسیم احمد، محمد شمس اعظم، سید شاداب رضوی، سید شاہ اشرف، سید عمران خالد، دھیرج کمار یادو اور مولانا عمیر خان سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔
عرسِ یاسینیہ کے ذریعے صوفی روایت، روحانی تعلیمات، انسانیت، قومی یکجہتی اور باہمی بھائی چارے کا پیغام عام کیا گیا۔
ٹائمز آف تاج | پٹنہ
