**آگرہ: سر سید احمد خان کے یومِ پیدائش کے موقع پر آگرہ کی ادبی تنظیم ’بزمِ میکش‘ کے زیرِ اہتمام علامہ میکش اکبرآبادی کے آستانے پر ایک خصوصی سمینار منعقد کیا گیا۔ سمینار میں سر سید احمد خان کی تعلیمی، سماجی، سیاسی، قانونی اور صحافتی خدمات کو یاد کیا گیا اور ان کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
پروگرام کا آغاز پروفیسر نسرین بیگم کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے ’’علم کی شمع روشن کرنے والے رہبرِ قوم: سر سید احمد خان‘‘ کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سر سید کی تعلیمی اور سماجی خدمات پر روشنی ڈالی۔
اس کے بعد سینٹ جانس کالج کی طالبات سادیہ، سانیہ، ساریہ علوی، تنظیم، عالیہ نگار اور عائشین نے سر سید احمد خان کی قانون، تعلیم، سیاست، سماجی اصلاح اور صحافت کے میدان میں خدمات کو اجاگر کیا۔
سینٹ جانس کالج کے شعبۂ اردو کی طالبات انم ایوب، منتشا، علما رفیع اور عالمہ نے سر سید احمد خان کی خدمات اور ان کی تصانیف پر اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔ ان مقالوں کے ذریعے سر سید کے افکار، تحریروں اور تعلیمی نظریات کو سمجھنے کا موقع ملا۔
سمینار کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر محمد حسین نے اپنے خطاب میں سر سید کے تعلیمی مشن کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے کاموں کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر سید فیض علی شاہ نے کہا، ’’علم کی دولت سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں ہے۔ آج ہماری قوم کو سر سید احمد خان کے علمی کارناموں کو یاد رکھنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
شاعر ندیم نے اپنی غزل کے ذریعے سر سید احمد خان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا۔ مہمانِ خصوصی پروفیسر جیوتسنا رگھوونشی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سر سید تعلیم کا ایک وسیع تصور رکھتے تھے اور اپنے ملک کو سربلند دیکھنا چاہتے تھے۔
پروگرام کے دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مشہور ترانہ ’’یہ میرا چمن ہے، میرا چمن‘‘ بھی پیش کیا گیا، جس سے محفل میں ادبی اور جذباتی رنگ پیدا ہوا۔
تقریب کی صدارت کرتے ہوئے تنظیم کے سرپرست سید اجمل علی شاہ نے کہا کہ تحریکِ علی گڑھ کے بانی سر سید احمد خان نے سائنٹفک سوسائٹی، انسٹی ٹیوٹ گزٹ اور رسالہ ’تہذیب الاخلاق‘ کے ذریعے معاشرتی اصلاح، سائنسی فکر اور جدید تعلیم کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا۔
آخر میں سید فیض علی شاہ نے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے علی گڑھ کے مشہور ترانے ’’یہ میرا چمن ہے، میرا چمن، میں اپنے چمن کا بلبل ہوں‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے خالق اسرار الحق مجاز تھے اور وہ اکثر علامہ میکش اکبرآبادی کے آستانے پر آیا کرتے تھے۔
اس سمینار کے ذریعے سر سید احمد خان کے تعلیمی نظریات، سماجی اصلاح اور علمی بیداری کے پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
