از: پرہلاد جوشی اور شیوراج سنگھ چوہان
ملک کا وکست بھارت کی جانب سفر لازمی طور پر اس کے مواضعات کی خوشحالی پر مبنی ہونا
چاہیے۔ ملک کو خوراک فراہم کرنے والا کاشتکار معاشی ترقی سے پیدا ہونے والے مواقع میں
مکمل حصے کا حقدار ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، ان داتا کو بااختیار بنانا
حکومت کا ایک مرکزی مقصد رہا ہے۔ ’ایگری وولٹائکس‘، جسے ’ایگری پی وی‘ بھی کہا جاتا
ہے، کسانوں کو اپنی زمین پر کاشتکاری جاری رکھتے ہوئے صاف ستھری بجلی پیدا کرنے کے
قابل بنا کر اس مقصد کو آگے بڑھانے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ فوٹو وولٹک ڈھانچے
یعنی سولر پینلز زیادہ ماحولیاتی طلب کے ادوار کے دوران فصلوں کی بالائی سطح کے درجہ
حرارت، بخارات بننے کے عمل کی طلب، اور مٹی کی نمی کے نقصانات کو کم کرتے ہیں، جس
سے ایک سازگار مقامی سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سال 2030 تک 500 گیگا
واٹ قابل تجدید توانائی کی پیداوار کے ہدف کو پورا کرنے کی جانب ہمارے ملک کے سفر کے
دوران، بھارت کا زرعی شعبہ فارموں سے شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ
فارم کے طور پر ابھرا ہے۔ اسی وقت، حکومت ہند کی کامیاب کوششیں پی ایم – کسم (پردھان
منتری کسان اُورجا سُرکشا ایوم اُتھان مہابھیان) کی شکل میں پہلے ہی آبپاشی کو شمسی توانائی پر
منتقل کرنے کی صورت میں واضح ہیں، جس کے نتیجے میں کاربن کے اخراج میں کمی اور
ماحول دوست پائیدار طریقے سامنے آ رہے ہیں۔ مزید برآں، پی ایم – کسم کے آئندہ مرحلے کے
تحت ایگری فوٹوولٹکس کے لیے ایک الگ جگہ بنا کر شمسی توانائی کی پیداوار کو تیز کرنے کی
کوششیں کی جا رہی ہیں۔
21 سے 23 اکتوبر 2026 تک، ہندوستان نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ساتویں ایگری
وولٹائکس ورلڈ کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ اس کا موضوع، ’’گلوبل ساؤتھ کو تقویت بہم
پہنچانا‘‘، براہ راست اس ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے جسے ہندوستان اٹھانے کے لیے تیار ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ زرعی اختراع اور توانائی کی منتقلی کے فوائد ان چھوٹے اور پسماندہ
کاشتکاروں تک پہنچیں جو ہندوستان کے مجموعی کسانوں کا تقریباً 86 فیصد ہیں۔ یہ کانفرنس
ایک ایسے طریقہ کار کو وضع کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے جو ہندوستان کے دیہاتوں کی
خدمت کرے اور دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کو عملی اسباق فراہم کرے۔
ہمارے لیے اصل ترجیح کاشتکار کی روزی روٹی ہے۔ ہر فصل کے پیچھے مہینوں کی محنت،
صرف کی گئی رقم اور ایک خاندان کی امیدیں ہوتی ہیں۔ ایک اچھی فصل ہمیشہ اچھی آمدنی کا
باعث نہیں بنتی۔ موسم، لاگت کے اخراجات اور منڈی کی قیمتیں گھر کے بجٹ کو بگاڑ سکتی ہیں۔
عوامی پالیسی کو کاشتکاروں کا مددگار ہونا چاہیے تاکہ وہ ان غیر یقینی حالات کا مقابلہ کرنے کی
اپنی صلاحیت کو مضبوط بنا سکیں اور ان کے لیے کمانے کے اضافی مواقع پیدا ہو سکیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں زراعت اور قابل تجدید توانائی کی پالیسیاں آپس میں ملتی ہیں۔ ایگری
وولٹائکس کاشتکاری کے لیے موزوں ڈھانچوں اور فاصلوں کے ذریعے ایک ہی زمین پر بیک
وقت کاشتکاری اور شمسی توانائی کی پیداوار کو یکجا کرتا ہے۔ یہ کاشتکار کو بجلی کے ذریعے
آمدنی کا ایک اضافی ذریعہ فراہم کر سکتا ہے۔ جہاں شمسی توانائی ڈیزل یا خریدی گئی بجلی کی
جگہ لے لیتی ہے، وہیں یہ اخراجات کو بھی کم کر سکتی ہے۔ ایگری پی وی کے تحت پیدا ہونے
والا سازگار ’مائیکرو کلائمیٹ ‘ یعنی مقامی سازگار ماحول شدید گرمی، خشک سالی، سورج کی
ضرورت سے زیادہ تپش اور ژالہ باری کے خلاف اضافی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ‘اَن داتا’ یعنی
کاشتکار کے ‘اورجا داتا’ یعنی توانائی فراہم کرنے والابننے کے اس امکان کے پس پشت ایک
واضح سیاسی معنی پوشیدہ ہے: کسان کو ہندوستان کی توانائی کی دولت کی تخلیق میں نہ صرف
حصہ لینا چاہیے بلکہ اس سے مستفید بھی ہونا چاہیے۔ ایگری وولٹائکس بھارت کے غذائی تحفظ
اور توانائی تحفظ کے اہداف کو بغیر کسی رکاوٹ کے یکجا کر سکتا ہے، جس سے ایک ہی زمین
ملک کی غذائی ضرورت کو بھی پورا کر سکے گی اور اس کے مستقبل کو بھی روشن کر سکے
گی۔
یہ عزم آتم نربھر بھارت کے وسیع تر وژن کا حصہ ہے۔ شمسی توانائی کے میدان میں بھارت کی
تیز رفتار ترقی نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک مستقل اور مضبوط سیاسی قیادت کیا کچھ حاصل کر
سکتی ہے، بشرطیکہ بنائی جانے والی پالیسی سرمایہ کاروں کو اعتماد بخشے اور جدت طرازی
کی حوصلہ افزائی کرے۔ مقامی مینوفیکچرنگ، شفاف خریداری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے
میں سرمایاکاری نے مستقبل کی مزید ترقی کے لیے مضبوط بنیادیں فراہم کی ہیں۔ ایگری
وولٹائکس اس طرح کے مزید مواقع دیہی معیشت میں لا سکتا ہے، جس میں پینلز کی تنصیب،
دیکھ بھال اور زرعی خدمات سے وابستہ روزگار شامل ہیں۔
ترقی کے حوالے سے ہماری حکومت کا طریقہ کار ہمیں ان مواقع کو آپس میں جوڑنے کی ذمہ
داری سونپتا ہے۔ بھارت میں ایگری وولٹائکس کو کامیابی سے اپنانے کے لیے فصل کا بہترین
انتخاب بنیادی شرطوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے فصلوں کے انتخاب میں چھاؤں برداشت کرنے
کی صلاحیت، ظاہری لچک، اور وقفے وقفے سے ملنے والی دھوپ کے دوران مستحکم پیداواری
صلاحیت پر زور دیا جانا چاہیے۔ پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے بشمول گلیاروں
پر مبنی کاشتکاری، مناسب آبپاشی، کھاد کی فراہمی، اور فصلوں کی موزوں گردش سمیت مناسب
زرعی انتظام انتہائی ضروری ہے۔ ایگری وولٹائک ڈیزائنز کا عمومی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ
فصلوں کی بالائی سطح پر قدرتی طور پر آنے والی دھوپ کا تقریباً 70 فیصد یا اس سے زیادہ
حصہ برقرار رکھیں، جبکہ ضرورت کے مطابق گھومنے والے سولر پینلز دھوپ کے لیے حساس
نشوونما کے مراحل کے دوران اضافی لچک فراہم کر سکتے ہیں۔ ایک گاؤں کو پیداواری فارمز،
قابل اعتماد توانائی اور منڈیوں تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے محکمہ زراعت اور
محکمہ توانائی کو ریاستی حکومتوں، تحقیقی اداروں اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر منصوبہ
بندی کرنی چاہیے۔ کسان ان تمام فیصلوں کے نتائج کا تجربہ اپنی اسی ایک زمین پر کرتا ہے۔
ہمارے اداروں کو بھی اسی یکجہتی کے جذبے کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔
کانفرنس کے تعارفی پروگرام میں پی ایم – کسم کے اگلے مرحلے کا اعلان کیا گیا جس میں
ایگری وولٹائکس کے لیے ایک مخصوص حصہ مختص کیا گیا ہے۔ سمت بالکل واضح ہے:
چھوٹے اور پسماندہ کاشتکاروں کا اس ابھرتے ہوئے شعبے میں لازمی طور پر ایک مقام ہونا
چاہیے۔ اس لیے، ہمیں فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز، کوآپریٹیوز اور پنچایتوں کو متحرک اور
بااختیار بنا کر ایگری پی وی کے لیے موزوں چھوٹے اور پسماندہ کاشتکاروں کے گروپوں کی
مشترکہ قابل کاشت زمین کے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سمت کو قابل عمل
منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے کفایتی مالیاتی سہولیات، مناسب کنکشنز اور بجلی کی قابل
اعتماد ادائیگیوں کی ضرورت ہے۔
کاشتکار کا بھروسہ ہر قدم پر رہنما ہونا چاہیے۔ زمین روزی روٹی، تحفظ اور وابستگی کا ذریعہ
ہے۔ کاشتکاروں کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی معاہدے کو سمجھ سکیں، یہ جان سکیں کہ
انہیں کس فائدے کی امید رکھنی چاہیے، اور یہ دیکھ سکیں کہ ہر ذمہ داری کس کے ذمے ہے۔
زمین کی ملکیت کا تحفظ لازمی طور پر برقرار رہنا چاہیے۔ کرایہ دار کاشتکاروں اور خاتون
کاشتکاروں کو بھی اس بات میں آواز ملنی چاہیے کہ منصوبے کیسے ڈیزائن کیے جاتے ہیں اور
فوائد کیسے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ سرمایاکاری عوامی اعتماد تبھی حاصل کرے گی جب کاشتکار
اس میں اپنے لیے ایک منصفانہ مقام دیکھ سکے گا۔
اس اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے کاشتکاری کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔ ایگری وولٹائک
ہونے کا دعویٰ کرنے والے کسی بھی منصوبے کے لیے کاشتکاری کو قابل عمل رکھنا لازمی
ہے۔ سولر پینلز کے ڈھانچے ایسے ہونے چاہئیں جو فارم کے کاموں میں رکاوٹ نہ بنیں، اور پینلز
کا انتخاب اور ان کا درمیانی فاصلہ فصل کی ضروریات کے مطابق ہونا چاہیے۔ سولر پینلز کے
ڈیزائن اور ان کے گھیرے گئے رقبے کے تناسب کی بنیاد پر زراعت کے بہترین طریقوں کو
یکساں کرنے کی ضرورت ہے۔ فصلوں کی دیکھ بھال اور گوڈی وغیرہ کے کاموں کو جدید اور
چھوٹی زرعی مشینری کے ذریعے آسان بنایا جانا چاہیے، جنہیں چلنے کے لیے کم جگہ یا
اونچائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ سائنسی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ اگر پینلز کا سایہ درست طریقے
سے ڈیزائن کیا جائے، تو یہ کچھ فصلوں کو شدید گرمی اور پانی کی کمی کے دباؤ سے نمٹنے
میں مدد دے سکتا ہے۔ لیکن شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ غیر مناسب سایہ فصل کی پیداوار کو کم
کر سکتا ہے۔ ذمہ دارانہ قیادت کا تقاضا ہے کہ ہم دونوں حقائق کو تسلیم کریں اور صرف ایسے
نظاموں کی سفارش کریں جن کا مقامی طور پر تجربہ کیا جا چکا ہو۔
بھارت کے پاس اس شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے قابلِ قدر تجربات موجود ہیں۔ جودھ پور میں
واقع انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے سینٹرل ایریڈ زون ریسرچ انسٹی
ٹیوٹ نے شمسی توانائی کی پیداوار اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ فصلوں
کی کاشت کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔ پونے میں واقع بی اے آئی ایف کے رورل انوویشن سینٹر
میں مختلف فصلوں کے لیے اس نظام کی الگ الگ ترتیبوں کو آزمایا جا رہا ہے۔ حکومتِ ہند نے
2025 میں نئی دہلی کے آئی سی اے آر-انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں 100 کلوواٹ
کی صلاحیت کے ساتھ ایگری فوٹو وولٹیکس سینٹر آف ایکسی لینس (سی او ای) کے قیام کے
ذریعے زرعی شمسی توانائی کے شعبے میں قومی سطح کا تحقیقی پروگرام شروع کرنے کی پہل
کی ہے۔ اس سنٹرآف ایکسی لینس کی مشترکہ قیادت آئی سی اے آر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف
سولر انرجی (این آئی ایس ای) کر رہے ہیں، جب کہ اسے وزارتِ نئی اور قابلِ تجدید توانائی (ایم
این آر ای) کی رہنمائی حاصل ہے۔ یہ مرکز فصلوں اور شمسی پینلوں کے بہترین امتزاج کی نشان
دہی، پیداوار میں کم سے کم نقصان کے ساتھ موزوں فصلوں کی فہرست تیار کرنے اور زرعی
شمسی توانائی کے نظام کے لیے موزوں فصلوں کی اقسام تیار کرنے کی غرض سے تحقیقی
مطالعات انجام دے رہا ہے۔ ان تحقیقی تجربات میں پھول گوبھی، مولی، گھیا، توری، پالک، لوکی
اور کدو جیسی سبزیاں شامل ہیں۔ اگلے 2 برسوں کے دوران سنٹر آف ایکسی لینس سے حاصل
ہونے والے اعداد و شمار کی بنیاد پر بھارت کے تمام بڑے ممکنہ خطوں کے لیے مخصوص
فصلوں کی موزونیت، ضروری حدود و شرائط اور زرعی زمینوں اور شمسی پینلوں کے بہترین
انضمام سے متعلق تکنیکی تجاویز پیش کرنے میں مدد ملے گی۔ مزید برآں، یہ مرکز بھارت میں
زرعی شمسی توانائی کے نظام کے نفاذ کے لیے ایک مضبوط لائحۂ عمل تیار کرنے میں معاون
ہوگا اور اس سلسلے میں قیمتی معلومات، رہنما اصول اور تربیت کے مواقع فراہم کرے گا، تاکہ
بھارت کے مختلف زرعی و موسمی خطوں میں اس نظام کو بڑے پیمانے پر رائج کیا جا سکے
اور اس طرح کسانوں کی خالص آمدنی میں اضافہ ہو۔ حکومتِ ہند کے ادارے، آئی سی اے آر کے
تحقیقی ادارے، زرعی یونیورسٹیز اور کرشی وگیان کیندر اس کام کو مختلف زرعی و موسمی
خطوں تک وسعت دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے نتائج کسانوں تک ایسے انداز
میں پہنچنے چاہییں جن سے وہ عملی طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔ اس نظام کی کامیابی کا اندازہ کاشت
کار کی خالص آمدنی، زرعی پیداوار اور پیدا ہونے والی بجلی، تینوں کی بنیاد پر لگایا جانا چاہیے۔
عالمی کانفرنس کی میزبانی سے اس قومی کوشش میں عالمی سائنسی برادری بھی شامل ہو رہی
ہے۔ اس کانفرنس کے پہلے دو اجلاس 2020 اور 2021 میں آن لائن منعقد ہوئے تھے، جس کے
بعد پیاچینزا، ڈائیگو، ڈینور اور فری برگ میں اجلاس منعقد کیے گئے۔ دہلی کو چاہیے کہ وہ اس
تبادلے کو آگے بڑھائے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ چھوٹے کسانوں کے مسائل و ضروریات
کو ایجنڈے میں مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ ساتھ کم
لاگت کے ڈھانچوں اور چھوٹی زرعی زمینوں کے لیے موزوں مالی وسائل پر بھی یکساں توجہ
دی جانی چاہیے۔
یہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے ساتھ بھارت کی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کا موقع بھی
ہے۔ بھارت اور فرانس کے ذریعے قائم کیا گیا انٹرنیشنل سولر الائنس (بین الاقوامی شمسی اتحاد)
شمسی توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کرتا ہے۔ زرعی شمسی
توانائی کا نظام مشترکہ میدانی تحقیق، تربیت اور عملی تجربات کے تبادلے کے مزید امکانات پیدا
کرتا ہے۔ زمین، پانی اور دیہی آمدنی پر دباؤ کا سامنا کرنے والے ممالک کو ایسے حل تک رسائی
حاصل ہونی چاہیے جو ان کے حالات کے مطابق تیار کیے گئے ہوں۔ اس سلسلے میں بھارت کے
سائنس داں، صنعت کار اور دیہی کاروباری افراد بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ اس
شعبے میں شواہد اور مانگ دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
زرعی شمسی توانائی کے نظام کی سیاسی اہمیت اس بات پر منحصر ہے کہ ترقی کے فوائد کن
لوگوں تک پہنچتے ہیں۔ توانائی کے شعبے میں زیادہ خود کفالت سے دیہی معاش کو تقویت ملنی
چاہیے۔ صاف ستھری ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے کاشت کاروں اور گاؤوں کے نوجوانوں
کے لیے مواقع پیدا ہونے چاہییں۔ غیر مرکزی زرعی شمسی توانائی کے نظام اور پی ایم-کُسم
(پردھان منتری کسان اُرجا سرکشا ایوم اُتھان مہابھیان) کے اگلے مرحلے میں ملک کا ڈیزل اور
گرڈ سے حاصل ہونے والی بجلی کی لاگت پر انحصار کم کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھارت کی قیادت کو دوسرے ترقی پذیر ممالک کی اس کوشش میں مدد کرنی
چاہیے کہ وہ ایسی شرائط پر ترقی کریں جو ان کے شہریوں کے مفاد میں ہوں۔ یہی وہ ذمہ داریاں
ہیں جو اس کانفرنس کو خود اجلاس کے انعقاد سے کہیں بڑھ کر اہمیت عطا کرتی ہیں۔
جب ہم نئی دہلی میں دنیا کا خیرمقدم کر رہے ہیں تو ہماری توقع عملی نتائج سے وابستہ ہے۔ ان
مباحث سے ایسے منصوبے سامنے آنے چاہییں جن کی بہتر انداز میں آزمائش کی گئی ہو، ایسی
شراکت داریاں قائم ہوں جو علم کا تبادلہ کریں اور کاروباری انتظامات ایسے ہوں جن پر کسان
اعتماد کر سکیں۔ وِکست بھارت کی منزل اس وقت قریب آئے گی جب چھوٹے کسان کو نئی
خوشحالی کے ذرائع میں حصہ لینے کا اعتماد بھی حاصل ہوگا اور اس کے لیے ضروری وسائل
بھی میسر ہوں گے۔ زرعی شمسی توانائی کا نظام اس مقصد کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتا
ہے، بشرطیکہ اس کی بنیاد زراعت پر ہو اور اس کے مرکز میں اَن داتا ہو۔
بالترتیب نئی و قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر اور زراعت و کاشتکاروں کی فلاح و بہبود
کے مرکزی وزیر
