پال نے کہا، انتخابات کی تاریخ پر کوئی تنازع نہیں؛ دیوالی کے بہانے انتخابی ماحول خراب کرنے کی کوشش، مقررہ وقت پر انتخابات ہی اصل ترجیح
رپورٹ۔ ایس منیر
علی گڑھ ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں طلبہ یونین انتخابات کی تاریخ کو مذہبی رنگ دینے کی کوششوں کے درمیان معروف طلبہ لیڈر سون پال نے واضح کیا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کو لے کر طلبہ کے درمیان کوئی تنازع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے ساتھیوں سے بات کرنے کے بعد انہیں معلوم ہوا ہے کہ کسی کو بھی کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ایسے میں دیوالی کے نام پر انتخابی تاریخ کو تنازع کا موضوع بنانا مناسب نہیں ہے۔
سون پال نے کہا کہ دیوالی ۸ نومبر کو ہے، اس لیے طلبہ آسانی سے اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد اپنے گھروں کو جا سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر گرام پردھان یا دوسرے انتخابات ہوں تو کیا تہوار کی وجہ سے ان کی تاریخ تبدیل کردی جاتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ اے ایم یو طلبہ یونین کے انتخابات مقررہ وقت پر ہوں اور انتخابی عمل میں کسی طرح کی رکاوٹ نہ آئے۔
چار ہزار طلبہ کے نام پر تنازع کیوں؟
اے ایم یو میں طلبہ یونین انتخابات کی تاریخ کو لے کر یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ دیوالی کے موقع پر تقریباً ۴ ہزار ہندو طلبہ و طالبات کے گھروں کو جانے سے ووٹنگ متاثر ہوسکتی ہے۔ اسی بنیاد پر انتخابی تاریخ پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے سابق ریاستی وزیر بلدیو چودھری سیٹو نے صدر جمہوریہ، وزیر اعظم کے دفتر اور مرکزی وزارت تعلیم کو ای میل بھیج کر اس معاملے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اے ایم یو میں انتخابی عمل ۲۵ اکتوبر سے شروع ہونا ہے، جبکہ ووٹنگ ۵ نومبر کو مقرر ہے۔ یونیورسٹی میں تقریباً ۲۲ سے ۲۴ ہزار ووٹر ہیں، جن میں لگ بھگ ۴ ہزار ہندو طلبہ بتائے جاتے ہیں۔ دھن تیرس اور دیوالی کے تہواروں کے پیش نظر بعض طلبہ کے ۲ یا ۳ نومبر سے گھروں کو روانہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم سون پال نے واضح کیا ہے کہ ان کے ساتھیوں کو اس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔

چیف الیکشن آفیسر نے بھی واضح کیا انتخابی موقف
اے ایم یو کے چیف الیکشن آفیسر پروفیسر جاوید طالب نے کہا کہ طلبہ یونین کے انتخابات مقررہ تاریخ پر ہی ہوں گے اور تاریخ کو لے کر کوئی تنازع نہیں ہے۔ ان کے مطابق، اگر کسی طالب علم کو کوئی اعتراض ہوتا تو وہ اپنی نمائندگی درج کرا سکتا تھا۔
انتخابی ضابطوں کی پابندی لازمی
چیف الیکشن آفیسر پروفیسر جاوید طالب نے امیدواروں کے لیے ضابطہ اخلاق کے اہم اصول بھی واضح کیے ہیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں امیدوار کی امیدواری منسوخ کرنے کے ساتھ اسے منتخب عہدے سے بھی ہٹایا جا سکتا ہے۔ امیدوار مقررہ مقامات پر ہاتھ سے بنائے گئے پوسٹر لگا سکیں گے۔ کابینہ ممبر کے امیدوار زیادہ سے زیادہ ۱۰ ہزار روپے اور عہدے دار کے امیدوار ۲۰ ہزار روپے تک خرچ کر سکیں گے۔ سیاسی جماعتوں سے رقم لینے پر پابندی ہوگی اور امیدوار کے لیے ۷۵ فیصد حاضری لازمی ہے۔ پانی کے علاوہ کسی بھی کھانے کی چیز یا مشروب کی تقسیم ممنوع ہوگی۔ ووٹنگ کے ۴۸ گھنٹے کے اندر ووٹنگ کے علاقے سمیت یونیورسٹی کیمپس کی صفائی کرانی ہوگی۔ ووٹ حاصل کرنے کے لیے ذات، فرقہ، علاقے یا زبان کی بنیاد پر جذبات بھڑکانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یونیورسٹی کیمپس سے باہر جلوس نکالنے، عوامی جلسے کرنے، انتخابی تشہیر یا تشہیری مواد تقسیم کرنے پر پابندی ہوگی۔ انتخابی مہم میں لاؤڈ اسپیکر، کار، موٹر سائیکل سمیت دیگر گاڑیوں اور جانوروں کا استعمال بھی ممنوع ہوگا۔(۸) امیدوار ایسی کسی سرگرمی میں شامل نہیں ہو سکیں گے جس سے ذات، برادری، مذہب، زبان یا طلبہ گروپوں کے درمیان اختلافات بڑھیں، باہمی نفرت پیدا ہو یا کشیدگی کی صورت حال بنے۔ امیدوار کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہونا چاہیے اور اسے کسی مجرمانہ معاملے یا عصمت دری کے مقدمے میں سماعت کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو، نہ ہی اسے مجرم قرار دیا گیا ہو۔ انتخابی مدت میں جلوس اور عوامی جلسے کرنے کے لیے پراکٹر کی پیشگی تحریری اجازت لازمی ہوگی، جبکہ کلاسوں، تعلیمی اور ہم نصابی سرگرمیوں میں خلل نہیں پڑنا چاہیے۔
اے ایم یو کے چیف الیکشن آفیسر پروفیسر جاوید طالب نے کہا کہ طلبہ یونین کے انتخابات مقررہ تاریخ پر ہی ہوں گے اور تاریخ کے حوالے سے کوئی تنازع نہیں ہے۔ اگر کوئی تنازع ہوتا تو طلبہ اپنی نمائندگی درج کراتے۔
وہیں، اے ایم یو کے معروف طلبہ لیڈر سون پال نے کہا کہ طلبہ یونین کے انتخابات کے حوالے سے کوئی تنازع نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے ساتھیوں سے بات کرلی ہے اور کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیوالی ۸ نومبر کو ہے، ایسے میں طلبہ اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد آسانی سے گھر جا سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر گرام پردھان یا دیگر انتخابات ہوں تو کیا تہوار کی وجہ سے تاریخ تبدیل کی جا سکتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ اے ایم یو طلبہ یونین کے انتخابات مقررہ وقت پر منعقد ہوں۔
