امجد علی اور ایڈووکیٹ سید کیف حسن نے جدوجہد تیز کرنے کا اعلان کیا، آئندہ منگل تک فیصلہ لینے کی اپیل
رپورٹ: ایس منیر
نئی دہلی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں آٹھ سال بعد طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کے فیصلے کے بعد ملک کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جاری طلبہ تحریک کی حمایت کے بعد اب بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں بھی طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کا مطالبہ اٹھایا گیا ہے۔
اس سلسلے میں قانون کے طالب علم امجد علی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالب علم ایڈووکیٹ سید کیف حسن نے طلبہ کے حقوق اور نمائندگی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
امجد علی نے کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کی تحریک کو پہلے دن سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر علی گڑھ سے جامعہ ہوتے ہوئے بی ایچ یو تک بس لے جانے کی تیاری بھی کی جائے گی۔ ان کے مطابق طلبہ یونین کی بحالی کا مسئلہ کسی ایک یونیورسٹی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق ملک بھر کے طلبہ کی جمہوری نمائندگی اور حقوق سے ہے۔
وہیں علی گڑھ کے سابق طالب علم سید کیف حسن نے کہا، ’’علی گڑھ طلبہ لیڈروں کو تیار کرنے کی فیکٹری ہے۔ ہر یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔‘‘
ان بیانات کے ساتھ علی گڑھ سے جامعہ اور اب بی ایچ یو تک طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک کو وسیع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بی ایچ یو انتظامیہ سے انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کا مطالبہ
بنارس ہندو یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے کو لے کر ڈین آف اسٹوڈنٹس کو ایک میمورنڈم پیش کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں طویل عرصے سے طلبہ یونین نہ ہونے کے سبب طلبہ کو اپنی شکایات اور مسائل انتظامیہ تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
میمورنڈم میں مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ کے قائم کردہ ادارے کی جمہوری روایات اور طلبہ کی نمائندگی کے حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے طلبہ یونین کی بحالی کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔
اس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں آٹھ سال کے وقفے کے بعد طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے بی ایچ یو انتظامیہ سے بھی اسی طرح مثبت قدم اٹھانے کی اپیل کی گئی ہے۔
بنیادی سہولیات اور کیمپس کی سکیورٹی پر سوالات
طلبہ کی جانب سے ہاسٹل الاٹمنٹ، میس میں کھانے کے معیار، لائبریری کے اوقات، وائی فائی اور سائبر لائبریری جیسی بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل اٹھائے گئے ہیں۔
میمورنڈم کے مطابق طلبہ کی روزمرہ مشکلات کو انتظامیہ کے سامنے مؤثر طریقے سے رکھنے اور ان کے حل کے لیے باقاعدہ طلبہ نمائندگی کا فقدان محسوس کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ رات کے وقت طلبہ کی نقل و حرکت پر پابندیوں اور ہاسٹل سے متعلق ضوابط کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ کیمپس کی سکیورٹی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے طالبات کی حفاظت یقینی بنانے اور سکیورٹی سے متعلق واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
طلبہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان رابطے کی کمی کو بھی ایک اہم مسئلہ بتایا گیا ہے۔ میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ مؤثر رابطے کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ اپنی جائز مانگیں انتظامیہ تک بہتر انداز میں نہیں پہنچا پاتے، جس سے ان میں مایوسی اور عدم اطمینان پیدا ہو سکتا ہے۔
تین اہم مطالبات، آئندہ منگل تک فیصلے کی اپیل
مجوزہ میمورنڈم میں بی ایچ یو انتظامیہ کے سامنے تین اہم مطالبات رکھے گئے ہیں:
- انتخابی شیڈول کا اعلان: لنگدوہ کمیٹی کی ہدایات کے مطابق طلبہ یونین کے انتخابات کا شیڈول جلد جاری کیا جائے۔
- شفاف اور منصفانہ انتخابات: انتخابی عمل کو غیر جانب دار، منصفانہ اور شفاف طریقے سے مکمل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
- مشترکہ کمیٹی کی تشکیل: انتخابات ہونے تک طلبہ کے فوری مسائل حل کرنے کے لیے طلبہ نمائندوں اور یونیورسٹی انتظامیہ پر مشتمل مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے۔
میمورنڈم میں انتظامیہ سے اپیل کی گئی ہے کہ طلبہ کے مفادات سے متعلق اس اہم معاملے پر آئندہ منگل تک مثبت فیصلہ لیا جائے اور طلبہ یونین کی بحالی کے لیے مقررہ وقت کے اندر اقدامات کیے جائیں۔
اس مطالبے کا مقصد طلبہ کو ایسا باقاعدہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنے مسائل، شکایات اور تعلیمی و رہائشی سہولیات سے متعلق معاملات انتظامیہ کے سامنے پیش کر سکیں۔
طلبہ یونین کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
امجد علی اور ایڈووکیٹ سید کیف حسن کے بیانات میں طلبہ کی نمائندگی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
بی ایچ یو میں طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ اٹھنے کے بعد اب یونیورسٹی انتظامیہ کے ردعمل پر توجہ مرکوز ہے۔ طلبہ رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ طلبہ یونین کی بحالی، انتخابی شیڈول کے اعلان اور طلبہ و انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطے کے نظام کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب معلومات اور متعلقہ ذرائع کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ کسی بھی دعوے یا الزام کی تصدیق متعلقہ سرکاری فریق سے کی جانی چاہیے۔
