بنارس ہندو یونیورسٹی میں ’’بھارت بودھ کے راہی‘‘ کے عنوان سے قومی کانفرنس کا انعقاد، مہابھارت کے وائس اوور فنکار ہریش بھمانی نے راہی معصوم رضا کی ادبی و فلمی خدمات کو سراہا
وارانسی: بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو)، وارانسی میں ماٹی ٹرسٹ کے زیر اہتمام ’’بھارت بودھ کے راہی‘‘ کے عنوان سے ایک قومی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں معروف ادیب، شاعر، ناول نگار اور فلمی مکالمہ نگار ڈاکٹر راہی معصوم رضا کی ادبی، تہذیبی اور سینمائی خدمات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے کانفرنس کے مختلف تکنیکی اجلاسوں میں اشتراک کیا۔ یہ کانفرنس ڈاکٹر راہی معصوم رضا کی صدی تقریبات کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔
کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں بابا بھیم راؤ امبیڈکر بہار یونیورسٹی، مظفر پور کے وائس چانسلر پروفیسر دنیش چندر رائے، معروف وائس اوور فنکار ہریش بھمانی، بنارس ہندو یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر راجن کے آر سریواستو اور ماٹی ٹرسٹ کے کنوینر و مصنف آصف اعظمی نے شرکت کی۔ اجلاس کی نظامت ڈاکٹر دھیریندر کمار رائے نے انجام دی۔
مشترکہ ہندوستانی تہذیب کی علامت ہیں راہی معصوم رضا
صدارتی خطاب میں پروفیسر دنیش چندر رائے نے ڈاکٹر راہی معصوم رضا کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریبات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ راہی کو یاد کرنا محض ایک شخص کو یاد کرنا نہیں، بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا جشن منانا ہے۔ ان کی تخلیقات میں ہندوستان کی مٹی کی خوشبو، انسانی وقار، اتحاد، اپنائیت اور بھکتی کی روایات نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہیں۔
مہابھارت اور ہندوستانی سنیما راہی کے فن کی نمایاں مثال: ہریش بھمانی
مہابھارت سیریل کے معروف وائس اوور فنکار ہریش بھمانی نے کلیدی خطاب میں راہی معصوم رضا سے اپنی قربت اور ان کی شخصیت کے اثرات کا ذکر کیا۔ انہوں نے سیریل مہابھارت میں وائس اوور کی ذمہ داری ملنے کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی۔
ہریش بھمانی نے کہا کہ راہی معصوم رضا کو دریائے گنگا اور اپنے آبائی علاقے غازی پور سے گہری وابستگی تھی۔ وہ فلمی صنعت کو خاص اہمیت دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ بالی ووڈ نے ہندوستانی زبان کو غیر معمولی مقبولیت دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہی معصوم رضا اور ہندوستانی سنیما ایک دوسرے کا لازمی حصہ ہیں اور سیریل مہابھارت اس کی نمایاں مثال ہے۔
بی ایچ یو کے رجسٹرار پروفیسر راجن کے آر سریواستو نے کہا کہ راہی معصوم رضا کو اپنی جڑوں سے گہری وابستگی تھی۔ انہوں نے اپنے ناولوں، فلمی مکالموں، نغموں اور غزلوں کے ذریعے ہندوستانی تہذیب اور فطرت کے مختلف رنگوں کو زندہ کیا۔
اس سے قبل آصف اعظمی نے تعارفی کلمات پیش کیے اور راہی معصوم رضا کی ادبی خدمات، ہندوستانی تہذیب سے ان کی وابستگی اور صدی تقریبات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
شعری کائنات میں 1857 کی جدوجہد آزادی کا عکس
’’راہی کی شعری کائنات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اجلاس کی صدارت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سرسید اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر شافع قدوائی نے کی۔ اس اجلاس میں بنارس ہندو یونیورسٹی، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اور دیگر اداروں سے وابستہ اساتذہ، محققین اور ادبا نے اپنے مقالات پیش کیے۔
پروفیسر شافع قدوائی نے صدارتی خطاب میں کہا کہ راہی معصوم رضا کی شعری کائنات بہت وسیع ہے۔ ان کی نظم ’’1857‘‘ رزمیہ شاعری کا غیر معمولی نمونہ ہے، جو جنگ آزادی کے پہلے بڑے معرکے کو مختلف زاویوں سے پیش کرتی ہے۔
ناولوں اور کہانیوں میں ہندوستانی ثقافت کی عکاسی
’’کہانی کے راہی‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اجلاس کی صدارت مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے ڈین پروفیسر احتشام احمد خان نے کی، جبکہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ ہندی کی صدر پروفیسر مینو اوستھی نے کلیدی خطاب کیا۔
اجلاس میں مختلف جامعات اور علمی اداروں سے وابستہ محققین نے راہی معصوم رضا کی ادبی شخصیت، ناولوں اور ہندوستانی ثقافت سے ان کے تعلق پر مقالات پیش کیے۔ پروفیسر احتشام احمد خان نے کہا کہ ڈاکٹر راہی معصوم رضا ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے نمائندہ قلم کار ہیں اور ان کی تخلیقات میں ہندوستانی ثقافت کے عناصر جگہ جگہ موجود ہیں۔
فلمی مکالموں اور سنیما میں راہی کا تخلیقی جادو
’’راہی کا سینمائی جادو‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تیسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت بنارس ہندو یونیورسٹی کے شعبۂ ہندی کے سابق صدر پروفیسر اودھیش پردھان نے کی، جبکہ دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ ہندی کے پروفیسر انل رائے نے کلیدی خطاب پیش کیا۔
اس اجلاس میں صحافت، موسیقی، بصری فنون اور ہندی و اردو ادب سے وابستہ ماہرین نے راہی معصوم رضا کی فلمی خدمات، مکالمہ نگاری اور سینمائی تخلیقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
پروفیسر اودھیش پردھان نے کہا کہ راہی معصوم رضا کو یاد کرنا ہم سب کے لیے خوش قسمتی ہے۔ ایسے قلم کاروں کو بار بار پڑھنے اور ان کی تخلیقات کو نئی نسل کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق راہی کا فن کسی خلا میں پیدا نہیں ہوا، بلکہ اس کی بنیاد ہندوستان اور اس کی تہذیبی جڑوں میں پیوست ہے۔
دانشوروں اور ادبا کی بڑی تعداد کی شرکت
کانفرنس میں طلبہ، اساتذہ، محققین، دانشوروں اور ادبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مختلف اجلاسوں میں پیش کیے گئے مقالات نے ڈاکٹر راہی معصوم رضا کی شاعری، ناول نگاری، فلمی مکالمہ نگاری اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیب میں ان کے کردار کے متعدد پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
کانفرنس کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ راہی معصوم رضا کی تخلیقات ہندوستان کی کثیر الثقافتی روایت، مشترکہ ورثے اور انسانی اقدار کو سمجھنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ ان کا ادبی و تخلیقی سرمایہ آج بھی نئی نسل کے لیے مطالعے اور تحقیق کی اہمیت رکھتا ہے۔
ماخذ: کانفرنس سے متعلق فراہم کردہ تفصیلات۔
ٹائمز آف تاج ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب معلومات اور فراہم کردہ تفصیلات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ کسی بیان یا دعوے میں تصحیح کی ضرورت ہو تو متعلقہ ادارے سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
