نئی دہلی، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اور جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ آج ملک میں جن مساجد کو شہید کیا جا رہا ہے، ان شاء اللہ وہ ایک دن دوبارہ آباد ہوں گی اور وہاں پھر سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ آج اقتدار میں ہیں، وہ کل نہیں رہیں گے، لیکن اسلام ایک زندہ مذہب ہے، جسے طاقت اور اقتدار کے بل پر نہ ماضی میں ختم کیا جا سکا ہے اور نہ مستقبل میں کیا جا سکے گا۔
مولانا ارشد مدنی دارالعلوم دیوبند کے احاطے میں منعقد رابطۂ مدارس اسلامیہ کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ملک بھر سے مدارس کے ذمہ داران اور نمائندگان نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت، مدارس کے کردار، مذہبی شناخت کے تحفظ اور ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ سرگرمیوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ بچوں کی دینی اور اخلاقی تعلیم کی پوری ذمہ داری صرف مدارس پر ڈال دینا درست نہیں ہے، بلکہ والدین کو بھی اپنے بچوں کے ایمان، عقیدے، کردار اور اخلاق کی حفاظت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کی نئی نسل کی صحیح تعلیم و تربیت سے وابستہ ہوتا ہے۔ اگر بچوں کو عصری تعلیم تو دی جائے، لیکن ان کی دینی اور اخلاقی تربیت سے غفلت برتی جائے تو روشن مستقبل کی امید نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مذہب سے دوری اور دینی انحراف کے بڑھتے ہوئے رجحانات تشویش ناک ہیں۔ بعض فرقہ پرست طاقتیں منظم انداز میں مسلمانوں کی نئی نسل کو ان کے مذہب اور ایمان سے دور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن مسلمانوں کو اپنی ذمہ داریوں سے بھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔
مولانا مدنی نے مدارس کے ذمہ داران پر زور دیا کہ وہ دینی تعلیم کے ساتھ طلبہ کی اخلاقی اصلاح، کردار سازی اور فکری تربیت کے لیے بھی مؤثر اور منظم نظام قائم کریں۔
مدارس کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ مدارس محض تعلیمی ادارے نہیں، بلکہ اسلام و ایمان کے محافظ اور مسلمانوں کی مذہبی شناخت کے امانت دار ہیں۔ ان اداروں کے تاریخی کردار کو مسخ کرنے اور ان کے خلاف منفی ماحول بنانے کی کوششیں افسوس ناک ہیں۔
انہوں نے دارالعلوم دیوبند کی تاریخی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم ادارے کے قیام کے بنیادی مقاصد میں دین کی حفاظت اور ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرانا شامل تھا۔ اس ادارے کے اکابر علماء نے تحریک آزادی میں تاریخی کردار ادا کیا، جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں اور ملک کی آزادی کے لیے قربانیاں پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد بھی دارالعلوم دیوبند نے دینی تعلیم و تربیت اور مذہبی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔ آج اس ادارے سے فارغ ہونے والے علماء دنیا کے مختلف حصوں میں دینی علوم کی اشاعت، سماجی اصلاح اور انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت اور مساجد، مدارس سمیت دیگر مذہبی اداروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ پہلے کی حکومتوں کے دور میں بھی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور ناانصافی کے واقعات پیش آتے رہے، لیکن ان کے مطابق موجودہ دور میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اسلام، ان کی تہذیب، مذہبی شناخت اور دینی اداروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مساجد اور مدارس کے خلاف کارروائیاں محض عمارتوں کا معاملہ نہیں، بلکہ اس سے مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو کمزور کرنے کی کوششوں کا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جو لوگ آج مساجد کو شہید کر رہے ہیں اور اسلام کی شناخت مٹانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن اسلام کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے خطاب میں مولانا مدنی نے سوویت یونین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک طویل عرصے تک مذہب، بالخصوص اسلام اور اس کی مذہبی علامتوں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ مساجد پر پابندیاں عائد کی گئیں اور مذہبی آزادی کو محدود کیا گیا، لیکن ان کوششوں کے باوجود مسلمانوں کے دلوں سے ایمان کو ختم نہیں کیا جا سکا۔
انہوں نے کہا کہ بالآخر سوویت یونین ٹوٹ گیا اور اس سے آزاد ہونے والے کئی ممالک میں آج مساجد آباد ہیں، اذانیں بلند ہوتی ہیں اور اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق تاریخ کا یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ حکومتیں اور سلطنتیں ختم ہو سکتی ہیں، لیکن طاقت کے زور پر کسی قوم کے ایمان اور عقیدے کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ ہندوستان کی فرقہ پرست طاقتوں کو بھی تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ مساجد کو گرا کر اسلام کو کمزور یا ختم کرنے کی سوچ حقیقت سے دور ہے۔
مولانا ارشد مدنی نے اپنے شرعی عقیدے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس جگہ ایک مرتبہ مسجد قائم ہو جاتی ہے، وہ قیامت تک مسجد رہتی ہے۔ اس کی عمارت کو گرایا جا سکتا ہے، لیکن اس کی شرعی حیثیت ختم نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ آج جو مساجد شہید کی جا رہی ہیں، ان شاء اللہ وہ ایک دن دوبارہ آباد ہوں گی اور وہاں پھر اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوں گی۔ اسلام کو مٹانے کی کوششیں تاریخ میں بارہا کی گئیں، لیکن اسلام کو ختم کرنے کا خواب دیکھنے والے خود تاریخ کا حصہ بن گئے۔
مولانا مدنی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات سے خوف زدہ یا مایوس نہ ہوں، بلکہ صبر، حوصلے، حکمت اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ گھر واپسی کے نعرے لگاتے ہیں، انہیں دوسروں کے ایمان کی فکر کرنے کے بجائے اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی تاریخ مایوسی کی نہیں، بلکہ صبر، قربانی اور ثابت قدمی کی تاریخ ہے۔ ظلم کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، آخرکار صبح ضرور ہوتی ہے۔
مولانا مدنی نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داری اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت، نئی نسل کی صحیح تعلیم و تربیت، دینی و تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے اور اتحاد، حکمت و استقامت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کی ہے۔
