تقریباً تین سے چار کروڑ روپے کی رقم یونیورسٹی کے کارپس فنڈ میں منتقل کیے جانے کا معاملہ، طلبہ کی مالی خودمختاری اور جمہوری حقوق پر اٹھے سنگین سوالات
رپورٹ: ایس منیر علی گڑھ۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں گزشتہ آٹھ برسوں سے اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات نہ ہونے کے باوجود طلبہ سے مسلسل یونین فیس وصول کیے جانے کا معاملہ اب ایک بڑے تنازعے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ جب آٹھ برس تک اسٹوڈنٹس یونین وجود میں ہی نہیں تھی تو طلبہ سے وصول کی گئی رقم کہاں رکھی گئی اور اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا؟ اب اس رقم کو یونیورسٹی کے مرکزی کارپس فنڈ میں منتقل کرنے کے فیصلے نے طلبہ کے مالی حقوق اور اسٹوڈنٹس یونین کی خودمختاری پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایک معروف انگریزی روزنامے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اے ایم یو میں طلبہ کی تعداد تقریباً 24 ہزار 500 ہے۔ اگر ہر طالب علم سے سالانہ 150 روپے یونین فیس وصول کی گئی ہو تو آٹھ برس میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 94 لاکھ روپے جمع ہوتے ہیں۔ بعض طلبہ کا دعویٰ ہے کہ یہ فیس بڑھا کر 200 روپے کر دی گئی تھی۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو آٹھ برس میں جمع ہونے والی رقم تقریباً 3 کروڑ 92 لاکھ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ اس طرح اسٹوڈنٹس یونین فنڈ میں تین سے چار کروڑ روپے تک جمع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم اصل رقم کی تصدیق یونیورسٹی کے سرکاری مالیاتی ریکارڈ سے ہی ممکن ہے۔
ایکیڈمک اور ایگزیکٹیو کونسل کے فیصلے پر سوالات
رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کی ایکیڈمک کونسل کے 30 جون 2026 کو منعقدہ اجلاس میں ایجنڈا نمبر 45 کے تحت ایک تجویز پیش کی گئی، جسے بعد ازاں 25 اگست 2026 کو ایگزیکٹیو کونسل کے اجلاس میں ایجنڈا نمبر 23 کے تحت منظوری دی گئی۔ اس تجویز میں اسٹوڈنٹس یونین کی غیر استعمال شدہ رقم (Unutilised Funds) کو یونیورسٹی کے کارپس فنڈ میں منتقل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ طلبہ سے جمع ہونے والی تین سے چار کروڑ روپے کی تخمینی رقم میں سے اب اسٹوڈنٹس یونین فنڈ میں صرف تقریباً 40 لاکھ روپے باقی رہ گئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اس رقم کو انتخابات اور آئندہ ایک سال کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ تاہم رقم کی منتقلی اور باقی ماندہ فنڈ کے بارے میں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے آنا ضروری ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جس رقم کو طلبہ نے اسٹوڈنٹس یونین کے مقاصد اور طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے جمع کرایا، اسے منتخب اسٹوڈنٹس یونین کی منظوری کے بغیر یونیورسٹی کے مرکزی کارپس فنڈ میں منتقل کرنے کا اختیار کس بنیاد پر استعمال کیا گیا؟
طلبہ کی منظوری کے بغیر فنڈ کی منتقلی پر اعتراض
ایگزیکٹیو کونسل کی قرارداد کے تیسرے نکتے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ غیر استعمال شدہ رقم کارپس فنڈ میں منتقل کی جائے گی۔ لیکن اس پورے عمل میں منتخب اسٹوڈنٹس یونین کی رضامندی حاصل کیے جانے کا کوئی ذکر سامنے نہیں آیا ہے۔
بعض سینئر طلبہ کا خیال ہے کہ گزشتہ آٹھ برسوں سے انتخابات نہ کرائے جانے اور اس دوران بڑی رقم جمع ہونے کے معاملے کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایگزیکٹیو کونسل کی منظوری کے فوراً بعد اسٹوڈنٹس یونین انتخابات کا اعلان ہونا محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کوئی دوسری وجہ ہے، یونیورسٹی انتظامیہ کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ منتخب ہونے والی اسٹوڈنٹس یونین کے نمائندوں کی پہلی ذمہ داری یونین فنڈ کو واپس بحال کرانا اور اس کے استعمال کا فیصلہ جمہوری طریقے سے کرنا ہونا چاہیے۔ اس رقم کو طلبہ کے لیے اسکالرشپ، معاشی طور پر کمزور طلبہ کی مدد اور دیگر فلاحی سرگرمیوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔
یونیورسٹی کے قوانین اور اختیارات پر قانونی سوالات
اس معاملے میں یونیورسٹی کے قوانین اور قانونی اختیارات کی تشریح پر بھی سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ایگزیکٹیو کونسل کی قرارداد میں اے ایم یو ایکٹ کے اسٹیچیوٹ 17(1)، 17(2)(v)، 17(2)(vi) اور آرڈیننس (ایگزیکٹیو) کے چیپٹر 1 کی شق 4 کا حوالہ دیا گیا ہے۔
تاہم قانونی اور انتظامی امور سے واقف بعض افراد کا کہنا ہے کہ ان دفعات کی بنیاد پر اسٹوڈنٹس یونین کی اپنی رقم کو یونیورسٹی کے مرکزی کارپس فنڈ میں منتقل کرنے کا جواز واضح نہیں ہے۔
اسٹیچیوٹ 17(1) کے تحت ایگزیکٹیو کونسل کو یونیورسٹی کی آمدنی اور انتظامی امور کے انتظام کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اسٹیچیوٹ 17(2)(v) یونیورسٹی کے مالیاتی معاملات کو منظم کرنے اور 17(2)(vi) یونیورسٹی کی ملکیت میں موجود رقم کی سرمایہ کاری سے متعلق ہے۔
اعتراض کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اسٹوڈنٹس یونین فنڈ کو یونیورسٹی کی عام آمدنی یا یونیورسٹی کی اپنی رقم تصور کرنا درست نہیں، کیونکہ یہ رقم طلبہ سے اسٹوڈنٹس یونین کے مقاصد کے لیے وصول کی گئی ہے۔
اسی طرح آرڈیننس (ایگزیکٹیو) کے چیپٹر 1 کی شق 4 میں ٹرسٹ فنڈ کا ذکر ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرسٹ فنڈ ایک ایسا قانونی اور مالیاتی انتظام ہوتا ہے جس میں کسی مستفید ہونے والے کے مفاد کے لیے اثاثوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ایسے میں اسٹوڈنٹس یونین فنڈ کو اس شق کے تحت لانے کی قانونی بنیاد بھی واضح ہونی چاہیے۔
یونیورسٹی کے ایک سینئر پروفیسر کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹیو کونسل کی قرارداد قابلِ اعتراض ہے، کیونکہ اس میں جن قانونی دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے، ان کا اسٹوڈنٹس یونین فنڈ کی منتقلی سے براہِ راست تعلق واضح نہیں ہوتا۔ انہوں نے فنڈ کی دوبارہ تقسیم (Reappropriation) کے معاملے میں یونیورسٹی کی فنانس کمیٹی کے کردار پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق ضروری قانونی اور مالیاتی طریقۂ کار پورا کیے بغیر اس طرح کا اقدام قانونی چیلنج کا سامنا کر سکتا ہے۔
طلبہ نے صدرِ جمہوریہ سے مداخلت کی تیاری شروع کی
اس فیصلے سے ناراض طلبہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کا یہ قدم طلبہ کی فلاح و بہبود، مالی خودمختاری اور جمہوری حقوق کے لیے تشویش ناک ہے۔
قانون کے طلبہ کا کہنا ہے کہ اسٹوڈنٹس یونین کی غیر استعمال شدہ رقم کو یونیورسٹی کے مرکزی کارپس فنڈ میں شامل کرنے کی پالیسی سے مستقبل میں منتخب نمائندوں کے اختیارات محدود ہو سکتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر دوبارہ انتخابات نہیں ہوئے تو اسٹوڈنٹس یونین فنڈ میں باقی رقم بھی کارپس فنڈ میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
کیمپس کے سرگرم طلبہ اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ کو اجتماعی عرضداشت بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ صدرِ جمہوریہ اے ایم یو کے وزیٹر بھی ہیں۔ طلبہ مطالبہ کرنا چاہتے ہیں کہ ایکیڈمک اور ایگزیکٹیو کونسل کی متنازعہ قرارداد کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے اور اگر یہ قواعد کے خلاف پائی جائے تو اسے منسوخ کیا جائے۔
طلبہ کا واضح موقف ہے کہ اسٹوڈنٹس یونین کی رقم طلبہ ہی کے مفاد میں استعمال ہونی چاہیے، نہ کہ ان کی جمہوری رضامندی کے بغیر اسے کسی دوسرے مالیاتی فنڈ میں منتقل کر دیا جائے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا اے ایم یو انتظامیہ اسٹوڈنٹس یونین فنڈ کی مکمل مالیاتی تفصیلات عوام کے سامنے رکھے گی؟ کیا رقم کی منتقلی کی قانونی بنیاد واضح کی جائے گی؟ اور کیا آئندہ انتخابات کے بعد منتخب نمائندوں کو اس فنڈ کے استعمال کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے گا؟
فی الحال یہ معاملہ اے ایم یو میں طلبہ کے مالی حقوق، اسٹوڈنٹس یونین کی خودمختاری اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جواب دہی سے جڑا ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب معلومات اور متعلقہ ذرائع پر مبنی ہے۔ کسی بھی دعوے یا الزام کی تصدیق متعلقہ سرکاری فریق سے کی جانی چاہیے۔
