سرینگر، 16 جولائی: جموں و کشمیر اردو کونسل کے زیرِ اہتمام امر سنگھ کلب، سرینگر میں سابق صدر ڈاکٹر جاوید اقبال کی علمی، ادبی، سماجی اور تنظیمی خدمات کے اعتراف میں ایک باوقار تعزیتی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ادیبوں، دانشوروں، اساتذہ، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور اردو زبان سے وابستہ ممتاز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے امان جاوید جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ امان مسعود نے پیش کی۔ کونسل کے صدر ایڈوکیٹ عبدالرشید ہانجورہ نے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ اردو کونسل ایک ہمہ گیر تحریک ہے جس کا مقصد معاشرے کے تمام طبقات کو یکجا کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں اردو زبان کا تحفظ اور فروغ یقینی بنانا ہے۔

تقریب کے مقررین نے ڈاکٹر جاوید اقبال کی ہمہ جہت شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ممتاز معالج ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین ادیب، دانشور، محقق، سماجی کارکن اور اردو زبان کے مخلص خادم تھے، جن کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
صدارتی خطاب میں خورشید احمد گنائی نے کہا کہ جو قوم اپنے محسنوں اور اسلاف کو فراموش کر دیتی ہے وہ ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے اردو زبان کو درپیش مسائل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سکولی سطح پر اردو کے فروغ کے لیے ہر سال سیمینار یا مباحثے کے انعقاد میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

سابق وائس چانسلر پروفیسر مشتاق احمد صدیقی نے کہا کہ اردو ہماری علمی و تہذیبی شناخت کا حصہ ہے، اس کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ مولانا شوکت حسین کینگ نے ڈاکٹر جاوید اقبال کو ایک صاحبِ بصیرت قلمکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریروں میں معاشرتی شعور نمایاں تھا۔
ڈاکٹر حفیظ مسعودی نے مرحوم کی علمی عظمت، متعدد زبانوں پر عبور، سادگی، انکساری اور انسان دوستی کو ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف قرار دیا، جبکہ مولانا اخضر حسین، جی این وار، شکیل قلندر، سید شمس الرحمان، سہیل سالم، سلیم سالک اور دیگر مقررین نے بھی ڈاکٹر جاوید اقبال کی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔
کونسل کے ترجمان جاوید کرمانی نے ڈاکٹر جاوید اقبال کی حیات و خدمات پر مبنی خصوصی سپاس نامہ پیش کیا، جبکہ شہباز ہاکباری نے ان کی زندگی اور علمی و ادبی خدمات پر تحقیقی مقالہ پیش کیا۔
تقریب کے دوران معروف شاعر فراق سوپوری کے شعری مجموعے “سرورِ جستجو” کی رسمِ رونمائی بھی انجام دی گئی، جبکہ کتاب پر تبصرہ ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی نے پیش کیا۔
اردو کونسل کے سیکرٹری مالیات صوفی علی محمد کو فریضۂ حج کی سعادت حاصل کرنے پر خصوصی طور پر اعزاز سے نوازا گیا۔
تقریب میں ناظم نذیر نے ڈاکٹر جاوید اقبال، امر مالموہی اور حالیہ دنوں انتقال کر جانے والی دیگر شخصیات کے لیے ماتمی قرارداد پیش کی، جسے شرکاء نے متفقہ طور پر منظور کیا۔
تقریب کی نظامت کونسل کے جنرل سیکرٹری جاوید ماٹجی نے انجام دی، جبکہ اعجاز احمد کوککر نے تحریکِ تشکر پیش کی۔
اس موقع پر پروفیسر ناصر مرزا، حسرت گڑھا، بشیر چراغ، شبیر ماٹجی، ڈاکٹر واحد رضا، آفتاب اندرابی، عرفانہ امین، روحی سلطانہ، پیر نجم الدین، سرور مقبول، بلال فرقانی، مجید ارجمند، اشرف حماد، محی الدین پوشپوری، خورشید قریشی، بلال احمد اور مرحوم ڈاکٹر جاوید اقبال کے اہلِ خانہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی موجود تھیں۔

