“ہائیکو فن اور روایت” کے موضوع پر ڈاکٹر احمد معراج کا کلیدی خطبہ
گیاجی، شعبہ اردوگیا کالج، گیا جی میںآج ایک پروقار توسیعی خطبے کا انعقاد کیا گیا، جس میں اردو شاعری کی مقبولِ عام صنف ’ہائیکو‘ کے تکنیکی و فنی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس تقریب میں کلیدی خطبہ معروف شاعر، ادیب اور اردو کے پہلے صاحبِ ہائیکو دیوان شاعر ڈاکٹر احمد معراج نے پیش کیا، جبکہ اجلاس کی صدارت مرزا غالب کالج، گیا جی کے شعبہ اردو کے استاد ڈاکٹر شبیر عالم نے کی۔
اپنے کلیدی خطبے میں ڈاکٹر احمد معراجنے ہائیکو کی فکری جہات ، ادبی روایت، عصری امکانات اور اردو شاعری میں اس کی اہمیت پر مدلل اور جامع گفتگو کی۔ ہائیکوکی فنی باریکیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہہائیکو بنیادی طور پر ایک جاپانی صنفِ سخن ہے۔ اس کے محض تین مصرعوں میں ایک مکمل خیال کو پیش کرنا قطعی آسان نہیں، بلکہ یہ ایجاز و اختصار کی متقاضی ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عروضی حد بندیوں کی وجہ سے اس صنف میں کھل کر بات نہیں کی جا سکتی، اس لیے رمزیت اور اشاریت کے بغیر ہائیکو کہنا مشکل ہے۔ تاہم، ان تمام پابندیوں کے باوجود، غزل کے شعروں کی طرح اس صنف میں بھی گہری اور بڑی بات کہنے کی بھرپور گنجائش موجود ہے۔

صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر شبیر عالمنے کہا کہ ہائیکو صنفِ سخن کی ایک انتہائی خوبصورت اور منفرد شکل ہے جو اصلاً جاپانی ادب سے اردو میں آئی ہے۔ اپنی سادگی، اختصار اور گہری معنویت کی بدولت یہ جدید اردو شاعری میں بے حد مقبول ہو چکی ہے۔ شعبہ اردو گیا کالج کی ادبی سرگرمیوں کی تعریف کرتے ہوۓ انہوں اس نوعیت کے علمی و ادبی پروگراموں کو اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ بچوں کی عملی شمولیت اور ان کی تربیت کے لیے شعبہ اردو، گیا کالج کی کاوشوں کو خوب سراہا اور قابل تقلید بتایا۔
پروگرام کے کنوینر اور گیا کالج کے صدرِ شعبہ اردوڈاکٹر محمد منہاج الدین نے ہائیکو کی ادبی اہمیت اور اردو ادب میں اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر احمد معراج جیسے نوجوان اور باصلاحیت شاعر کی جانب سے اس صنف میں طبع آزمائی کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ آج شعبہ اردو میں آپ کی پرمغز تقریر سے بچے بے حد محظوظ ہوئے ہیں۔ کلیدی خطبہ طالب علم کو نظر میں رکھ کر عام فہم الفاظ میں بڑے ہی سلیقے سے پیش کیا گیا جس سے بچوں نے خوب استفادہ کیا ہے اور ہم بجا طور پر یہ امید کرتے ہیں کہ ہماری نئی نسل ہائیکو کو موضوع بنا کر تحقیق و تنقید کی طرف مائل ہوگی۔
پروگرام کے دوسرے حصے میں مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا۔ اس نشست میں جہاں شعبہ کے طلبہ و طالبات میں آرزو پروین، محمد چاند آفتاب، ناظرہ خاتون، اظہر حسین، علیشہ ملک، انس پرویز ، مہ جبیں نے اردو کے اہم اور نامور شعراءکے کلام پیش کیے وہیں ڈاکٹر احمد معراج اورڈاکٹر شبیر عالم نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔
مہمان شعراء کے کلام کا نمونہ درج ذیل ہے
چاہے منزل ملے نہ ملےمجھ کو
چلنا ہے، چل رہا ہوں میں
میاں یہ بوجھ ہے احسان کا بوجھ
اگر ہلکا بھی ہے، بھاری بہت ہے
مجھ کو سورج کہا تھا ماں نے کبھی
آج تک جل رہے ہیں سب مجھ سے
(احمد معراج)
وہ ایک چہرہ ہماری نظر میں رہتا ہے
اسی کا حسن تو شام و سحر میں رہتا ہے
لہو، لہو سے الگ ہو یہ کب ہوا ممکن
پدر کا رنگ ہمیشہ پسر پہ رہتا ہے
(شبیر عالم)
پروگرام کی نظامت کے فرائض ایم اے (سمسٹر سوم) کی طالبہ علیشا ملکنے نہایت ہی خوبصورت اور دلکش انداز میں انجام دیے۔ اظہار تشکر کی رسم ادا کرتے ہو ٔے شعبہ اردو ، بی اے سمسٹر پنجم کے طالب علم محمدانس احمدنے تمام معزز مہمانوں، اساتذہ کرام اور تشریف فرما طلبہ و طالبات کا شکریہ ادا کیا۔تقریب کا اختتام قومی ترانہ جن گن من۔۔۔۔۔ کی پیشکش کے ساتھ ہوا۔

