“تعلیمی اداروں کو تنازعات نہیں، تحفظ کی ضرورت ہے”
رپورٹ: ایس منیر
علی گڑھ: مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور میں جاری طلبہ احتجاج کو اس وقت مزید تقویت ملی جب سابق صدر اے ایم یو طلبہ یونین اور کانگریس رہنما ڈاکٹر محمد سلمان امتیاز کی قیادت میں علی گڑھ سے ایک نمائندہ وفد احتجاجی مقام پر پہنچا۔ وفد نے طلبہ سے ملاقات کر کے ان کی پرامن جدوجہد کو سراہا، مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی اداروں کے تحفظ کی ہر آواز میں وہ برابر کے شریک رہیں گے۔
وفد نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ظہیر الدین سے بھی تفصیلی ملاقات کی۔ وائس چانسلر نے یونیورسٹی سے متعلق قانونی معاملات اور موجودہ صورتحال پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نازک وقت میں مختلف حلقوں کی اخلاقی حمایت نہ صرف طلبہ بلکہ پورے ادارے کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
ڈاکٹر سلمان امتیاز نے الزام عائد کیا کہ رام پور انتظامیہ نے علی گڑھ سے آنے والے وفد کو یونیورسٹی پہنچنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ان کے مطابق مختلف راستوں پر بیریکیڈنگ کر کے آمد و رفت محدود کی گئی، تاہم تمام رکاوٹوں کے باوجود وفد یونیورسٹی پہنچنے میں کامیاب رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر کسی سیاسی سرگرمی سے زیادہ ایک تعلیمی ادارے کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی علامت تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر اتر پردیش کانگریس کے انچارج راجیندر پال گوتم بھی رام پور پہنچے، جبکہ ریاست کے مختلف اضلاع سے کانگریس کے متعدد رہنما احتجاج میں شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ ملک کی مختلف مرکزی جامعات کے طلبہ یونین صدور اور نمائندوں نے بھی احتجاجی مقام پر پہنچ کر جوہر یونیورسٹی کے طلبہ کی حمایت کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف تعلیمی اداروں سے آنے والے نمائندوں کی موجودگی نے طلبہ کے حوصلے بلند کیے اور یہ پیغام دیا کہ ان کی آواز اب مقامی نہیں بلکہ قومی سطح پر سنی جا رہی ہے۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر سلمان امتیاز نے کہا کہ جوہر یونیورسٹی کے طلبہ نے جس حوصلے، استقامت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، وہ پورے ملک کے طلبہ کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی جامعات میں احتجاج ایک معمول کی بات ہو سکتی ہے، لیکن کسی نجی یونیورسٹی کے طلبہ کا اپنے ادارے کے وجود اور مستقبل کے تحفظ کے لیے اس جذبے کے ساتھ میدان میں آنا غیر معمولی امر ہے۔ ان کے مطابق یہ احتجاج صرف ایک مسئلے تک محدود نہیں بلکہ اپنے تعلیمی ادارے کی بقا اور مستقبل کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے خوابوں، امیدوں اور اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کی علامت ہے۔ ایسے اداروں کا تحفظ پوری سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مضبوط تعلیمی ادارے ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں، اس لیے اختلافات خواہ کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، تعلیم کے مفاد کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جانی چاہیے اور ہر تنازع کا حل قانون اور آئین کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر سلمان امتیاز نے سابق وزیر اعظم خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے کہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں ایک ایسا تعلیمی ادارہ قائم کیا، جس کے تحفظ کے لیے آج صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی کھل کر ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق یہی کسی ادارے کی اصل کامیابی ہے کہ وہ مذہب، ذات اور سیاست کی حدوں سے بلند ہو کر معاشرے کی مشترکہ میراث بن جائے۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اعظم خان کی اس تعلیمی خدمت کو قبول فرمائے، انہیں صحت و عافیت عطا کرے اور ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔ ساتھ ہی انہوں نے یقین دلایا کہ علی گڑھ کا ہر طالب علم اپنی استطاعت کے مطابق اس ادارے کے تحفظ اور بقا کی آواز بلند کرتا رہے گا اور تعلیم کے فروغ کے لیے ہر ممکن مثبت کردار ادا کرے گا۔

