ایک نوٹس میں اردو شامل نہ کیے جانے پر اردو حلقوں میں تشویش
رپورٹ ۔ ایس منیر
علی گڑھ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اردو زبان کے ساتھ مبینہ بے اعتنائی کا ایک اور واقعہ سامنے آنا محض ایک نوٹس سے اردو کے غائب ہونے کا معاملہ نہیں، بلکہ اس نے یونیورسٹی کی شناخت، تاریخ اور تہذیبی وراثت سے جڑے کئی سنگین سوالات کو پھر زندہ کر دیا ہے۔ جوائنٹ رجسٹرار ایم سرور اطہر کے دستخط سے جاری نوٹس میں اردو زبان کو جگہ نہ ملنے پر اردو حلقوں میں تشویش اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ محبان اردو نے مختلف ذرائع سے یونیورسٹی کی پہلی خاتون وائس چانسلر نعیمہ خاتون کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرائی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایک نوٹس میں اردو کیوں نہیں لکھی گئی، سوال یہ ہے کہ جس ادارے کی علمی اور تہذیبی شناخت اردو اور برصغیر کی مشترکہ علمی روایت سے گہری وابستگی میں پروان چڑھی، اسی ادارے کے سرکاری نوٹس سے اردو کو آخر کیسے غائب کر دیا گیا؟ کیا اردو اب محض ایک زبان رہ گئی ہے یا اس ادارے کی تاریخ اور شناخت کا وہ حصہ بھی ہے جسے انتظامی غفلت کے باعث نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ سر سید کی فکر سے وابستہ اس تاریخی درس گاہ میں اردو کی عدم موجودگی نے اسی لیے محبان اردو کے دلوں میں تشویش پیدا کی ہے اور انتظامیہ کی پالیسی، ترجیحات اور جواب دہی پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ماضی میں یونیورسٹی میں اردو زبان کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے سابق رجسٹرار عبدالحمید کی جانب سے ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ اس میں یونیورسٹی کے تمام لیٹر ہیڈ پر تینوں زبانوں، اردو، ہندی اور انگریزی کے استعمال کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود اگر موجودہ دور میں یونیورسٹی کا کوئی اہم نوٹس اردو کے بغیر جاری ہوتا ہے تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر انتظامیہ کے اپنے جاری کردہ احکامات پر عمل کون کرائے گا؟ کیا یونیورسٹی کے افسران کو اپنے ہی ادارے کے سابق احکامات کی کوئی پروا نہیں؟ اگر ایک باقاعدہ حکم کے باوجود اردو کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے تو پھر اس حکم کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ پر اردو کو مسلسل نظر انداز کیے جانے کے الزامات ماضی میں بھی لگتے رہے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کیا جاتا رہا ہے اور اردو کے فروغ اور استعمال کے لیے مختلف اقدامات کا حوالہ بھی دیا جاتا رہا ہے، لیکن اس کے باوجود وقتا فوقتا ایسے معاملات سامنے آتے رہے ہیں جنہیں اردو کے ساتھ مبینہ نظراندازی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ موجودہ نوٹس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر انتظامیہ واقعی اردو کو برابر کا مقام دینے کے لیے سنجیدہ ہے تو پھر اس طرح کی کوتاہیاں بار بار کیوں سامنے آ رہی ہیں؟
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یونیورسٹی کے بعض عہدے دار موجودہ انتظامیہ کو کمزور سمجھ کر اپنی مرضی سے فیصلے یا کارروائیاں کر رہے ہیں؟ کیا انہیں یہ یقین ہو گیا ہے کہ یونیورسٹی کے ضابطوں اور احکامات کی خلاف ورزی کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ غفلت بار بار کیوں دہرائی جا رہی ہے؟ کیا نوٹس جاری کرنے سے پہلے اس کی زبان اور فارمیٹ کی جانچ کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں؟ اگر نظام موجود ہے تو اس کی نگرانی کون کرتا ہے اور اس کی جواب دہی کس کی ہے؟
یہ سوال بھی اہم ہے کہ جانے انجانے میں ہونے والی ایسی غلطیوں کا خمیازہ آخر یونیورسٹی کی ساکھ کو کیوں بھگتنا پڑے؟ ایک معمولی انتظامی کوتاہی سمجھ کر اگر اردو کو بار بار نظر انداز کیا جاتا رہا تو کیا اس سے ملک اور بیرون ملک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے متعلق غلط تاثر پیدا نہیں ہوگا؟ کیا ایک تاریخی اور مرکزی یونیورسٹی سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ اپنی زبانوں اور تہذیبی وراثت کے معاملے میں معمولی سی غفلت کی بھی گنجائش نہ رکھے؟
اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ برصغیر کی علمی، ادبی اور تہذیبی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ جنگ آزادی کے دوران اردو صحافت، شاعری، تحریروں اور عوامی بیداری نے اہم کردار ادا کیا۔ آزادی کی تحریک کے پیغام کو عام کرنے اور لوگوں میں سیاسی و سماجی شعور پیدا کرنے میں اردو اخبارات اور اہل قلم کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے میں ایک تاریخی تعلیمی ادارے میں اردو کی موجودگی محض رسمی تقاضا نہیں بلکہ اس کی تاریخی ذمہ داری اور تہذیبی شناخت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
خود سر سید احمد خان اردو زبان کو بے حد عزیز رکھتے تھے۔ انہوں نے اردو کو علمی اور فکری اظہار کا اہم ذریعہ بنایا اور اپنی تحریروں اور صحافتی سرگرمیوں کے ذریعے اس زبان کو نئی سمت دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ علی گڑھ تحریک کی فکری بنیادوں میں اردو کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایسے ادارے میں، جو سر سید کی فکر اور علی گڑھ تحریک کی علامت سمجھا جاتا ہے، اگر کسی سرکاری نوٹس سے اردو غائب ہو جائے تو اس پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔
اب توجہ کا مرکز یونیورسٹی کی پہلی خاتون وائس چانسلر نعیمہ خاتون ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس معاملے کا نوٹس لے کر معلوم کریں گی کہ اردو کو نوٹس سے کس بنیاد پر خارج کیا گیا؟ کیا ذمہ دار افسر سے جواب طلب کیا جائے گا؟ کیا مستقبل میں ایسے کسی نوٹس کو اردو، ہندی اور انگریزی تینوں زبانوں کے استعمال کے سابق حکم کے مطابق جاری کرنے کی پابندی یقینی بنائی جائے گی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا انتظامیہ یہ واضح کرے گی کہ یونیورسٹی میں اردو کے مقام کے حوالے سے اس کی عملی پالیسی کیا ہے؟
یہ معاملہ کسی ایک نوٹس تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسلم یونیورسٹی اپنی تاریخی زبان اور تہذیبی وراثت کے تحفظ کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟ اگر ہاں، تو پھر بار بار سامنے آنے والی ایسی شکایات اور مثالوں کا مستقل حل کیوں نہیں نکالا جا رہا؟ اور اگر اردو کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا تو پھر اردو سے متعلق اعتراضات اور سوالات بار بار کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟ یونیورسٹی انتظامیہ کو اب محض یہ کہہ کر معاملہ ختم کرنے کے بجائے کہ اردو کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا، عملی طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اردو، ہندی اور انگریزی کے استعمال سے متعلق اس کے اپنے احکامات پر مکمل عمل ہو رہا ہے۔ کیونکہ سر سید کی سرزمین پر اردو کے احترام کا تقاضا صرف الفاظ نہیں بلکہ عمل بھی ہے۔
وہیں یونیورسٹی کے سرکاری نوٹس میں اردو زبان کو نظر انداز کیے جانے پراردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن مظفرنگر نے سخت تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ سے اردو زبان کو اس کا جائز مقام دینے اور سابقہ احکامات پر فوری طور پر عمل درآمد کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے ضلع صدر کلیم تیاگی نے کہا کہ یونیورسٹی کے جوائنٹ رجسٹرار ایم سرور اطہر کے دستخط سے جاری ہونے والے حالیہ نوٹس میں اردو زبان کو شامل نہ کیا جانا انتہائی افسوسناک ہے۔ ایک طرف یونیورسٹی کی جانب سے اردو زبان کے فروغ اور استعمال کے حوالے سے احکامات جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف خود یونیورسٹی کے بعض سرکاری مراسلات میں اردو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ کلیم تیاگی نے یونیورسٹی کی پہلی خاتون وائس چانسلر نعیمہ خاتون (علیگ) سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران سے وضاحت طلب کریں اور یونیورسٹی کے تمام سرکاری نوٹس، لیٹر ہیڈز اور مراسلات میں اردو کے استعمال کو یقینی بنائیں۔
