ڈاکٹر اعجاز پاپولر میرٹھی
بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی شناخت ان کے عہدے، شہرت یا منصب سے نہیں بلکہ ان کے کردار، اخلاق، علم اور انسان دوستی سے قائم ہوتی ہے۔ وہ جہاں بھی ہوتے ہیں، اپنے گرد محبت، اعتماد اور اخلاص کی ایسی فضا قائم کر دیتے ہیں کہ لوگ مدتوں انہیں یاد رکھتے ہیں۔ ان کی موجودگی اداروں کے وقار میں اضافہ کرتی ہے اور ان کی شخصیت نئی نسل کے لیے ایک روشن مثال بن جاتی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ممتاز استاد پروفیسر محمد رحمت اللہ ایسی ہی باوقار اور باکردار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تحقیق، تدریس اور میڈیا کی دنیا کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا اے جے کے ماس کمیونیکیشن ریسرچ سینٹر (AJK-MCRC) ملک کا ایک ایسا معتبر ادارہ ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں میں صحافت، فلم سازی، ریڈیو، ٹیلی ویژن، ڈیجیٹل میڈیا اور ابلاغِ عامہ کے میدان میں بے شمار ممتاز شخصیات پیدا کی ہیں۔ اس ادارے کی کامیابی کے پس منظر میں جن اساتذہ کی محنت، بصیرت اور رہنمائی شامل ہے، ان میں پروفیسر محمد رحمت اللہ کا نام نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف درس و تدریس کی ذمہ داریوں کو بہترین انداز میں نبھایا بلکہ ادارے کی علمی روایت کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
پروفیسر محمد رحمت اللہ میڈیا پروڈکشن، ویڈیو پروڈکشن، اسکرپٹ رائٹنگ، ڈاکیومنٹری فلم سازی، میڈیا ریسرچ اور میڈیا کلچر جیسے اہم شعبوں کے ماہر ہیں۔ ان کی تدریس کا انداز ہمیشہ طلبہ میں تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرنے والا رہا ہے۔ وہ محض نصابی اسباق پڑھانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اپنے شاگردوں کو یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ایک ذمہ دار میڈیا کارکن سماج کی تعمیر میں کس طرح مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد آج ملک اور بیرونِ ملک کے ممتاز ٹیلی ویژن اداروں، فلمی صنعت، نیوز چینلز، ڈیجیٹل پلیٹ فارموں اور جامعات میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تحقیق کے میدان میں بھی ان کی خدمات نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے متعدد تحقیقی منصوبوں کی نگرانی کی، بے شمار پی ایچ ڈی اسکالرز کی رہنمائی کی اور میڈیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر سنجیدہ علمی مباحث کو فروغ دیا۔ ان کی علمی بصیرت، تحقیقی دیانت اور رہنمائی نے کئی نوجوان محققین کو نئی راہیں دکھائیں۔ ان کا یقین ہے کہ میڈیا محض اطلاعات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب، ثقافت، سماجی شعور اور قومی کردار کی تشکیل کا ایک طاقتور وسیلہ ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مختلف انتظامی کمیٹیوں میں بھی انہوں نے نہایت ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ نصاب کی تشکیل، عملی تربیت، تکنیکی سہولیات کی بہتری اور تعلیمی منصوبہ بندی میں ان کی رائے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی گئی۔ انہوں نے ریڈیو، ٹیلی ویژن اور آڈیو ویژول تعلیم سے متعلق کئی منصوبوں کی تیاری اور نفاذ میں نمایاں کردار ادا کیا، جس کے مثبت اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ان کی علمی خدمات کا دائرہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں رہا۔ انہیں مختلف بین الاقوامی علمی اور میڈیا کانفرنسوں، ورکشاپس اور سیمیناروں میں شرکت اور جامعہ کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔ کویت، متحدہ عرب امارات، عراق، نیپال اور آذربائیجان سمیت کئی ممالک کے دوروں نے ان کے تجربات کو مزید وسعت بخشی۔ وہ عالمی میڈیا رجحانات کو ہندوستانی تناظر میں سمجھنے اور اپنے طلبہ تک منتقل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
اگر ان کی شخصیت کے انسانی پہلو کی بات کی جائے تو وہ شاید ان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ میں نے اپنی ادبی زندگی میں بے شمار اساتذہ، دانشوروں اور اہلِ قلم سے ملاقاتیں کی ہیں، مگر پروفیسر محمد رحمت اللہ کی شگفتگی، انکساری، خلوص اور ملنساری ہمیشہ دل کو متاثر کرتی رہی ہے۔ ان سے میری ملاقاتیں مختلف مشاعروں، ادبی سیمیناروں، کتابوں کی رونمائی کی تقریبات اور علمی نشستوں میں ہوتی رہی ہیں۔ ہر ملاقات میں ان کے چہرے کی مسکراہٹ، لہجے کی شائستگی اور گفتگو کی مٹھاس نے یہی احساس دلایا کہ بڑے انسان ہمیشہ اپنے اخلاق سے پہچانے جاتے ہیں۔
وہ نہایت سادہ مزاج، بے تکلف اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ شہرت اور علمی مقام کے باوجود ان میں غرور کا شائبہ تک نہیں۔ وہ ہر چھوٹے بڑے سے احترام کے ساتھ ملتے ہیں اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتے۔ ان کی مجلس میں بیٹھ کر محسوس ہوتا ہے کہ علم جب اخلاق سے آراستہ ہو جائے تو شخصیت خود بخود پرکشش بن جاتی ہے۔
ادب اور ثقافت سے ان کی گہری وابستگی بھی قابلِ ذکر ہے۔ اگرچہ ان کی بنیادی شناخت ایک میڈیا ماہر اور استاد کی ہے، لیکن وہ ادبی سرگرمیوں میں بھی بھرپور دلچسپی لیتے ہیں۔ مشاعروں اور علمی مجالس میں ان کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ فنونِ لطیفہ اور ادب کو سماج کی روح سمجھتے ہیں۔ وہ اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور نئی نسل میں مطالعے، تخلیق اور مثبت فکر کا ذوق پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آج جب تعلیم کا مقصد اکثر صرف ڈگری اور ملازمت تک محدود ہوتا جا رہا ہے، ایسے میں پروفیسر محمد رحمت اللہ جیسے اساتذہ امید کی ایک روشن کرن ہیں۔ وہ اپنے شاگردوں کو صرف پیشہ ورانہ مہارت ہی نہیں دیتے بلکہ دیانت، ذمہ داری، برداشت، اخلاق اور انسانیت کا سبق بھی سکھاتے ہیں۔ یہی اوصاف ایک استاد کو محض استاد نہیں بلکہ معمارِ قوم بناتے ہیں۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پروفیسر محمد رحمت اللہ کو صحت، عافیت، عزت، خوشیاں اور درازیٔ عمر عطا فرمائے، ان کی علمی، تحقیقی اور تدریسی خدمات کو مزید قبولیت بخشے، اور انہیں اسی اخلاص، محبت اور وقار کے ساتھ آنے والی نسلوں کی رہنمائی کی توفیق عطا فرمائے۔
بلاشبہ پروفیسر محمد رحمت اللہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا ایک قیمتی سرمایہ، ہندوستانی میڈیا تعلیم کا معتبر حوالہ اور ان گنے چنے اساتذہ میں شامل ہیں جن کی شخصیت علم کی روشنی، کردار کی خوشبو اور انسان دوستی کی حرارت سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ایسے لوگ وقت گزرنے کے ساتھ فراموش نہیں ہوتے بلکہ اپنے شاگردوں، دوستوں اور چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، اور یہی کسی بھی معلم کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے

ڈاکٹر اعجاز پاپولر میرٹھی ۔
