مشکل وقت میں بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا؛ دونوں ممالک فطری دوست ہیں: نیتائی بین حائم
نئی دہلی، راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ نے نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر جنگِ حائفہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بھارتی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ تقریب کا آغاز قومی گیت سے ہوا، جس کے بعد بہادر فوجیوں کی یاد میں قائم یادگاری ستونوں پر پھول چڑھائے گئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ کے سرپرستِ اعلیٰ اور آر ایس ایس کی قومی مجلس عاملہ کے رکن ڈاکٹر اندریش کمار نے کہا کہ آنے والے برسوں میں تین مورتی حائفہ چوک دنیا کی اہم زیارت گاہوں میں سے ایک بن جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اس مقام پر ایک عظیم الشان سالانہ میلے کا انعقاد ہوگا، جس میں دنیا بھر سے لوگ شرکت کریں گے۔
ڈاکٹر اندریش کمار نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ عالمی امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور حائفہ کی آزادی میں بھارتی فوجیوں کی قربانی بھی اسی جذبۂ امن کی عکاس تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ محدود وسائل کے باوجود بھارتی فوجیوں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتح حاصل کی اور امن کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان بہادر فوجیوں کی یاد میں وزیراعظم نریندر مودی نے 2018 میں تین مورتی چوک کا نام تبدیل کرکے تین مورتی حائفہ چوک رکھا۔ اس کے بعد سے راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ ہر سال 23 ستمبر کو حائفہ فتح دن مناتا ہے۔
ڈاکٹر اندریش کمار نے تقریب کے منتظمین، جن میں میجر جنرل سریش بھٹاچاریہ، پروگرام کوآرڈینیٹر و قومی سکریٹری راجیش مہاجن، ابھے کمار تائیل، کِسلے مشرا، نوین چوہان، ڈاکٹر محمد افسر ، جتیندر چھابڑا اور راجیب مکھوپادھیائے شامل تھے، کی کاوشوں کو سراہا۔
بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر اندریش کمار نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے درپیش مشترکہ چیلنجز کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے بھارت کو امن، ہم آہنگی اور جمہوری اقدار کی سرزمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ سناتن، بدھ، سکھ اور جین روایات نے دنیا کو امن اور بھائی چارے کا پیغام دیا ہے۔
مشترکہ چیلنجز سے مضبوط ہوئی بھارت-اسرائیل دوستی
اسرائیلی سفارت خانے کے سیاسی مشیر نیتائی بین حائم نے یادگاری تقریب کے انعقاد پر راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اسرائیل نے ہمیشہ بھارت کو اپنا دوست سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل وقت میں بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
بین حائم نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل دنیا کی قدیم تہذیبوں میں شمار ہوتے ہیں اور دونوں ممالک کو متعدد مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے سائنس، ٹیکنالوجی، زراعت، سلامتی اور تزویراتی امور سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا ذکر کیا اور کہا کہ مشترکہ چیلنجز اور باہمی تعاون نے دونوں ممالک کو مزید قریب لایا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل اے ایس لامبا، قومی ورکنگ صدر، راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ، نے اپنے فوجی تجربات بیان کرتے ہوئے بھارت-اسرائیل تعلقات کو دیرپا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات جغرافیائی حدود سے بالاتر ہیں اور دونوں ممالک نے وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کو اخلاقی، تزویراتی اور نفسیاتی تعاون فراہم کیا ہے۔
کرن چوپڑا، چیئرپرسن اور منیجنگ ڈائریکٹر، پنجاب کیسری، نے کہا کہ انہیں ان خاندانوں کا حصہ ہونے پر فخر ہے جنہوں نے ملک کے لیے قربانیاں دیں۔ شہید فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تقریبات نئی نسل کو ان کے آباؤ اجداد کی قربانیوں سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر اندریش کمار کی قیادت میں منعقد ہونے والی سالانہ یادگاری تقریبات نہ صرف بہادر فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں بلکہ نوجوان نسل کو ان کی قربانیوں کے بارے میں آگاہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر اندریش کمار کو موجودہ دور کی نمایاں شخصیات میں شمار کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔
سردار جسویر سنگھ، قومی ورکنگ صدر، راشٹریہ سرکشا جاگرن منچ، نے افتتاحی خطاب کیا اور بھارتی فوجیوں کی بہادری اور حائفہ کی فتح میں ان کے کردار کو اجاگر کیا۔
دہلی چیپٹر کے صدر میجر جنرل سریش بھٹاچاریہ نے اظہارِ تشکر پیش کیا، جبکہ محترمہ ویشالی بھاٹیہ نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
تقریب میں متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی، جن میں گولوک بہاری رائے، وکرمادتیہ سنگھ، پروفیسر ڈاکٹر گرمیت سنگھ، ایڈووکیٹ ارون کمار، پروفیسر شواجی سرکار، پروفیسر ایم رحمت اللہ، ڈاکٹر ترون گرگ، ڈاکٹر وویک، راجپال سنگھ، گوپال سنگھ، رام نواس، آچاریہ یشی پھونٹسوک، ڈاکٹر اشوک کمار اور میانک شیکھر سمیت دیگر شخصیات شامل تھیں۔
تقریب کا اختتام قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔
