یتیموں کی کفالت ان کی زندگی کا اولین مشن تھا
نئی دہلی : ممتاز عالمِ دین، ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن کے کے مامونی مولوی کا کیرالہ میں انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کو سماج اور بالخصوص ان تمام افراد کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے جو ان کی زندگی بھر کی خدمت، رہنمائی اور فلاحی سرگرمیوں سے متاثر ہوئے۔
یہ اطلاع ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن کے سی ای او نوفل پی کے نے دی ہے. انہوں نے کہا کہ کے کے مامونی مولوی نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی۔ وہ ملک بھر کے پسماندہ اور محروم طبقات کی جامع ترقی اور بااختیار بنانے کے لیے خصوصی طور پر سرگرم رہے۔
وہ VISION 2026 کے سینئر رہنماؤں میں شامل تھے اور بالخصوص شمالی ہندوستان میں سیکڑوں فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل اور عمل درآمد میں اہم کردار ادا کیا۔
وہ ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن (HWF) کے ٹرسٹی اور وائس چیئرمین کے علاوہ اس کے سرپرست بھی رہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ سہولت مائیکرو فنانس اور سوسائٹی فار برائٹ فیوچر کے بورڈ ممبر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔
تعلیم، صحت، کمیونٹی ڈیولپمنٹ، یتیم بچوں کی کفالت، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی امداد سمیت متعدد شعبوں میں انہوں نے اپنی بصیرت، تجربے اور رہنمائی کے ذریعے اہم خدمات انجام دیں۔
یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت سے انہیں خصوصی دلچسپی تھی۔ وہ سیکڑوں یتیم بچوں کے لیے ایک مربی، سرپرست اور رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی حوصلہ افزائی اور تعاون سے متعدد بچوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور زندگی میں باوقار مقام حاصل کیا۔
مامونی مولوی صرف منصوبوں کی نگرانی تک محدود نہیں رہتے تھے بلکہ زمینی سطح پر جاری فلاحی سرگرمیوں سے بھی مسلسل جڑے رہتے تھے۔ وہ مختلف پروجیکٹ علاقوں کا دورہ کرتے، مستفیدین سے براہِ راست ملاقات کرتے اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کے لیے خدمت محض ایک ادارہ جاتی سرگرمی نہیں بلکہ انسانوں کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لانے کا ذریعہ تھی۔
انہوں نے متعدد سماجی کارکنوں، رضاکاروں اور اداروں کی رہنمائی کی اور انہیں خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دی۔
کے کے مامونی مولوی اپنے پیچھے خدمت، تعلیم، انسان دوستی، شفقت اور انسانی یکجہتی کی ایک پائیدار میراث چھوڑ گئے ہیں۔ ان کی بصیرت، رہنمائی اور بے لوث خدمات VISION 2026 اور ان سے وابستہ دیگر اداروں کے سفر کا مستقل حصہ رہیں گی۔
ان کے انتقال پر ان کے رفقا، سماجی کارکنوں، ماہرینِ تعلیم، کمیونٹی رہنماؤں اور ان سے مستفید ہونے والے افراد نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ان کی کمی ان تمام لوگوں کو شدت سے محسوس ہوگی جنہیں ان کے ساتھ کام کرنے، ان کی رہنمائی حاصل کرنے یا ان کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، رفقا، دوستوں اور تمام سوگواروں کو صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین۔
جاری کردہ
میڈیا ڈپارٹمنٹ، وژن 2026 نئی دہلی
