سماج وادی پارٹی کا ASI دفتر پر احتجاج، بندروں کے حملوں اور بنیادی سہولیات کی بدحالی پر تشویش
آگرہ: سماج وادی پارٹی کے قومی صدر و سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی ہدایت پر سماج وادی پارٹی عظیم شہر آگرہ کی جانب سے تاج محل میں بدانتظامی، سیاحوں کی سلامتی، بندروں کے بڑھتے ہوئے حملوں اور بنیادی سہولیات کی کمی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ عظیم شہر صدر شبیر عباس کی قیادت میں پارٹی کارکنان نے مال روڈ واقع محکمہ آثار قدیمہ ہند (ASI) کے منڈل دفتر کا گھیراؤ کرکے دھرنا دیا۔
پھول سید چوراہے سے پارٹی کارکنان ڈھول نگاڑوں اور پارٹی پرچموں کے ساتھ جلوس کی شکل میں ASI دفتر پہنچے۔ اس دوران ’’پوچھتا ہے آگرہ، جواب دو ASI‘‘ اور ’’تاج محل بچاؤ، سیاحوں کو تحفظ دو‘‘ سمیت مختلف نعرے لگائے گئے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ صدر جمہوریہ کے نام تیار کیا گیا میمورنڈم وصول کرنے کے لیے ASI کا کوئی افسر باہر نہیں آیا۔ اس دوران دفتر کا مرکزی دروازہ بند کردیا گیا اور پولیس فورس بھی تعینات کی گئی۔ کارکنان نے دفتر کے مرکزی دروازے پر دھرنا دے کر احتجاج کیا۔
احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شبیر عباس نے کہا کہ تاج محل ہندوستان کی شناخت اور عالمی ورثہ ہے، لیکن یہاں سیاحوں کو پینے کا صاف پانی، طبی امداد، مناسب بیت الخلاء اور مؤثر حفاظتی انتظامات جیسی بنیادی سہولیات کا سامنا ہے۔ انہوں نے تاج محل احاطے میں بندروں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔
شبیر عباس نے مطالبہ کیا کہ آگرہ کے شہریوں کے لیے ماہ میں کم از کم ایک دن تاج محل میں مفت داخلے کا انتظام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تاج محل آگرہ کی عوام کی تاریخی وراثت ہے اور مقامی شہریوں کو اسے دیکھنے کے لیے ہر بار ٹکٹ خریدنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
صدر جمہوریہ کے نام بھیجے گئے میمورنڈم میں تاج محل کی دیکھ بھال پر گزشتہ پانچ برسوں میں خرچ ہونے والی رقم کی شفاف تحقیقات، ٹینڈروں اور اخراجات کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھنے، بندروں سے سیاحوں کے تحفظ کے لیے مستقل انتظامات، صاف و ٹھنڈے پینے کے پانی، 24 گھنٹے طبی سہولت اور فرسٹ ایڈ، تربیت یافتہ طبی عملے ٹرانس جینڈر سیاحوں کے لیے مناسب بیت الخلاء سمیت دیگر مطالبات کیے گئے۔

شبیر عباس نے کہا کہ اگر ASI اور مرکزی حکومت نے مطالبات پر جلد کارروائی نہیں کی تو سماج وادی پارٹی کی جانب سے مرحلہ وار احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
احتجاج میں راہل چترویدی، ممتا ٹپلو، روی مہرا، بلبندر سنگھ جاٹو، راہل چودھری، ڈاکٹر ببلو والمیکی، فرخ سیر، ضیا چودھری، امیر سنگھ فوجدار، نیرج کانت، ہرش دھاکڑ، عمران قریشی، اوم پنڈت، شیام بھوجوانی، نتن ورما، نریندر سنگھ نند، جمیل خان، جمیل صدیقی، عقیل عباس، عرفان عثمانی، راجیو سویتہ، آشو دلارے، منّا خان علوی، پرینکا چوہان، گڈی بھارتی، پونم والمیکی، یامین منصوری، عزیز خان، رمیش یادو، عمران عباس، ظفر قریشی، ناصر عباس، سومیش گپتا، رگھو یادو، ہریش پرجاپتی، فیہم عثمانی، سریش کردَم، راشد میو، چراغ تومر، وپن یادو، ممتا شرما، منّی بیگم، روبی جادون، لَوِش یادو اور سراج عباس سمیت بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان موجود رہے۔
