تقسیم ہند کے کرب کو اردو افسانہ نگاروں نے خصوصی طور پر پیش کیا: پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد
ادب سیاست کا پابند نہیں، بلکہ سیاست کو بھی چراغ دکھاتا ہے: پروفیسر شیخ عقیل احمد
نئی دہلی، : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے اشتراک سے ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی میں ’’اردو افسانہ اور تقسیم ہند: نفسیاتی مضمرات‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سمینار میں افتتاحی اجلاس کے علاوہ دو اہم تکنیکی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں ملک کے مختلف علمی و ادبی مراکز سے وابستہ دانشوروں اور اساتذہ نے شرکت کی اور موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اپنے مقالات پیش کیے۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر رمیش چندر بھاردواج، سابق وائس چانسلر مہارشی والمیکی سنسکرت یونیورسٹی، کیتھل، ہریانہ اور پروفیسر شیخ عقیل احمد، شعبۂ اردو، ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی نے کی۔ پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد، رجسٹرار، مانو حیدرآباد نے مہمان خصوصی جبکہ پروفیسر سبھاش کمار سنگھ، پرنسپل ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی نے مہمان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی۔
اس موقع پر پروفیسر ابوبکر عباد، صدر شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی نے کلیدی خطبہ پیش کیا، جبکہ ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اکیڈمک، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے تعارفی کلمات ادا کیے۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر قمر الحسن نے پیش کیے اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد رکن الدین نے انجام دیے۔
صدارتی خطاب میں پروفیسر رمیش چندر بھاردواج نے اپنے استاد اور معروف نقاد نامور سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اردو زبان میں گفتگو سے ایک منفرد قوت کا اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے اردو کو خالص ہندوستانی اور عوام کی زبان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو سمجھنے کے لیے سنسکرت، فارسی اور اردو زبان کا علم ضروری ہے۔ انہوں نے مذہب کے نام پر ملک اور زبان کے نام پر صوبوں کی تقسیم کو نقصان دہ قرار دیا۔
پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ ’’ادب سیاست کا پابند نہیں بلکہ یہ سیاست کو بھی چراغ دکھاتا ہے۔‘‘ ان کے مطابق ادیب معاشرے کا رہنما ہوتا ہے اور ادب سماج کو فکری سمت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مہمان خصوصی پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد نے کہا کہ تقسیم ہند کے ساتھ متعدد مسائل نے جنم لیا۔ جنگ آزادی اور تقسیم کے کرب کو اردو افسانہ نگاروں نے خصوصی جگہ دی۔ راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، خواجہ احمد عباس اور کرشن چندر جیسے افسانہ نگاروں نے فسادات اور تقسیم کے المیے کو اپنی تخلیقات میں مؤثر انداز میں پیش کیا۔
پروفیسر ابوبکر عباد نے اپنے کلیدی خطاب میں تقسیم ہند کے اردو افسانے پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم کے سانحے کے بعد پیدا ہونے والے خوف اور عدم تحفظ کے احساس کو اردو افسانے نے نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے اردو افسانے کی روایت، مختلف ادبی تحریکوں اور رجحانات کے ساتھ ساتھ اسے درپیش نئے چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی۔
پہلے تکنیکی اجلاس میں پانچ مقالے پیش
پہلے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر ابوبکر عباد اور پروفیسر محمد کاظم، شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی نے کی۔ اجلاس میں ڈاکٹر شاذیہ عمیر، شعیب رضا فاطمی، ڈاکٹر ارشاد احمد خان، پروفیسر مشرف علی اور ڈاکٹر شاہد اقبال نے تقسیم ہند اور اردو افسانے کے مختلف پہلوؤں پر اپنے مقالات پیش کیے۔
پروفیسر محمد کاظم نے صدارتی خطاب میں کہا کہ تقسیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خوف اور عدم تحفظ کی فضا کی عکاسی میں اردو افسانے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پروفیسر ابوبکر عباد نے کہا کہ ادب کا قاری علوم و فنون کے مختلف شعبوں سے واقف ہوتا ہے اور ادب ایک بہتر شہری کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اجلاس کی نظامت ڈاکٹر عارف اشتیاق نے کی۔
دوسرے تکنیکی اجلاس میں بھی پانچ مقالے
دوسرے تکنیکی اجلاس کی صدارت پروفیسر مشرف علی نے کی۔ اجلاس میں ڈاکٹر غلام نبی، پروفیسر شمیم احمد، پروفیسر محمد ساجد حسین، پروفیسر محمد کاظم اور ڈاکٹر فیاض احمد نے تقسیم ہند، منٹو، فسادات، نفسیاتی اثرات اور اردو افسانے کے مختلف موضوعات پر مقالات پیش کیے۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر مشرف علی نے تمام مقالہ نگاروں کو اہم موضوعات پر تحقیقی مقالات پیش کرنے پر مبارکباد دی اور اردو افسانے کے تناظر میں تقسیم ہند کے موضوع کی اہمیت پر اظہار خیال کیا۔ اجلاس کی نظامت ڈاکٹر افسانہ نے کی۔
آخر میں ڈاکٹر فخر عالم کے کلمات تشکر کے ساتھ ایک روزہ قومی سمینار اختتام پذیر ہوا۔ سمینار میں متعدد دانشوروں، اساتذہ، طلبہ و طالبات کے علاوہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان سے وابستہ افسران و تحقیق کار بھی موجود رہے۔
