نئی دہلی: انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، نئی دہلی کے بی ایس عبدالرحمن آڈیٹوریم میں 25 ستمبر کو منعقدہ سالانہ سیرت النبی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف تھیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ریحان اختر نے کہا کہ سیرتِ نبوی ﷺ محض تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کے لیے کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
ڈاکٹر ریحان اختر نے ’’سیرت نبوی: حیاتِ مبارکہ، کردار اور تعلیمات‘‘ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حیاتِ طیبہ میں عقیدہ و عبادت کے ساتھ اخلاق و کردار، عدل و انصاف، انسانی حقوق، معاشرتی تعلقات، رواداری اور باہمی احترام کی ایسی روشن تعلیمات موجود ہیں جو ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ بن سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت ایسے معاشرے میں ہوئی جہاں قبائلی عصبیت، باہمی دشمنی، ظلم، معاشرتی ناانصافی اور کمزور طبقات کے حقوق کی پامالی عام تھی۔ آپ ﷺ نے اصلاحِ معاشرہ کا آغاز انسان کے باطن اور کردار کی اصلاح سے کیا اور پھر اسے اجتماعی زندگی تک وسعت دی۔
ڈاکٹر ریحان اختر نے قرآن مجید کی آیت ’’وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دعوتِ نبوی کے ابتدائی مرحلے میں اپنے قریبی لوگوں اور خاندان کو حق کی طرف متوجہ کرنا اسی حکمت کا حصہ تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خیر خواہی اور اصلاح کا دائرہ اپنے قریب سے شروع ہو کر رفتہ رفتہ پورے معاشرے تک پھیلتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف ظاہری اعمال کی درستی پر توجہ نہیں دی بلکہ انسان کی فکر، رویے اور کردار کی اصلاح کو بھی بنیادی اہمیت دی۔ امانت و دیانت، سچائی، صبر اور حسنِ سلوک آپ ﷺ کے نمایاں اوصاف تھے۔ آپ ﷺ رشتہ داروں کے حقوق ادا فرماتے، کمزوروں اور بے سہارا لوگوں کا خیال رکھتے اور معاشرتی زندگی میں عدل و انصاف کو بنیادی قدر قرار دیتے تھے۔
حسنِ اخلاق کا دل نشیں نمونہ
حسنِ اخلاق کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر ریحان اختر نے حضرت انسؓ کا واقعہ بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت انسؓ نے دس سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گزارے، لیکن اس پورے عرصے میں آپ ﷺ نے کبھی ان کے ساتھ سختی کا معاملہ نہیں کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ حضرت انسؓ کسی کام سے گئے اور واپسی میں دیر ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ خود ان کی خبر لینے تشریف لے گئے۔ جب حضرت انسؓ ملے تو آپ ﷺ نے مسکرا کر تاخیر کی وجہ دریافت کی۔
ڈاکٹر ریحان اختر نے اسے نبوی تربیت کا دل نشیں نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ ﷺ اصلاح کرتے وقت بھی انسان کی عزتِ نفس، جذبات اور کیفیت کو ملحوظ رکھتے تھے۔
انسانی احترام اور رواداری
انسانی احترام کی وسعت بیان کرتے ہوئے انہوں نے صحیح بخاری میں مذکور یہودی کے جنازے کا واقعہ بھی بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو رسول اللہ ﷺ احتراماً کھڑے ہوگئے۔ عرض کیا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’أَلَيْسَتْ نَفْسًا؟‘‘ یعنی ’’کیا وہ ایک جان نہیں؟‘‘
اسی طرح انہوں نے یہودی لڑکے کا واقعہ بھی بیان کیا جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا اور بیمار ہونے پر آپ ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔
ڈاکٹر ریحان اختر نے کہا کہ ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ مذہبی اختلاف اپنی جگہ، لیکن انسانی جان، عزت اور وقار کا احترام بنیادی نبوی تعلیمات میں شامل ہے۔ موجودہ دور میں بین المذاہب تعلقات اور باہمی رواداری کے لیے اس پہلو کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ
خواتین کی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے خواتین کی علمی ضروریات کو بھی خصوصی اہمیت دی۔ جب خواتین نے تعلیم کے لیے الگ وقت مقرر کرنے کی درخواست کی تو آپ ﷺ نے ان کے لیے وقت مقرر فرمایا۔
انہوں نے کہا کہ سیرتِ طیبہ میں خواتین کی عزت و تکریم کے ساتھ بچوں، یتیموں، کمزوروں اور محتاجوں کے حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا ہے۔
سیرتِ نبوی پر غیر مسلم اہلِ قلم کی تحقیق
سیرتِ نبوی ﷺ کے علمی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ریحان اختر نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی حیات و کردار کا مطالعہ صرف مسلم اہلِ علم تک محدود نہیں رہا بلکہ غیر مسلم اہلِ قلم اور مفکرین نے بھی اس موضوع پر توجہ دی ہے۔
انہوں نے اینی بیسنٹ، کیرن آرمسٹرانگ، باسورتھ اسمتھ، فلپ کے ہِٹی اور دیگر مصنفین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف زبانوں میں سیرتِ نبوی ﷺ پر ہونے والی تصنیف و تحقیق اس موضوع کی وسیع علمی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
اختتام پر ڈاکٹر ریحان اختر نے کہا کہ سیرتِ نبوی ﷺ کو کسی ایک دن، مہینے یا مجلس تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی اصل روح اس وقت سامنے آتی ہے جب رسول اللہ ﷺ کے اخلاق و تعلیمات ہماری عملی زندگی کا حصہ بنیں۔
انہوں نے کہا کہ اختلاف کے وقت تحمل، اختیار کے وقت عدل، کمزور کے ساتھ رحمت اور دوسرے انسان کے ساتھ احترام سیرتِ طیبہ کے وہ روشن پہلو ہیں جنہیں آج کی زندگی میں اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
