آگرہ _ مسجد نہر والی کے خطیب محمد اقبال نے آج خطبہ جمعہ میں غزہ کے شہیدوں کو یاد کیا ، انہوں نے کہا کہ تین سال پہلے جو جنگ اسرائیل نے شروع کی تھی وہ آج بھی جاری ہے جی ہاں 7 اکتوبر 2023 سے جو جنگ اسرائیل نے شروع کی تھی اس میں اب تک 74 ہزار سے زیادہ لوگ شہید ہوچکے ہیں اور پونے دو لاکھ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں ، اکتوبر 2025 میں جو جنگ بندی کی گئی تھی وہ صرف کاغذوں پر ہی ہے ، اسرائیل نے اس ایک سال میں پانچ ہزار سے زائد بار خلاف ورزی کی ہے یعنی وہ برابر بمباری کر رہا ہے ، یو این او کے مطابق غرہ کی 82 پرسنٹ عمارتیں تباہ یا خراب ہوچکی ہیں ، تقریباً دو لاکھ عمارتیں، جن میں سے دو تہائی مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں ، ایسا لگ رہا ہے کہ دنیا نے غزہ کو شاید بھلا دیا ہے یاد رکھیں ہمیں ان کو بھولنا نہیں ہے ، یہ امت کا زخم ہے ، غزہ کے لوگوں کا قصور صرف یہ کہ کہ وہ ایمان والے ہیں ، دنیا بھر کے انسانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ جنگ بندی صرف کاغذوں پر ہے زمین پر نہیں یہ مسلمانوں کے ساتھ وعدہ خلافی ہے ، قرآن کریم کہہ رہا ہے ” جن سے آپ نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑدیتے ہیں اور وہ ڈرتے نہیں ” (سورہ انفال: 56 ) قرآن کریم مومنین کو خوشخبری دے رہا ہے ” دل شکستہ نہ ہو ، غم نہ کرو ، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو ” (سورہ آل عمران: 139 ) کیا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے کہ غزہ میں اس وقت کیا حالات ہیں ، کیسے وہ لوگ اپنے بیمار بچوں کے ساتھ اور اپنے گھروں کے ٹوٹنے کے بعد کس طرح زندگی بسر کررہے ہیں ؟ ہسپتال نہ ہونے کے برابر ہیں ، ہر طرف ملبے کے ڈھیر ، قبرستان ہی قبرستان چاروں طرف نظر آرہا ہے ، غزہ تیرا صبر پہاڑ سے بھی بلند ہے ، اسرائیلی فوج اب بھی غزہ کے پچاس پرسنٹ سے زیادہ حصے پر قابض ہے ، ابھی تو تعمیر نو کا کام شروع تک نہیں ہوا ہے ، 94 فی صد آبادی کو ابھی بھی خیموں اور عارضی شیلٹر کی ضرورت ہے ، کیسے ہوگا کس طرح ہوگا کب تک ہوگا اللہ ہی بہتر جانتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ فلسطین کے مظلوموں کی بھر پور مدد فرمائے آمین یارب العالمین _
