ویمنس کالج کی پرنسپل اور نئے پراکٹر کے آفس میمو میں اردو شامل نہیں، میڈیا میں معاملہ اٹھنے کے باوجود دوسری بار بھی وہی صورت حال
رپورٹ شوذب منیر
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اردو زبان کی سرکاری حیثیت اور انتظامی امور میں اس کی شمولیت کا سوال ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اردو زبان و ادب کی سرپرستی اور اس کے فروغ سے وابستہ تاریخی شناخت رکھنے والے اس ادارے میں یکے بعد دیگرے دو اہم تقرریوں کے آفس میمو سے اردو کا غائب ہونا محض اتفاق ہے یا انتظامی ترجیحات کا عکس، یہ سوال اب شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پہلے ویمنس کالج کی پرنسپل کی تقرری کے میمو میں اردو شامل نہیں تھی۔ میڈیا نے اس معاملے کو نمایاں طور پر اٹھایا اور یونیورسٹی انتظامیہ کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرائی، لیکن اب نئے پراکٹر کی تقرری کے میمو میں بھی اردو کو جگہ نہیں دی گئی۔ ایسے میں یہ پوچھنا بے جا نہیں کہ کیا اردو کو یونیورسٹی کے دفتری نظام میں رفتہ رفتہ حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے؟
سرسید احمد خان کی تعلیمی تحریک سے وابستہ اس تاریخی ادارے میں اردو کی اہمیت محض ایک زبان تک محدود نہیں، بلکہ یہ یونیورسٹی کی علمی، ادبی اور تہذیبی روایت کا بھی اہم حصہ ہے۔ اس کے باوجود سرکاری دستاویزات میں اردو کی عدم موجودگی کو معمولی دفتری لغزش کہہ کر نظر انداز کرنا آسان نہیں، خصوصا اس وقت جب ایک معاملے کی نشاندہی اور اس پر میڈیا میں بحث کے بعد بھی دوسری اہم تقرری کے میمو میں یہی صورت حال سامنے آئے۔ اس تسلسل نے انتظامیہ کی سنجیدگی اور زبانوں کے حوالے سے اس کے طرز عمل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق، ۱۵ ستمبر ۲۰۲۶ کو جوائنٹ رجسٹرار ایم سرور اطہر کے دستخط سے ویمنس کالج کے پرنسپل کی تقرری سے متعلق آفس میمو جاری کیا گیا تھا۔ اس میں انگریزی اور ہندی کو شامل کیا گیا، لیکن اردو موجود نہیں تھی۔ اس معاملے پر بحث جاری تھی کہ تقریباً ۲۵ دن بعد، ۹ اکتوبر ۲۰۲۶ کو نئے پراکٹر کی تقرری کے سلسلے میں جوائنٹ رجسٹرار عارف الدین کی جانب سے جاری آفس میمو میں بھی اردو کی عدم موجودگی سامنے آگئی۔ دو الگ الگ اہم تقرریوں کے سرکاری اعلانات میں ایک ہی زبان کا شامل نہ ہونا اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ انتظامی سطح پر اردو کو اس کے تاریخی اور علمی مقام کے مطابق اہمیت نہیں مل رہی۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ جب یونیورسٹی کے سرکاری اعلانات ہندی اور انگریزی میں جاری کیے جا سکتے ہیں تو اردو کو بھی ان کے ساتھ شامل کرنے میں آخر کیا دشواری ہے؟ کیا اردو میں میمو جاری کرنے کے لیے کسی اضافی وسیلے یا غیر معمولی انتظام کی ضرورت ہے، یا اصل مسئلہ انتظامی ترجیحات کا ہے؟ ایک ایسے ادارے میں جہاں اردو کی علمی اور تہذیبی روایت کا ذکر اہمیت سے کیا جاتا ہے، وہاں اس زبان کو سرکاری دستاویزات میں جگہ دلانے کے لیے بار بار توجہ مبذول کرانے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ انتظامیہ کو ان سوالات کا واضح جواب دینا چاہیے، کیونکہ مسلسل خاموشی معاملے کو مزید الجھا رہی ہے۔
اے ایم یو کی شناخت اس کی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ اردو زبان و ادب، علمی مباحث اور تہذیبی روایت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ اردو یہاں صرف اظہار کا ایک ذریعہ نہیں، بلکہ ادارے کی تاریخ اور فکری ورثے کا اہم حصہ ہے۔ ایسے میں انتظامی دفاتر کے اہم اعلانات میں اردو کی مسلسل عدم موجودگی تشویش پیدا کرتی ہے۔ اگر اردو سے گہری وابستگی رکھنے والے ادارے ہی کے دفتری نظام میں اسے مناسب جگہ نہ ملے تو زبان کے تحفظ اور فروغ سے متعلق دعووں کی عملی حیثیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
اب یونیورسٹی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورت حال کی وضاحت کرے۔ کیا دونوں آفس میمو میں اردو کا شامل نہ ہونا محض دفتری غلطی تھی یا اس کے پیچھے کوئی انتظامی پالیسی یا فیصلہ ہے؟ اگر یہ غیر ارادی کوتاہی ہے تو اسے تسلیم کرتے ہوئے فوری اصلاح کی جانی چاہیے اور آئندہ ایسی صورت حال سے بچنے کے لیے واضح ہدایات جاری کی جانی چاہئیں۔ لیکن اگر سرکاری دستاویزات میں اردو کی شمولیت انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل نہیں تو اس بارے میں بھی پالیسی کو صاف طور پر سامنے لانا ضروری ہے۔ وضاحت کے بغیر معاملے کو نظر انداز کرنا سوالات کو ختم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتا ہے۔
اس معاملے کی سنگینی اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اردو کی عدم موجودگی کسی ایک آفس میمو تک محدود نہیں رہی۔ دو مختلف تقرریوں سے متعلق سرکاری دستاویزات میں یکساں صورت حال سامنے آنے کے بعد اسے محض ایک اتفاق قرار دینا آسان نہیں۔ تاہم انتظامیہ کا موقف سامنے آئے بغیر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا مناسب نہیں ہوگا۔ اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ ایک بار نشاندہی ہونے کے بعد بھی دوسری اہم تقرری کے میمو میں اردو کو شامل کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر یونیورسٹی کی جانب سے وضاحت نہیں آتی تو اردو کو انتظامی دائرے سے خاموشی کے ساتھ باہر کیے جانے کا خدشہ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
اے ایم یو انتظامیہ کے لیے اب خاموشی کے بجائے وضاحت اور عملی اقدام کا وقت ہے۔ اسے بتانا ہوگا کہ سرکاری دفتری اعلانات میں اردو کی عدم موجودگی کی وجہ کیا ہے اور اس مسئلے کو دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ اردو کو مناسب جگہ دینا اور آئندہ اہم میمو میں کسی زبان کو غیر ضروری طور پر نظر انداز ہونے سے بچانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اردو سے وابستہ حلقوں کا مطالبہ بھی محض جذباتی وابستگی کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک تاریخی درس گاہ کی لسانی ذمہ داریوں سے جڑا ہوا سوال ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یونیورسٹی اس معاملے کو دفتری کوتاہی سمجھ کر درست کرتی ہے یا اس کی خاموشی اردو کے مقام سے متعلق سوالات کو مزید تقویت دیتی ہے۔
