سرکاری چکرروڈ سے ستون اکھاڑنے، گالی گلوج اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے الزام میں مقدمہ درج،
امجد سیوان نے اے ایم یو انتظامیہ سے اٹھایا سوال
رپورٹ۔ شوذب منیر
اتر پردیش کے ضلع امروہہ کے تھانہ حسن پور کے تحت گاؤں سحالی جاگیر میں سرکاری چکرروڈ پر مبینہ غیر قانونی قبضے، ستون اکھاڑنے، گالی گلوج کرنے اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے معاملے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ شکایت کنندہ رضوان خان ولد عبد الحمید خان، ساکن سحالی جاگیر، کے مطابق گاؤں میں واقع گاتا نمبر ۰۵۹؍۴، رقبہ ۰ء۸۲۹ ہیکٹیئر کی زمین کے شمال، مغرب اور جنوب کی جانب سرکاری چکرروڈ موجود ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ حسن پور کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے حکم پر چکرروڈ کو کھلوایا گیا تھا اور موقع پر ستون بھی لگوائے گئے تھے۔
ملی جانکاری کے مطابق شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ ۸ اکتوبر ۲۰۲۶ کو دوپہر تقریباً ایک بجے نامزد ملزمین نے مبینہ طور پر جے سی بی مشین سے ستون اکھاڑ کر توڑ دیے اور سرکاری چکرروڈ پر غیر قانونی قبضہ کرکے راستہ بند کردیا۔ مخالفت کرنے پر شکایت کنندہ کے ساتھ گالی گلوج کرنے اور جان سے مار نے کی دھمکی دینے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ شکایت میں نوید ولد عشرت، خلیل ولد امجد، افسر ولد ساجد اور منوا زوجہ نصیر خان کے نام درج ہیں۔ شکایت کنندہ نے پولیس سے ملزمین کے خلاف مقدمہ درج کرک سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کارروائی ۔دستیاب شکایت کی نقل کے مطابق، اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات ۳۲۶ (ای)، ۳۵۲، ۳۵۱ (۳) اور ۳۲۴ (۴) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ الزامات کی صداقت اور آئندہ کارروائی پولیس کی تفتیش سے مشروط ہے۔
وہیں قانون کے طالب علم امجد علی عرف امجد سیوان نے سوال اٹھایا کہ اگر محض مقدمہ درج ہو نے کی بنیاد پر کسی طالب علم کو معطل کر اس کی تعلیم اور بنیادی حقوق کو متاثر کیا جاسکتا ہے، تو کیا یہی اصول نوید خان پر بھی نافذ ہوگا؟ کیا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ انہیں بھی کیمپس آنے سے روکے گی ؟ امجد نے الزام لگایا کہ ایک مبینہ جھوٹے مقدمے کی بنیاد پر ان کے تعلیمی مستقبل اور بنیادی حقوق کو متاثر کیا گیا۔ اس سوال پر امجد نے سخت الفاظ میں کہا، اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے ۔قابل ذکر ہے کہ امجد علی عرف امجد سیوان کو گزشتہ ماہ سے مقدمے کی بنیاد پر معطلی اور کیمپس میں داخلے پر پابندی کا سامنا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد یونیورسٹی کیمپس میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور یہ معاملہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔
واضح رہے کہ اے ایم یو کی رائڈنگ کلب کی زمین کے بچانے کے لئے جن طلبہ نے ہائی کورٹ کا درواازہ کھٹکھٹایا ان میں ایک شعبہ قانون کے طالب علم امجد بھی شامل تھے، وہیں جب انہوں نے کھل کر جب رائڈنگ کلب کی زمین کے حوالے سے اے ایم یو انتظامیہ کے رویہ کو اجاگر کرنے کے بعد چند دنوں بعد انہیں سسپند کر دیا گیا تھا۔
