پھانسی کی سزا پانے والے ملزمین کے دفاع کے لیے سینئر وکلاء کی تقرری، دسہرہ کی تعطیلات کے بعد سماعت متوقع: مولانا حلیم اللہ قاسمی
ممبئی کے مشہور گیٹ وے آف انڈیا اور زیویری بازار بم دھماکہ معاملے میں سپریم کورٹ آف انڈیا میں حتمی سماعت دسہرہ کی تعطیلات کے بعد کسی بھی دن شروع ہونے کا امکان ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی تین رکنی بنچ نے معاملے کی حتمی سماعت شروع کرنے کا
حکم دیا تھا۔
اس سلسلے میں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے بتایا کہ ملزمین کے دفاع کے لیے سینئر وکلاء تیار ہیں۔ گزشتہ سماعت کے دوران بھی وکلاء بحث کے لیے تیار تھے، تاہم وقت کی کمی کے باعث سماعت ملتوی ہوگئی تھی۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی کے مطابق ملزمہ فہمیدہ سید کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ نتیا رام کرشنن جبکہ ملزم عشرت انصاری کی جانب سے ایڈوکیٹ کامنی جیسوال عدالت میں بحث کریں گی۔ ان سینئر وکلاء کی معاونت ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اور دیگر معاون وکلاء کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے سپریم کورٹ میں زیر التواء عرضداشتوں پر جلد سماعت کی درخواست کی جاتی رہی، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر حتمی سماعت شروع نہیں ہوسکی۔ اس دوران مقدمے کا سامنا کرنے والے دو ملزمین کا انتقال بھی ہوگیا۔ ان کے مطابق ملزمین سال 2003 سے جیل میں بند ہیں اور انہیں اس دوران کبھی ضمانت نہیں ملی۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے امید ظاہر کی کہ دسہرہ کی تعطیلات کے بعد عدالت ملزمین کی عرضداشتوں پر حتمی سماعت کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت کے حکم پر ناگپور سینٹرل جیل نے پھانسی کی سزا پانے والی فہمیدہ سید اور عشرت انصاری سے متعلق مختلف رپورٹس تیار کرلی ہیں۔ ان میں قیدیوں کی اصلاح، جیل میں انجام دیے گئے کام، رویے اور طرزِ عمل، نفسیاتی تشخیص اور سزا میں تخفیف سے متعلق جائزے کی رپورٹس شامل ہیں۔

2003 کے سلسلہ وار بم دھماکوں کا معاملہ
واضح رہے کہ اگست 2003 میں ممبئی کے مشہور زیویری بازار اور گیٹ وے آف انڈیا کے علاقوں میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے۔ ان دھماکوں میں 54 افراد ہلاک جبکہ 244 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس معاملے میں خصوصی پوٹا عدالت نے فہمیدہ سید، سید حنیف اور عشرت انصاری کو سزائے موت سنائی تھی۔ استغاثہ کے مطابق فہمیدہ سید اور حنیف سید نے عشرت انصاری کی ٹیکسی میں سفر کرتے ہوئے گیٹ وے آف انڈیا سمیت مختلف مقامات پر دھماکہ خیز مواد رکھا تھا، جو دھماکوں کا سبب بنا۔
بامبے ہائی کورٹ نے 10 فروری 2012 کو سزائے موت کی توثیق کی تھی، جس کے خلاف جمعیۃ علماء کی قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ ان تین ملزمین میں سے حنیف سید کا 11 فروری 2019 کو طویل علالت کے بعد ناگپور سینٹرل جیل میں انتقال ہوگیا تھا۔
یہ مقدمہ اس اعتبار سے بھی غیر معمولی ہے کہ دہشت گردی کے الزامات کے تحت ایک میاں بیوی کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی کے مطابق اس معاملے میں سپریم کورٹ میں اب تک 45 سماعتیں ہوچکی ہیں۔ عدالتی ریکارڈ اور جیل سے متعلق ضروری رپورٹس تیار ہونے کے بعد اب حتمی سماعت شروع ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
قانونی کارروائی کے اگلے مرحلے پر سب کی نگاہیں سپریم کورٹ کی جانب لگی ہوئی ہیں۔
