رپورٹ۔ایس منیر
علی گڑھ۔ پرچم پارٹی آف انڈیا اور مغربی پردیش نرمان مورچہ نے مغربی اتر پردیش کے ۲۷ اضلاع کو ملا کر الگ مغربی پردیش ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں دونوں تنظیموں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس کے بعد صدر جمہوریہ ہند کے نام میمورنڈم ضلع مجسٹریٹ، علی گڑھ کے توسط سے پیش کیا گیا۔
اس موقع پر مغربی پردیش نرمان مورچہ کے مرکزی صدر ستیہ پال سنگھ یادو نے کہا کہ مغربی اتر پردیش کے لوگوں کو ریاستی دارالحکومت لکھنؤ اور ہائی کورٹ سے متعلق کاموں کے لیے طویل مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔ آخر علاقے کے عوام کب تک ان پریشانیوں کا سامنا کرتے رہیں گے؟ انہوں نے کہا کہ الگ مغربی پردیش بننے سے انتظامی سہولتوں میں اضافہ ہوگا، نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی سطح پر حکومتی و انتظامی مسائل حل کرنا آسان ہوگا۔ اس سے علاقے میں تجارت اور صنعت کی ترقی کو بھی رفتار ملے گی۔
پرچم پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ناظم الٰہی نے کہا کہ ان کی پارٹی ماضی میں بھی اتر پردیش کو بہتر طریقے سے چلانے اور تمام علاقوں کی یکساں ترقی و خوش حالی کے مقصد سے ریاست کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے مطالبے پر تحریک چلا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کی تنظیم نو کی تجویز اسمبلی میں بھی منظور کی گئی تھی۔ مغربی اتر پردیش کے عوام کو بہتر انتظامیہ، انصاف اور ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے الگ مغربی پردیش کے قیام کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
مغربی پردیش نرمان مورچہ کے مرکزی جنرل سکریٹری کرنل سدھیر چودھری نے کہا کہ مغربی اتر پردیش کے لوگوں کی انتظامی نظام اور سیاسی فیصلہ سازی کے عمل میں شمولیت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی علاقے کے مسائل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے عوام کو ان کے معاشی تعاون اور ضروریات کے مطابق ترقی کے مواقع ملنے چاہئیں۔تنظیم کے وزیر اوم بیر سنگھ بیر وال نے کہا کہ تقریباً ۲۵ کروڑ کی آبادی والی اتر پردیش جیسی بڑی ریاست کے وسیع انتظامی نظام میں مقامی مسائل کے حل میں تاخیر اور انتظامی بدانتظامی کے باعث عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے علاقائی سطح پر مؤثر انتظامی نظام قائم کرنے اور حکومتی امور میں عوام کی شمولیت بڑھا نے کی ضرورت پر زور دیا۔مشترکہ پریس کانفرنس میں مقررین نے کہا کہ الگ مغربی پردیش کے قیام سے انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم، مقامی مسائل کے فوری حل، روزگار کے مواقع میں اضافے اور تعلیم، صحت، زراعت و تجارت کی ترقی سے متعلق علاقائی ضروریات پر زیادہ مؤثر انداز میں کام کیا جا سکے گا۔
اس موقع پر مغربی پردیش نرمان مورچہ کے مرکزی جنرل سکریٹری کرنل سدھیر چودھری، پرچم پارٹی آف انڈیا کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر بجن علی خان، علی گڑھ کے ضلع صدر ایڈووکیٹ فیضان صدیقی ، پرچم کسان مورچہ کے صدر لیاقت علی، قومی سکریٹری سید تنویر احمد، تنظیمی وزیر اوم بیر سنگھ بیر وال، مرکزی نائب صدر دلشاد پرمکھ، غازی آباد کے ضلع صدر راجندر پاراشر، ایڈووکیٹ گورو یادو سمیت دیگر عہدیداران اور کارکنان موجود رہے۔
