مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا بائیسواں کل ہند مسابقۂ حفظ، تجوید و تفسیر قرآن کریم کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
نئی دہلی، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا دو روزہ بائیسواں کل ہند مسابقۂ حفظ، تجوید و تفسیر قرآن کریم شاندار کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ اختتامی اجلاس میں ملک بھر سے ممتاز علمائے کرام، دانشوروں، ماہرینِ قرأت، تعلیمی و دینی اداروں کے ذمہ داران اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔ شرکاء نے مسابقے کے کامیاب انعقاد کو تاریخی، مثالی اور قرآن کریم کی تعلیم و اشاعت کے حوالے سے اہم دینی و علمی خدمت قرار دیا۔
اختتامی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ قرآن کریم ہی عباد و بلاد کے لیے امن و آشتی کا ابدی منشور ہے۔ اگر اس کی تعلیمات کو حقیقی معنوں میں اپنایا جائے اور اس کے معانی و مطالب کو عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے تو دنیا میں امن و سکون، اخوت و بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی و رواداری کو فروغ حاصل ہوسکتا ہے۔ اس سے فتنہ و فساد کا خاتمہ اور معاشرے کو انتشار و افتراق سے محفوظ رکھنے کی راہیں ہموار ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ آج انسانیت مختلف النوع چیلنجز، مسائل اور آزمائشوں سے دوچار ہے۔ ایسے پرفتن اور اضطراب انگیز ماحول میں قرآن کریم کی طرف رجوع کرنا، اسے سینے سے لگانا اور اپنی زندگی کا رہنما بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے قرآن و سنت کی تعلیمات کو فہمِ سلف اور تعامل کی روشنی میں سمجھنے اور ان پر عمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرزِ عمل سے فکری انتشار اور شکوک و شبہات سے محفوظ رہتے ہوئے دین و ایمان کی حفاظت اور انسانیت کی خدمت کا حق ادا کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے مسابقے میں شریک طلبہ، ان کے اساتذہ، والدین اور متعلقہ اداروں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مدارس اسلام کے مضبوط قلعے اور حقوقِ انسانیت کے ضامن ہیں۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنے مدارس کی قدر کریں اور انہیں اپنے لیے عظیم نعمت سمجھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کے حاملین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کے آداب و اخلاق سے آراستہ ہوں، اپنے اندر قوتِ برداشت و تحمل پیدا کریں اور دوسروں کی تغلیط و تبدیع سے حتی الامکان اجتناب کریں۔ قرآن کریم کی تفسیر و تشریح میں احادیثِ نبویہ کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ سنتِ نبویہ قرآن کے معانی و مطالب کو سمجھنے کا بنیادی ماخذ ہے۔
ملک بھر کی ممتاز شخصیات نے کیا اظہارِ خیال
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد ہارون سلفی نے خیرمقدمی خطاب کرتے ہوئے اس قرآنی اجتماع کو باعثِ سعادت قرار دیا۔ انہوں نے مسابقے کی کامیابی پر امیر جمعیت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور ان کی پوری ٹیم کی خدمات کو سراہا۔
پروفیسر اخترالواسع، پروفیسر ایمریٹس جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے مسابقے کی بین المسالک وسعت اور رواداری کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام مسالک کے طلبہ کو شرکت کا یکساں موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ دیگر مکاتبِ فکر کے ممتاز قراء کو منصفین کی حیثیت سے مدعو کرنا بھی علمی کشادہ نظری کی مثال ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے مسابقے کے کامیاب انعقاد پر جمعیت کے ذمہ داران اور منتظمین کو مبارک باد پیش کی اور قرآن کریم میں تدبر و عمل کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر جنید حارث، صدر شعبہ اسلامیات، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے گزشتہ بائیس برسوں سے مسلسل اس مسابقے کے انعقاد کو قابلِ تحسین علمی و دینی خدمت قرار دیا۔
مولانا خورشید عالم مدنی، مولانا محمد علی مدنی، مولانا شفیق عالم جامعی، مولانا محمد خورشید عالم محمدی، حافظ شکیل احمد میرٹھی، مولانا عبدالسلام سلفی، مولانا محمد اسماعیل سرواری، مولانا طہٰ سعید عمری مدنی، مولانا عبدالقدوس عمری، مولانا عبدالعلیم عمری اور ڈاکٹر عبداللطیف کندی سمیت ملک کی مختلف صوبائی جمعیتوں کے ذمہ داران نے بھی مسابقے کے انعقاد کو سراہا اور منتظمین کو مبارک باد پیش کی۔
مقررین نے کہا کہ قرآن کریم کا حفظ کرنے کے ساتھ اس کے معانی و مفاہیم کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنا بھی ضروری ہے۔ اس طرح کے مسابقات نئی نسل میں قرآن سے محبت، حفظ و قرأت کا شوق اور علمی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
ڈاکٹر سید فاروق، صدر ہمالیہ ڈرگس نے منظوم انداز میں منتظمین اور شرکاء کو مبارک باد پیش کی۔ قاری علاء الدین قاسمی، استاذ دارالعلوم دیوبند وقف نے بیس منصفین کی نمائندگی کرتے ہوئے مسابقے کے معیار، انتظامات اور شرکاء کی بڑی تعداد کو سراہا۔ انہوں نے اسے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مسلکی رواداری اور وسیع القلبی کا نمایاں ثبوت قرار دیا۔
مولانا شفیق عالم جامعی نے موجودہ حالات میں مدارس و مساجد کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے اس مسابقے کے انعقاد کو دینی عزم و حوصلے اور اعتدال و رواداری کی علامت قرار دیا۔
مولانا شعیب مدنی، جامعۃ الفلاح حیدرآباد، نے کہا کہ تقریباً پچیس برس قبل قرآن کریم کی بے حرمتی اور قرآن سوزی جیسے واقعات کے پس منظر میں اس نوعیت کے مسابقے شروع کرنے کی کوششیں اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے قرآن کے تراجم کی اشاعت اور مسابقے کے مسلسل انعقاد کو قابلِ قدر دینی خدمات قرار دیا۔
مولانا عظیم اللہ قاسمی، نمائندہ جمعیۃ علماء ہند نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی جانب سے مبارک باد پیش کی۔ دیگر مقررین میں مفتی افروز عالم قاسمی، سراج الدین قریشی، مولانا حفظ الرحمن مدنی، مولانا مطیع الرحمن شیث محمد مدنی، مولانا عبدالاحد مدنی، مولانا انعام الحق مدنی، مولانا راشد اثری، مولانا جرجیس سراجی، مولانا عطاء الرحمن قاسمی اور مولانا محمد عامر مدنی سمیت متعدد ممتاز شخصیات شامل تھیں۔
150 اداروں کے 670 سے زائد طلبہ کی شرکت
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق بائیسویں کل ہند مسابقۂ حفظ، تجوید و تفسیر قرآن کریم میں ملک بھر کے تقریباً 150 مدارس، مکاتب، جامعات، کلیات، معاہد اور عصری تعلیمی اداروں سے 670 سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔
مسابقہ چھ زمروں پر مشتمل تھا، جن میں مکمل حفظ قرآن کریم، بیس پارے، دس پارے، پانچ پارے، ناظرہ قرآن کریم اور تفسیر قرآن کریم شامل تھے۔ ان زمروں کے ذریعے طلبہ کو حفظ، قرأت، تجوید اور فہمِ قرآن کے میدان میں اپنی علمی و فنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا گیا۔
مسابقے کے منصفانہ اور معیاری فیصلوں کے لیے ملک کے معروف تعلیمی و دینی اداروں سے وابستہ ممتاز قراء، حفاظ اور علمائے کرام کی خدمات حاصل کی گئیں۔ مختلف زمروں میں اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو اسنادِ تفوق، نقد انعامات اور دیگر اعزازات سے نوازا گیا، جبکہ تمام شرکاء کو توصیفی اسناد اور تشجیعی انعامات پیش کیے گئے۔
اس علمی و قرآنی سرگرمی میں تقریباً بیس منصفین نے اپنی خدمات انجام دیں۔ اختتامی اجلاس میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران، ارکانِ عاملہ، صوبائی جمعیتوں کے امراء و نظماء، حفاظ، قراء، علمائے کرام، سرپرستوں اور دہلی و اطراف کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
مسابقے کے اختتام پر منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قرآن کریم کی تعلیم، حفظ، تجوید، تفسیر اور اس کے پیغامِ امن و انسانیت کو عام کرنے کی یہ کوشش آئندہ بھی جاری رہے گی۔
