آج سے پندرہ برس پہلے، جب میری عمر محض سولہ یا سترہ سال تھی، والد صاحب نے دوسری شادی کر لی۔ اور اسی دن ہم سب کو ایک نئی حقیقت سے روبرو ہونا پڑا — ایک سوتیلی ماں اور ایک بدلا ہوا باپ۔ اس عمر میں جہاں ہاتھوں میں کھیلنے کے کھلونے ہوتے ہیں، وہاں میرے ہاتھوں میں اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری آ گئی۔ بچپن وقت سے پہلے ختم ہو گیا، اور زندگی نے سختی کا پہلا سبق پڑھایا۔گھر میں تنگ دستی نے بسیرا کر لیا۔ نہ رشتہ داروں نے ساتھ دیا، نہ کوئی سہارا بنا۔ مگر شکر ہے اس ذات کا جو ہمیشہ بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا، اسی کے کرم سے عزت باقی رہی، کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آئی۔ قلیل سی تنخواہ، کرایہ، اور روزمرہ کے اخراجات کا پہاڑ تھا مگر اللہ نے ہر مرحلے پر سہارا دیا۔
آج بھی جب وہ دن یاد آتے ہیں تو دل کانپ اٹھتا ہے، آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہہ نکلتے ہیں۔ مگر انہی آنسوؤں کے ساتھ دل سے شکر بھی نکلتا ہے کہ اللہ نے صبر کے بدلے عزت اور مقام دیا۔ آج، ممبئی کے مدارس، سیاسی رہنما، اور سماجی کارکن سب میرا نام جانتے ہیں۔
یہ سب اس لیے یاد آ رہا ہے کہ ۳۱ اکتوبر ۲۰۲۵ کو میرے چھوٹے بھائی شاہنواز کا نکاح ہوا۔ شاہنواز، وہی جو میرا بازو، میرا ہمسفر، جو میرے ساتھ ہر رمضان میں روزی کی تلاش میں نکلتا، ہم نے کبھی ٹوپیوں کا کاروبار کیا، کبھی جبے بیچے، کبھی بارش میں بھیگتے ہوئے ممبئی کی گلیوں میں ٹھیلے لگائے۔ مقصد صرف ایک ہوتا — کہ عید کے دن ہمارے چھوٹے بہن بھائیوں کے چہروں پر خوشی کی چمک ہو، اور ہماری ماں کسی کمی کا احساس نہ کرے۔ دوسرے بچوں کی چھٹیوں میں کھیلنے، گھومنے اور پارٹیاں کرنے کے دن ہوتے۔ لیکن میرا شاہنواز اپنے کپڑے میلے کرتا، میرے ساتھ پسینہ بہاتا، بادلوں کی برسات میں ہنستا اور کبھی شکوہ نہ کرتا، پھر وہ وقت آیا جب لاک ڈاؤن نے سب کچھ روک دیا۔ میری تنخواہ بند ہو گئی، حالات نے دبوچ لیا۔ تب اس نے اپنی تعلیم قربان کر دی۔ دارالعلوم دیوبند جیسے عظیم ادارے سے صرف دو سال کی فراغت باقی تھی، مگر اس نے اپنے خوابوں کو قربان کر کے میرے گھر کا سہارا بننے کا فیصلہ کیا۔ وہ پلمبر بن گیا، مگر بھائی کا سایہ بننے سے پیچھے نہ ہٹا، ہم میں کئی بار بحث بھی ہو جاتی، کبھی اختلاف بھی ہوا، مگر میں ہمیشہ اس کے غلطیاں نظر انداز کرتا۔ کیوں کہ میں صرف اس کا بڑا بھائی نہیں تھا، بلکہ اس کے لیے باپ کا سایہ بھی تھا۔ میں نے اس کے اندر اپنے چھوٹے سے بچے کو دیکھا، اور اس کے لیے اپنے دل میں وہ محبت محسوس کی جو شاید ایک والد اپنے بیٹے کے لیے کرتا ہے۔
آج جب نکاح کے بعد میں نے اسے گلے لگایا تو نہ جانے کس طوفان نے دل کو گھیر لیا، دونوں بھائیوں کی آنکھوں سے سیلاب رواں ہو گیا۔
یہ آنسو صرف خوشی کے نہیں تھے، بلکہ درد کے وہ قطرے تھے جو برسوں سے دل کے اندر جمع تھے۔
ہم نے ایک دوسرے کے کندھوں پر سر رکھ کر رویا، وہ بچپن یاد آیا، وہ قربانیاں، وہ بھوکے دن، وہ خاموش راتیں، کسی کے سامنے کمزور نہ ہونے والے بھائی، ایک دوسرے کے سامنے ٹوٹ گئے تھے، اللہ نے میرے بھائی کی زندگی میں ایک نئی روشنی عطا کی ہے۔
ایک پیاری سی شریکِ حیات، جو ان شاءاللہ اس کے دل کا سکون آنکھوں کی ٹھنڈک اور روح کی راحت بنے گی، میری دعا ہے کہ میرا شاہنواز اللہ کے حفظ و امان میں رہے،اللہ اسے دنیا و آخرت کی تمام خوشیاں عطا کرے، اور دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کی سمجھ، صبر اور محبت کے ساتھ زندگی کے سفر کو حسین بنائیں۔

