رپورٹ: ایس۔ منیر
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک بار پھر جعلسازی، دھوکہ دہی اور عوامی فنڈ کے غلط استعمال کے سنگین الزامات کے باعث تنازعات میں گھر گئی ہے۔ اس معاملے میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے ایڈووکیٹ سید کیف حسن کے ذریعے دی گئی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے اے ایم یو انتظامیہ کو فوری کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے۔
شکایت گزار ثاقب حسین، جو سر شاہ سلیمان ہال میں اپر ڈویژن کلرک (یو ڈی سی) کے عہدے پر فائز ہیں، نے الزام لگایا ہے کہ یونیورسٹی کے ایڈمیشن سیکشن میں تعینات لوئر ڈویژن کلرک (ایل ڈی سی) شبیہ احمد نے مالی دستاویزات میں جعلسازی کی ہے۔ ایڈووکیٹ سید کیف حسن کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک ملازم تک محدود نہیں بلکہ اے ایم یو میں وسیع پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ اے ایم یو، جو حکومت ہند کی مالی معاونت سے چلنے والی ایک مرکزی یونیورسٹی ہے، اس سے اعلیٰ درجے کی شفافیت اور مالی نظم و ضبط کی توقع کی جاتی ہے، لہٰذا کسی بھی قسم کی بے ضابطگی نہایت تشویشناک ہے۔
تفصیلات کے مطابق 19 اپریل 2025 کو شبیہ احمد نے اپنے حلف نامے میں اعتراف کیا کہ انہوں نے 9,040 روپے کے کیش واؤچر خود تیار کیے اور “یامین ہوٹل”، دودھ پور، علی گڑھ کے نام پر خود ہی دستخط کر دیے، جبکہ اصل فروخت کنندہ کے دستخط حاصل نہیں کیے گئے۔ شکایت گزار کے مطابق یہ واضح طور پر جعلسازی اور مالی دستاویزات میں خردبرد کا معاملہ ہے۔
معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب متعلقہ مالی رجسٹروں کی طلبی پر انہیں “گم” یا “ٹریس نہ ہونے” کی بات کہی گئی۔ شکایت میں اسے ثبوت چھپانے کی ممکنہ کوشش قرار دیتے ہوئے جنرل فنانشل رولز 2017 کی خلاف ورزی بتایا گیا ہے۔
شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان واؤچرز کی تصدیق ایڈمیشن سیکشن کے سیکشن آفیسر قاضی زبیر احمد نے کی جبکہ اسسٹنٹ کنٹرولر محمد فیصل فرید نے انہیں منظور کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ کئی سطحوں تک پھیلا ہوا ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ 50 اور 60 روپے کے رکشہ کرایہ کے واؤچرز میں حقیقی سروس فراہم کرنے والوں کے بجائے دفتری ملازم کے انگوٹھے کے نشان استعمال کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے، جو مالی بے ضابطگیوں کے ایک منظم رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ معاملہ میڈیا میں سامنے آئے تقریباً 20 کروڑ روپے کے مبینہ فیس گھوٹالے کے تناظر میں مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
شکایت گزار نے جولائی 2025 میں یونیورسٹی انتظامیہ کو شکایت پیش کی تھی، لیکن کارروائی نہ ہونے پر آر ٹی آئی کے تحت معلومات طلب کیں۔ 9 ستمبر 2025 کو موصول جواب میں معاملہ “زیر غور” بتایا گیا، جبکہ بعد میں رجسٹر “ٹریس نہ ہونے” کی بات سامنے آئی، جس سے شبہات مزید گہرے ہو گئے۔
اہم بات یہ ہے کہ ملزم شبیہ احمد 30 اپریل 2026 کو سبکدوش ہونے والے ہیں۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ اگر اس سے پہلے چارج شیٹ جاری نہ کی گئی تو یونیورسٹی ان کے خلاف سخت کارروائی یا ریٹائرمنٹ فوائد روکنے سے قاصر ہو سکتی ہے۔ بعض سینئر اساتذہ کا ماننا ہے کہ تاخیر جان بوجھ کر کی جا رہی ہے تاکہ معاملہ دبایا جا سکے۔
یونیورسٹی سطح پر مؤثر کارروائی نہ ہونے کے سبب شکایت گزار نے معاملہ یو جی سی تک پہنچایا، جہاں سے اب فوری جانچ اور کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ شکایت میں تادیبی کارروائی، ویجلنس انکوائری، معطلی، مالی آڈٹ، قصورواروں سے رقم کی وصولی اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
سینئر پروفیسرز کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف انفرادی ذمہ داری کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی نظام میں موجود سنگین خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے، جو یونیورسٹی کی ترقی اور ساکھ کے لیے نقصان دہ ہیں۔
اس سلسلے میں جب اے ایم یو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر محسن خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس نوعیت کی کسی شکایت کی معلومات نہیں ہیں۔

