اے ایم یو میڈیکل کالج کی فیکلٹی نے نیٹ ایس ایس میں آل انڈیا رینک میں چھٹواں مقام حاصل کیا
ایس منیر
علی گڑھ نیٹ ایس ایس، جوکہ ماسٹر آف کیرورجئے (ایم سی ایچ) کے لیے ایک آل انڈیا داخلہ امتحان ہے اور سر و گردن کے کینسر (ہیڈ اینڈ نیک آنکولوجی) میں سپر اسپیشلائزڈ سرجن بننے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔ یہ امتحان۲۶؍دسمبر ۲۰۲۵کو منعقد ہوا، جس میں پورے ملک سے تقریباً چھ سو امیدواروں نے شرکت کی۔ اس امتحان کے
ذریعے ملک بھر میں دستیاب ۲۰سے۳۰؍ نشستوں کے لیے مقابلہ ہوا۔
ڈاکٹر سعدیہ اسلام، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ ای این ٹی، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (اے ایم یو )، خود اسی کالج کی سابق طالبہ ہیں۔ انہوں نے علیگڑھ کے آور لیڈی فاطمہ ہائر سیکنڈری اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے۲۰۰۲ میں ہائی اسکول۸۷؍ فیصد مجموعی نمبروں کے ساتھ پاس کیا، اسکے بعد انہوں نے اے ایم یو سینئر سیکنڈری اسکول (گرلز) میں فزکس، کیمسٹری اور بایولوجی مضامین کے ساتھ داخلہ لیا، جہاں انہوں نے۷۵ء ۷۱؍ فیصد نمبر حاصل کیے۔بعد ازاں انہوں نے میڈیکل انٹرنس کی تیاری کی اور۲۰۰۶ میں جے این ایم سی سے ایم بی بی ایس کی تعلیم شروع کی، جسے انہوں نے۲۰۱۰ میں مکمل کیا۔ اسکے بعد انہوں نے داخلہ امتحان کے ذریعے۲۰۱۶میں جے این ایم سی سے ای این ٹی میں ماسٹر آف سرجری (ایم ایس) کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور اتراکھنڈ کے دہرادون واقع شری مہنت اندریش اسپتال میں سینئر ریزیڈنٹ (ایس آر) کے طور پر تقرر پایا۔وہ ۲۰۱۷ میں اسی حیثیت سے دوبارہ جے این ایم سی سے وابستہ ہوئیں اور پہلی ہی کوشش میں ڈپلومیٹ آف نیشنل بورڈ (ڈی این بی) کا امتحان بھی کامیابی سے پاس کیا۔
سینئر ریزیڈنسی مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر سعدیہ اسلام نے جے پور کے سدھم ای این ٹی اسپتال میں بطور کنسلٹنٹ خدمات انجام دیں۔بعد ازاں وہ نومبر۲۰۲۱ میں جنرل سلیکشن کمیٹی کے ذریعے مستقل بنیاد پر شعبۂ ای این ٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر منتخب ہو کر دوبارہ جے این ایم سی سے وابستہ ہوئیں۔ انہوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور۲۰۲۳ میں ممبر آف رائل کالج آف سرجنز (ایم آر سی ایس)، انگلینڈ کی اہلیت حاصل کی۔بطور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات انجام دیتےہوئے اور خود سرجریز انجام دیتے ہوئے ڈاکٹر سعدیہ اسلام نے محسوس کیا کہ وہ ہیڈ اینڈ نیک آنکولوجی سرجریز میں سپر اسپیشلائزیشن حاصل کر کے شعبے کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے نیٹ ایس ایس کا امتحان دیا، جو ایم سی ایچ کے لیے ایک آل انڈیا داخلہ امتحان ہے۔ انہوں نے پورے ملک سے تقریباً چھ سو امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے میں آل انڈیا رینک چھٹواں(۰۶) مقام حاصل کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی، جبکہ ملک بھر میں اس کورس کے لیے صرف۲۰سے۳۰ نشستیں دستیاب تھیں۔

