بھاگلپور — بنود بہاری مہتو کوئلانچل یونیورسٹی، دھنباد کے شعبۂ اردو کی جانب سے آج زبان اور زبانوں کے خاندان کے موضوع پر ایک شاندار توسیعی خطبہ (Extension Lecture) کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت معزز وائس چانسلر پروفیسر آر کے سنگھ نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر پروفیسر جاوید حیات، سابق صدر شعبۂ اردو، پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ تشریف لائے۔
پروگرام کا آغاز محمد التمش کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد محمد افضل نے نعتِ رسول ﷺ پیش کی۔
استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر جہانگیر احمد، آر ایس موڑ کالج، گووند پور، نے لسانیات اور زبانوں کے ارتقائی پہلو پر معلوماتی خیالات پیش کیے۔ صدرِ شعبۂ اردو ڈاکٹر عالمگیر ساحل نے “موضوع کا تعارف” پیش کرتے ہوئے کہا کہ:
“زبان کسی بھی قوم کی شناخت اور تہذیبی شعور کی مظہر ہوتی ہے، اور زبانوں کے خاندان کا مطالعہ ہمیں انسانی رشتوں کی جڑوں تک لے جاتا ہے۔”
مہمانِ خصوصی پروفیسر جاوید حیات نے اپنے خطاب میں زبان کی ارتقائی تاریخ، لسانی خاندانوں کی تشکیل، اور اردو زبان کی جڑوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ:
“زبان ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے جو وقت، تہذیب، اور انسان کے فکری سفر کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔ اردو نے مختلف لسانی اثرات کو اپنے اندر جذب کر کے ایک عالمی اور ہمہ گیر مزاج پیدا کیا ہے۔”
ان کا خطاب نہایت دلچسپ اور معلوماتی تھا، جسے سامعین نے بھرپور سراہا۔
آخر میں ڈاکٹر جہانگیر احمد نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔ پروگرام میں اساتذہ، ریسرچ اسکالرز، اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے علمی ماحول میں ایک نئی روح پھوٹی۔

