جشنِ مولودِ کعبہ کی تاریخی محفل اختتام پذیر
آگرہ۔جس ہستی کی ولادت خود کعبہ کی دیواروں کے اندر ہوئی، اسی امیرالمومنین حضرت مولیٰ امام علی علیہ السلام کی یاد میں 13 رجب المرجب کو آگرہ کی سرزمین پر ایمان، علم اور انسانیت سے سرشار جشنِ مولودِ کعبہ کی شاندار اور روح پرور محفل منعقد ہوئی۔ خانقاہِ شفیقی و مدرسہ بالے پیر ایجوکیشن اکیڈمی، مِڑھاکر (فتح پور سیکری روڈ) میں ہونے والے اس اجتماع نے عقیدت مندوں کے دلوں کو محبت اور صوفیانہ پیغام سے معمور کر دیا۔

محفل کی صدارت کرتے ہوئے گدی نشین و متولی معافی درگاہ نبی کریم ﷺ (قدمِ رسول)، سرائے بودلا، آگرہ، بانی و صدر خانقاہِ شفیقی شیخ محمد شفیق لال شاہ قادری اشرفی مداروی نے اپنے خطاب میں کہا:
“امام علی علیہ السلام محض ایک عظیم شخصیت ہی نہیں بلکہ عدل، شجاعت اور انسانیت کا زندہ پیغام ہیں۔ اگر آج کا انسان آپؑ کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو معاشرے سے ظلم و نفرت خود بخود ختم ہو سکتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ صوفیانہ تعلیمات ہی معاشرے کو امن و بھائی چارے کی راہ دکھاتی ہیں۔

آل انڈیا علماء بورڈ کے صوبائی صدر پیرزادہ محمد عامر شیخ نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
“امام علی علیہ السلام نے علم کو انسان کی سب سے بڑی دولت قرار دیا۔ اگر موجودہ نسل آپؑ کے بتائے ہوئے راستے پر چلے تو ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔”
وہیں آل انڈیا علماء بورڈ، اتر پردیش کے صدر (یوتھ) انجینئر محمد عادل نے کہا:
“جشنِ مولودِ کعبہ جیسے روحانی اجتماعات نئی نسل کو دین، اخلاق اور انسانی اقدار سے جوڑتے ہیں۔ امام علی علیہ السلام کا پیغام کسی ایک قوم تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔”
محفل میں دل کو چھو لینے والی نعت و منقبت پیش کی گئیں، فضا ‘یا علیؑ’ کی صداؤں سے گونج اٹھی۔ آخر میں ملک و قوم، امن و امان اور باہمی اخوت و بھائی چارے کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
اس موقع پر صوفی شاکر کے علاوہ دیگر معزز حضرات بھی موجود رہے۔
یہ بابرکت اجتماع اس واضح پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ امام علی علیہ السلام کی سیرت آج بھی انسانیت کے لیے روشنی کا مینار ہے۔

