جالندھر، 24 اکتوبر (مظہر): امام ناصر میں واقع پنجاب وقف بورڈ کے دفتر میں زمین کی نیلامی کے دوران تنازع کھڑا ہو گیا۔ نکو روڈ ک نواسی کلا دین ولد بھٹو میاں نے الزام لگایا ہے کہ جب وہ دوپہر کے وقت نیلامی میں شرکت کرنے کیلئے پہنچے تو وہاں موجود اسٹیٹ افسر ندیم خان نے انہیں کافی دیر تک باہر بٹھائے رکھا اور بعد میں ان کا موبائل فون چھین کر کے اندر آنے دیا۔
کلا دین کے مطابق جب انہوں نے بولی لگانی شروع کی تو ای،او ندیم خان نے ان کے ساتھ بد زبانی کی اور کمرے سے باہر جانے کو کہا۔ موبائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ کسی سے رابطہ نہیں کر سکے۔ آدھے گھنٹے بعد جب وہ دوبارہ اندر گئے تو ندیم خان نے بتایا کہ نیلامی مکمل ہو چکی ہے، تم چپ چاپ گھر واپس چلے جائو۔
کلا دین کا کہنا ہے کہ افسر نے انہیں باہر بٹھا کر دیگر بولی دہندگان سے ”سیٹنگ” کر لی اور نیلامی شفاف طریقے سے نہیں کی گئی۔ انہوں نے وقف بورڈ کے چیئرمین محمد اویس کو تحریری شکایت بھیج کر غیر جانبدارانہ تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
وہیں دوسری جانب ای،او ندیم خان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ نیلامی میں کل پانچ لوگ شامل تھے دو وقف بورڈ کے افسران، کلا دین، شاہکوٹ کے ہریندر سنگھ اور روبن پریت سنگھ تھے۔ ندیم خان کا کہناتھا کہ بولی کے دوران کوئی ویڈیو نہ بنا لے اس لئے سبھی کے موبائل فون لیکر میز کی دراز میں رکھوا دیئے تھے۔ جب ان سے آخری بولی کی رقم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ فائل دیکھنے کے بعد ہی بتاسکتے ہیں کہ بولی کتنے پر رُکی ۔ بہر حال نیلامی کے عمل پر اٹھنے والے سوالات نے اب وقف بورڈ کی شفافیت پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔

