نئی دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) کے 105ویں یومِ تاسیس پر منعقد ہونے والا “تعلیمی میلہ 2025” نے دہلی میں تعلیم اور ثقافت کا حسین امتزاج پیش کیا۔ غزلوں کی مٹھاس، شاعری کی گونج، شمال مشرقی رقص اور بین الاقوامی کھانوں کی خوشبو نے پورے کیمپس کو جشن میں رنگین کر دیا۔
اتحاد کی دوڑ اور قومی جوش:
دن کا آغاز سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر “رن فار یونٹی” سے ہوا۔ وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف اور رجسٹرار پروفیسر مہتاب عالم رضوی کی قیادت میں سینکڑوں طلبہ و اساتذہ نے دوڑ میں حصہ لیا۔ بعد ازاں پروفیسر ذبیراحمد مینائی نے طلبہ و نمائندوں کو “عہدِ اتحاد” دلایا، جو جامعہ کے قومی یکجہتی کے عزم کا مظہر تھا۔
محفلِ قراءت و نعت خوانی اور یادگاری خطبہ:
روحانی فضا سے لبریز محفل اور پروفیسر محمد مجیب یادگاری خطبہ نے میلے کو معنوی بلندی دی۔ مولانا مفضل شاکر اور مولانا شبیر حسین بھوپال والا نے جامعہ کی تاریخی وراثت پر روشنی ڈالی، جبکہ پروفیسر محمد اسلم پرویز نے فرمایا:
“قرآن صرف کہنے کے لیے نہیں، بلکہ سوچنے اور عمل کرنے کا پیغام ہے۔”
ایم۔اے۔ عربی کے طلبہ کی نعتوں نے سامعین کو مسحور کر دیا۔
غزلوں اور شاعری کی شام:
29 اکتوبر کو پدم شری استاد احمد حسین اور محمد حسین کی غزلوں نے سامعین کو محوِ حیرت کر دیا۔ اگلے دن آل انڈیا مشاعرہ میں لکشمی شنکر باجپئی، یش مالویہ، امن اکشر اور دیگر شعرا نے محبت، مزاح اور سماجی شعور سے لبریز کلام پیش کیا۔
شمال مشرقی بھارت کی ثقافتی جھلک:
ایمفی تھیٹر میں طلبہ نے روایتی لباس میں شمال مشرقی بھارت کی ثقافت، قبائلی رقص اور لوک موسیقی پیش کی۔ بھُوپین ہزاریکا اور جُبین گرگ کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
بین الاقوامی فوڈ فیسٹیول:
میلے کا سب سے دلکش پہلو بین الاقوامی فوڈ فیسٹیول رہا، جہاں بھارتی اور غیر ملکی ذائقوں نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔
وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف اور رجسٹرار پروفیسر مہتاب عالم رضوی نے کہا:
“تعلیمی میلہ جامعہ کی فکری تازگی اور ثقافتی تنوع کا مظہر ہے، اور اس نے تعلیم، فن، خوراک اور مکالمے کے ذریعے اتحاد و ہم آہنگی کا پیغام دیا ہے۔”
“تعلیمی میلہ 2025” نے یہ ثابت کر دیا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ صرف ایک یونیورسٹی نہیں، بلکہ ثقافت، علم اور اتحاد کا جشن ہے۔

