ایس منیر
علی گڑھ۔سر سید نگر میں واقع خانقاہے نیازیہ میں النیاز ایجوکیشن اینڈ ویل فیئر فاونڈیشن کی جانب سے جشن غوث الوراء کا انعقاد کیا گیا ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پیر طریقت ڈاکٹر محمد عباس نیازی نے کہا کہ سیدنا شیخ عبدالقادرجیلانی ،اس عظیم المرتبت شخصیت کے حامل تھے کہ جنہیں اللہ نے محی الدین کے لقب سے سرفراز کیا۔ آپ کا اسم مبارک عبدالقادر کنیت ابومحمداور القابات محی الدین وغیرہ ہیں ، آپ بغداد شریف کے قریب قصبہ جیلان میں یکم رمضان المبارک کو پیدا ہوئے۔ آپ والد گرامی کی طرف سے امام حسن مجتبیٰ ؑ کے گیارہویں اور والدہ کی طرف سےامام حسینؑ کےبارہویں نسل میں ہیں ۔ آپکا خاندان صالحین کاگھراناتھا ،سبھی متقی اور پرہیزگارتھے،اسی وجہ سے لوگ آپکے خاندان کواشراف کا خاندان کہتے تھے۔ غوث پاک شریعت کے متبع اورسنت رسول سے متصف تھے ۔ آپکے نزدیک شریعت مطاہرہ کی پاسداری کا فریضہ سب سے اہم تھا اسیلئے آپ نے دین کی تجدید و احیا ء کےلئے شریعت کو فوقیت دیا ،لوگوں کو دین کی حقیقی تعلیمات کی دعوت دی، بدعات وخرافا ت، شریعت مخالف رسومات کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ،دین پر سختی سے عمل کرنے کی ترغیب دیااورہر معاملہ میں شریعت کی لگام مضبوطی سے پکڑ نے کا حکم دیا ۔ آپ اپنے حلقہ احباب میں شامل تمام لوگوں کو شریعت محمدی پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دیتے تھے، چنانچہ آپ کی تعلیمات سے علمی اور روحانی دنیا میں جو انقلاب بپا ہوا اس جیسی مثال ہمیں نظر نہیں آتی۔
انہوں نے مذید کہا کہ تاریخ اسلام کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہےکہ پانچویں صدی کے حالات و واقعات میں اسلامی ریاست اور مسلمانوں کی سیاسی ،سماجی ، دینی واخلاقی کیفیت ناگفتہ بہ تھی ۔اسلام کی اخلاقی قدریں، روایات اغیار کی سورشوں سے پامال ہورہی تھیں ، اہل اسلام پر شکنجہ جبر واستبداد کسا جارہا تھا، عفت وپاکدامنی کے ماحول کوعریانی وفحاشی کےذریعے زہر آلود کیا جارہا تھا ، دینی اداروں کی ساخت کو نظر آتش کیاجارہاتھا، لاقانونیت اور جبر واکرام کے بے حرم پنجے قدم جمارہے تھے، دینی قدریں اپنوں کے باہمی دست وگریباں سے زمیں بوس ہورہی تھیں، مشاہیر اسلام پر زندگی تنگ کردی گئی تھی، عز ت وعفت کی فضا کو بے حمیت وبے شرمی کا تعفن گدلا کررہا تھا، علمائے اسلام کے لئے سچ بولنا جرم قرار تھا۔اس سیاسی ابتری میں روحانیت کی فتوحات خال خال نظر آرہی تھی اوراگر کوئی مینارہ نور نظر آتا تو اس کی کرنوں کی بجھادیاجاتاتھا۔ ان نازک حالات میں جہاں کوئی مسلمانوں کی قیادت کرنے والا ناتھا قدرت کی طرف سے ایک تاریخ ساز اور انقلاف آفریں شخصیت کا ظہور ہوتا ہے جو دین متین کی بنیادوں کو پھر سے استوار کرکے ملت اسلامیہ کو اس کا کھویا ہوا وقار دلاتی ہے، جوخدا کی عطا کردہ اعلی روحانی صلاحیتو ں سے باطل کی تمام تر چیر دستیوں کی بیخ کنی کرتی ہے ، جو علم کا کوہ گراں بن کر تمام باطل پرستوں کے عقائد فاسدہ کا قلع قمع کرتی ہے۔ وہ تاریخ ساز شخصیت ، وہ روحانی انقلاب برپا کرنے والی عظیم ہستی، علم کی شمع پھر سے روشن کرنےوالی وہ باکمال علم پرورذات والا ، علما ومشائخ کی دستار فضیلت کو عزت واحترام کا مقام دلانے والی قابل قدر شخصیت ، ہمہ گیر وہمہ جہت علمی وروحانی صلاحیتوں سے بھرپور نابغہ روز گار شخصیت ، پیر مغاں ،سرور کشور اولیاء حضور سیدنا شیخ عبدالقادر محی الدین الجیلانی نور اللہ مرقدہ وقدس سرہ تھے جنہوں نے بغداد کوشرف بخشا ، خزاں رسیدہ چمن اسلام کو پھر سے بہار آشنا کیا،اہل ایمان کے تن مردہ میں پھر سے نئی روح پھونکی، علم کی آبیاری کی، لوح وقلم کی پروش کرکے اہل علم کو زینت بخشی اور اپنے تجدید ی کارہائے نمایاں سے ملت اسلامیہ کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں پیغمبرانہ حیات نو بخشی۔علم شریعت و طریقت کے ستون، حقیقت کے اسرار ورموز کو عیاں کرنےوالے ، علمائے معرفت کے علماء کی قیادت کے منصب پرفائز، شیخ الشیوخ والمشائخ کی عزت، اولیائے عارفین کے سرخیل شیخ الاسلام والمسلین سیدنا عبدالقادرجیلانی کے کثیر الکرامات ہونے پر اکابر اولیاء کا اجماع ہے۔غوث پاک نے کس طرح معاشرہ میں اصلاحی انقلاب بپا کیا ،وہ کیا کارہائے نمایاں تھے جس سے بغداد کے بگڑے حالات چند سالوں میں سنورگئے، مسلمانوں کی سیاسی ابتری نےزوال سے کروٹ لے کر عروج کی طرف دوبارہ سفر شروع کیا، انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پھر سے تعلیم اسلام پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا ہوگیا، علم کے بازار ازسر نو سج گئے، علماء کی محافل میں پھر سے سرگرمیٔ تعلیم و تعلم آگئی، اصفیاء واتقیاء کو میخانہ معرفت مل گیا، حکمرانوں کی طرز سیاست میں بہتری آگئی، وزراء اور سلاطین وقت کو راہ مستقیم نظر آگئی ، چوروں اور ڈاکوؤ ں کو ہدایت کی راہ مل گئی اور انسانیت کو مرکز انس ومحبت ملا گیا۔الغرض زندگی کے وہ تمام شعبے جو تاتاریوں کی سورشوں اور اپنوں کی غفلت و بے راہ روی سے بگڑ چکے تھے ان میں پھر سے زندگی آگئی۔
انہوں نے کہا کہ سیدنا عبدالقادرجیلانی کی مبارک زندگی کا اکثر حصہ درس وتدریس میں گزرا اور اسی منصب تدریس کی ذمہ داریوں کو اد اکرتے ہوئے قطبیت کے اعلی منصب پر فائز ہوئے اورجب بیانات کا سلسلہ شروع کیا تو سب سے بڑا معرکہ لوگوں کے عقائد واعمال کی اصلاح کا تھا چو نکہ بغداد میں موجود باطل فرقوں اور بد مذہبیت نے اپنے پنجے کس دیئے تھے ،علمی بے راہ روی تھی، محفلوں میں علمائے حق کوبے جا بدنام کیا جارہاتھا، مختلف عقائد ونظریات کے حامل طبقے لوگوں کو اپنا ہم خیال بنا رہے تھے، لوگوں کے عقائد کو مسخ کیاجارہاتھا ، ہرفرقہ اپنے باطل عقائد کے تشہیر میں دوسرے کی دستار کو تار تار کررہاتھاان حالات میں جوسب سے بڑا بیڑا غوث پاک نے اٹھایا وہ لوگوں کے عقائد واعمال کی اصلاح تھی۔آپ نے دین متین کی حقانیت کو لوگوں کے دلوں میں راسخ کیا ،بدعقیدگی کی سیاہ چادر کو لپیٹ کر قرآن وسنت کی بالادستی قائم کی۔باطل نظریات کی بیخ کنی کرکے اسلامی عقائد کو پروان چڑھایا۔فتوح الغیب کے خطابات اس بات پرشاہد ہیں کہ آپ نے علمائے سوء کو مخاطب کر کےان کو راہ راست پر آنے کی دعوت دی ۔اسمیں کوئی شک نہیں کہ حضور غوث پا ک کی بے شمار شانیں ہیں اوران شانوں کاتذکرہ کرنے کےلئے ہماری زندگی بیت جائے گی لیکن آپ کے کمالات بیان نہیں ہوسکیں گے ۔اس موقع پر جھنڈا کشائی کی رسم ادا کی گئی ڈاکٹرمحمد عباس نیازی نے بتایا کہ کربلاشریف عراق میں منعقد ہ عالمی کانفرنس میں مدعو کیے جانے پر یہ جھنڈانہیں غوت اعظم کی درگاہ کی جانب سے عطا ہوا تھا
اس موقع پر بارگاہ غوث الوراء میں منطوم خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ فاتحہ خوانی کابھی اہتمام کیا گیا پھردنیامیں امن و امان کے لئے دعا کی گئی ۔ وہیںاس موقع پر حىدر على نىازى حافظ فرقان نىازى، صفدر نىازى ،جعفر نىازى ،حىدر عباس نىازى، رو حان نیازی ،علی زمن نیازی ،علی حسنین نیازی، عباد نیازی ،فخرى على نىازى سرور عظیم نیازی ، جنیدنیازی کریم نیازی، خسرو نىازى سرور عظىم نىازى سعىد احمد نىازى عدنان نىازى، آصف نىازى ، عاطف نىازى اورمتعدعقیدت مندموجود تھے۔

