رپورٹ۔ شوذب منیر
علی گڑھ۔ یو پی اسٹیٹ حج کمیٹی لکھنو اور حج کمیٹ آف انڈیا ممبئی کے زیر نگرانی علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی کے تاریخی کینیڈی حال میں حج تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا ۔
عازمیں حج سے خطاب کرتے ہوئے پیر طریقت ڈاکٹر محمدعباس نیازی نے کہاکہ حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک عظیم فریضہ ہے، جسکی ادائیگی ہر صاحب استطاعت کلمہ گوپر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے ۔ حج ایک عظیم اور بابرکت عبادت ہے، جس میں جسمانی، مالی ،روحانی قربانی شامل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حج ایک ہی وقت میں فریضۂ حج کی ادائیگی کے علاوہ عشق الٰہی کا اظہار بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر کلمہ گوکے لیے جہاںکلمہ طیبہ ،نماز ،روزہ ، زکوٰۃ کے متعلق آگاہ ہونا ضروری ہے ،وہیں اسلام کے پانچویں رکن حج کے متعلق بھی معلومات رکھنا بھی ضروری ہے ،چاہے وہ حج کی استطاعت رکھتا ہویا نہیں ۔انہوں نے کہا حج مالی اور جسمانی عبادت کا مجموعہ ہے۔مختصر سے عرصہ کیلئے اپنے معاملات زندگی کو اللہ کی رضا کیلئے یکسر تبدیل کرحاضر ہوں یا اللہ میں حاضر ہوں ۔حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ،میں حاضر ہوں پکارتے ہوئے حج بیت اللہ کیلئے گھر بار ،مال و دولت ،آل اولاد کو چھوڑ کر روانہ ہونا اور مخصوص طریقہ سے احرام میں حج کے بعض افعال اداکرنا اور بعض اپنے معمول کے لبا س میں ادا کرنا حج کہلاتا ہے ۔مناسک حج و عمرہ کے متعلق ایک عازم حج کیلئے جاننا فائدہ مند بھی ہے اور نبی کریم کے ارشاد کی تعمیل بھی ۔شروع میں جب سفر کی جدید سہولتیںمیسّر نہیں تھیںتو راستہ بھر قافلے مناسک حج سیکھتے ہوئے جاتے تھے ۔بحری سفر بھی تقریباً ایک ہفتہ کا ہوتا تھا اس دوران بھی سیکھنے سکھانے کا موقع میسّر آجاتا تھا ،اب جبکہ بحری سفر ختم ہو چکا ہے اور بذریعہ ہوائی جہاز جدہ پہنچنے کیلئے چند گھنٹے درکار ہوتے ہیں۔ اسلئے اس مختصر وقت میں مناسک حج و عمرہ سیکھنا مشکل ہوتا ہے بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ نا ممکن ہے ۔علمائے کرام تو شروع سے ہی عازمین حج کی تربیت کی اہم زمہ داری ادا کرتے چلے آئے ہیں ۔ حج ٹریننگ میںعازمین حج کو کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل ہوتی ہیں ۔پڑھنے کیلئے کتابیں آج بھی ملتی ہیں لیکن جس طرح ایک طالب علم بغیر کسی استاد کے صرف کتابوں سے استفادہ کرکے امتحان پاس کر مشکل ہوتا ہے، اسی طرح حج کی کتابوں کے اصل مفہوم کو سمجھنے کیلئے کسی سکھانے والے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ وہیں اللہ کے مہانوں کی رہنمائی کر نے سے اللہ خوش ہوتا ہے اسلئے موجود ہ دور کے علمائے کرام ، درد دل رکھنے والے حجاج اور بعض حج کی تنظیموں نے اسکا رخیر میں بے لوث حصہ لینا شروع کر دیا ہے ۔جسکی وجہ سے نہ صرف تعلیم یافتہ عازمین حج بلکہ ان پڑھ عازمین حج بھی فائدہ حاصل کررہے ہیں جوکہ حج کی کتابوں کا مطالعہ کرنا تو دور کی بات ہے اپنی مادری زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان سے بھی واقفیت نہیں رکھتے ،سمعی و بصری طریقہ بے حد مؤثر اور عام فہم ہوتا ہے ،آڈیو اور ویڈیو اسمیں مزید فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں ۔ماڈل ،چارٹ،نقشے اور تصاویر وغیرہ سامنے رکھ کر اگر تربیت کا کام کیا جائے تو ذہن پر گویا نقش ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عازمین حج کو حج ٹریننگ کیمپ میں ضرور شریک ہونا چاہیے ۔
امام جمعہ اے ایم یو سید زاہد حسین نے حج اور مناسک حج پر تفصیل اور وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی ۔ سفر حج کو زیادہ سے زیادہ با مقصد اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنے پر انہوں نے زور دیا۔ انہوں نے کہاحج حاجیوں کے گناہوںکو دھو دیتا ہے ، مگراسکا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ حج کے بعد چاہئے کہ ہم تاحیات اسکا تحفظ کرتے رہیں اور اپنی پوری زندگی کو اپنے رب کی خوشنودی اور فلاح آخرت کا ذریعہ بنائیں۔ انہوںنے مزید کہاکہ اس سفر کو بوجھل بنانے اور دوسری مصروفیا ت میں گزارنے سے بہتر ہے کہ ہم ایک ایک لمحہ اس سے استفادہ کریں۔ عازمین جس وقت حج کی نیت کرتا ہے ، اسی وقت سے وہ حج کے عمل میں داخل ہو جاتا ہے۔ لہذا اسے زیادہ سے زیاہ سودمند بنانے کی طرف عازمین کی
توجہ مرکوز ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ حج یا اسلام کا کوئی عمل محض رسم نہیں ہے، بلکہ وہ اعلیٰ و ارفع مقصدکا حامل ہوتا ہے۔ لہذا آپ اگر طواف کعبہ کررہے ہوںتو آپ تاحیات اللہ اور مرضی الٰہی کے ارد گرد طواف کرنے کا عزم لے کر لوٹیں۔ اسی طرح صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے بھی یہ جذبہ پیدا ہونا چاہئے کہ ہم اپنے ملک اور علاقے میں اقامت دین اور دعوت دین کی سعی کریں۔ رمی جمرات سے یہ سبق لے کر لوٹنا چاہئے کہ ہم اپنے اندرون اور بیرون کے شیطان کو سنگسار کریں گے۔
عازمین حج سے خطاب کرتے ہوئے ماسٹر حج ٹرینر شارق علوئی نے کہا کہ حج تربیتی کیمپ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔حج تربیتی کیمپ میں عازمین حج کو حج کے سبھی مناسک کی عملی و نظری تربیت دی جاتی ہے۔احرام باندھنے کا طریقہ، طواف، سعی، وقوف عرفہ، مزدلفہ، منیٰ اور رمی جمرات جیسے اعمال کو تفصیل سے سمجھایا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ حج کے دوران پیش آنے والی مشکلات، جیسے بھیڑ، گرمی اور طویل سفر سے نمٹنے کے طریقے بھی بتائے جاتے ہیں۔تربیتی کیمپ میں عازمین کو صحت و صفائی، نظم و ضبط، صبر و تحمل اور باہمی تعاون کی تعلیم دی جاتی ہے۔ انہیں یہ بھی آگاہ کیا جاتا ہے کہ حج کے دوران کن امور سے پرہیز ضروری ہے اور کون سے اعمال حج کو فاسد یا مکروہ بنا سکتے ہیں۔ تربیت سے عازمین حج میں اعتماد پیدا ہوتا ہے ،وہ بغیر کسی الجھن کے عبادات ادا کر پاتے ہیں۔ مختصراً ، حج تربیتی کیمپ عازمین حج کو روحانی، جسمانی اور عملی طور پر تیار کرتا ہے، تاکہ وہ اس مقدس سفر کو صحیح طریقے سے ، اخلاص اور خشوع کے ساتھ مکمل کر سکیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر مفتی محمد عامر صمدانی، ڈاکٹر ایس جاوید اختر، خالد مسعود سابق صدر اے ایم یو طلبہ یونین حاجی محمد نجم ، ڈاکٹر فیضان احمد سینئرحج ٹرینر حاجی ظہیر خاں، ندھی گوسوامی ڈی ایم او ،راحت سلطان ، ڈاکٹر شرد گپتا، اے سی ایم او کے علاوہ کثیر تعداد میں عازمین حج شریک ہوئے ۔حج ٹرینر معین الدین نے بتایا کہ اس برس ۴۳۰؍ عازمین حج سفر حج پر روانہ ہوں گے۔

