وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت تیزی سے ایک مضبوط عالمی طاقت بن رہا ہے: اودھیش کمار
نئی دہلی، بھارتی تہذیب کی بنیاد وسودھیو کٹمبکم کے تصور پر قائم ہے، جس کا مفہوم پوری دنیا کو ایک خاندان سمجھنا ہے۔ عالمی اخوت اور انسانی بھائی چارہ بھارت کے لیے کوئی بیرونی یا درآمد شدہ نظریہ نہیں بلکہ یہ بھارتی ثقافت کی فطری اور بنیادی قدر ہے۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار اور ممتاز ماہرِ تعلیم پروفیسر (ڈاکٹر) محمد مہتاب عالم رضوی نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، نئی دہلی کے کنونشن سینٹر میں منعقد دو روزہ چھٹے ہمالیہ–بحرِ ہند نیشنز گروپ (HHRS) بین الاقوامی کانفرنس 2026 کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اختتامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر رضوی نے کہا کہ اگر معاشرے باہمی ہم آہنگی، احترام اور تعاون کے ساتھ بقائے باہمی کو اپنائیں تو تصادم اور تشدد خود بخود کم ہو جائے گا۔ انہوں نے خاندانی رشتوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح بھائی پر بہن کی عزت و حفاظت فرض ہے اور بہن اپنے بھائی کی خیر خواہی چاہتی ہے، اسی طرح اقوام کے درمیان اخلاقی اور ذمہ دارانہ تعلقات عالمی امن کی مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں۔
انہوں نے بھارت کی خارجہ پالیسی کے منفرد اور متوازن رویے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ طاقت کے مظاہرے کے بجائے توازن، ہم آہنگی اور تعاون کو ترجیح دی ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ اور تقسیم کا شکار ہے، بھارت امن، استحکام اور مساوات پر مبنی ایک اخلاقی متبادل پیش کرتا ہے۔ پروفیسر رضوی نے زور دے کر کہا کہ پائیدار عالمی امن اسی وقت ممکن ہے جب اقوام مسابقت کے بجائے بقائے باہمی اور غلبے کے بجائے باہمی احترام کو اپنائیں۔
انہوں نے ایک اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا دنیا، اور خود بھارت، اپنی اصل سافٹ پاور یعنی سفارت کاری، زبان، ثقافت اور تہذیبی دانش سے دوبارہ جڑنے کے لیے تیار ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اندھی تقلید کسی بھی قوم کی انفرادی تہذیبی شناخت کو نقصان پہنچا سکتی ہے، کیونکہ عالمی سطح پر عزت و وقار صرف فوجی یا معاشی قوت سے نہیں بلکہ اقدار، اخلاقیات اور ثقافتی اعتماد سے بھی حاصل ہوتا ہے۔
وزیر اعظم مودی کے دور میں بھارت کا ابھرتا عالمی کردار
سینئر صحافی اودھیش کمار نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت تیزی سے ایک مضبوط، بااعتماد اور مؤثر عالمی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا اسٹریٹجک اور اقتصادی فیصلے کرتے وقت بھارت کو سنجیدگی سے سنتی ہے اور اس کے موقف کو اہمیت دیتی ہے۔
انہوں نے بحرِ ہند کے خطے کی اسٹریٹجک اور اقتصادی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ خطہ تقریباً 6 کروڑ 80 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور عالمی سمندری تجارت کی شہ رگ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 80 فیصد سمندری تجارت گزرتی ہے۔
اودھیش کمار نے کہا کہ قدیم زمانے میں بھارت کے مشرقی افریقہ، عرب دنیا اور جنوب مشرقی ایشیا سے وسیع بحری تجارتی روابط تھے، جن کے ذریعے تہذیبی، ثقافتی اور فکری تبادلہ فروغ پاتا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوآبادیاتی دور کے برعکس، آزاد بھارت نے وسائل پر قبضے کے بجائے علاقائی توازن، بحری صلاحیت اور باہمی تعاون کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں بھارت آج بحرِ ہند کے خطے میں ایک مستحکم اور ذمہ دار طاقت کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
دیگر معزز مقررین کے خیالات
جے این یو کی ڈین پروفیسر منورادھا چودھری نے کہا کہ بھارت کا نظریہ ہمیشہ شمولیت اور انسانی اقدار پر مبنی رہا ہے۔ بھارتی تاجر، ملاح اور علما صرف تجارت کے علمبردار نہیں تھے بلکہ زبان، ثقافت، یوگا، فلسفہ اور اخلاقی اقدار کے سفیر بھی تھے۔
دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر بی۔ ڈبلیو۔ پانڈے نے کہا کہ کسی بھی تہذیب کی اصل طاقت مکالمے کی صلاحیت میں مضمر ہوتی ہے، اور بھارتی تہذیب نے ہمیشہ تصادم کے بجائے گفتگو اور افہام و تفہیم کو ترجیح دی ہے۔
خصوصی مہمان پروفیسر وی۔ روی چندرن، وائس چانسلر، دہلی فارماسیوٹیکل سائنسز اینڈ ریسرچ یونیورسٹی، نے کہا کہ بحرِ ہند محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک مرکز ہے، جو آنے والے برسوں میں بھارت کو مزید سفارتی اور تزویراتی فوائد فراہم کرے گا۔
نیپال کی مڈ ایسٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر دھرو کمار نے کہا کہ بھارت کی اصل طاقت اس کی ثقافت، فلسفہ اور روحانی شعور میں پوشیدہ ہے، اور بھارت کو محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیب کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔
کانفرنس کی جھلکیاں
چھٹی ہمالیہ–بحرِ ہند نیشنز گروپ (HHRS) بین الاقوامی کانفرنس 2026 ہمالیہ–بحرِ ہند نیشنز گروپ (HHRS) اور راشٹریہ سُرکشا جاگرن منچ (RSJM) کے اشتراک سے منعقد کی گئی، جس میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسٹی کے مختلف اداروں نے تعاون کیا۔
کانفرنس کا مرکزی موضوع تھا:
“بحرِ ہند کے خطے میں بھارت کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت”۔
کانفرنس میں 100 سے زائد اسکالرز اور محققین نے شرکت کی۔ “بھارت اور بحرِ ہند کا خطہ: چیلنجز اور حل” اور “ابھرتے رجحانات اور مواقع” جیسے موضوعات پر تفصیلی علمی مباحث ہوئے۔ پروگرام کا اختتام “آئندہ کا لائحۂ عمل” پر غور و فکر کے سیشن کے ساتھ ہوا، جس کی صدارت پروفیسر مہتاب عالم رضوی نے کی۔
دو روزہ یہ بین الاقوامی کانفرنس بھارت کی تہذیبی وراثت، امن، مکالمے اور علمی تعاون کے عزم کو اجاگر کرتی ہوئی ایک کامیاب اور بامقصد علمی تقریب ثابت ہوئی۔

