سائنسی مزاج مسلم امت کی ترقی کی اساس
مسجد، تعلیم اور سائنسی فکر: نئی صدی کے چیلنجز پر دانشوراں کا مکالمہ
بھاگلپور :شریف میموریل ٹرسٹ کے زیر اہتمام شہر کے ایک مقامی ہوٹل میں محمد شریف میموریل لیکچر کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع
“سائنسی مزاج مسلم امت کی ترقی کی اساس” تھا۔
اس موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اسلم پرویز نے بطور کلیدی مقرر خطاب کیا۔
تقریب کی صدارت اور مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، جودھپور کے بانی چانسلر ڈاکٹر عتیق احمد موجود تھے، جبکہ بی بی سی انڈین لینگویج کے ہیڈ آف ٹریننگ معروف صحافی اقبال احمد بطور مہمانِ اعزازی شریک ہوئے۔ ملک کے مختلف حصوں سے آئے دانشوروں، اساتذہ اور سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد نے پروگرام میں شرکت کی۔
اپنے تفصیلی خطاب میں پروفیسر ڈاکٹر اسلم پرویز نے مسجد، تعلیم اور مسلم معاشرے کی فکری سمت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
“ہمیں سب سے پہلے یہ غور کرنا ہوگا کہ کہیں ہماری مساجد محض عمارتیں تو نہیں بن گئیں؟ اگر مسجد کا اصل مقصد فوت ہو جائے تو اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔”
انہوں نے مسجد کی زمینوں پر قبضہ، مسجدِ ضرار جیسے تصورات، چندوں کی سیاست اور بگڑتے ہوئے سماجی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی کو تکمیلِ علم کی صدی بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
یہ صدی نہ صرف جزوی دین اور جزوی تعلیم کی نہیں بلکہ مکمل اسلام اور مکمل تعلیم کی صدی ہونی چاہیے۔
پروفیسر ڈاکٹر اسلم پرویز نے واضح کیا کہ اسلام اور سائنسی فکر میں کوئی تضاد نہیں۔
انہوں نے کہا:
“مسلمانوں کے عروج کی بنیاد سائنسی سوچ، تحقیق، مشاہدہ اور سوال کرنے کی روایت تھی۔ اگر ہم واقعی قرآن مجید کی پیروی کریں تو خواتین کے حقوق، مساوات، عدل اور انسانی وقار خود بخود معاشرے میں قائم ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی لینگویج کے اقبال احمد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
“آج اسلام کی خوبصورت تعلیمات مساجد تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں، جبکہ عملی زندگی میں ہم قرآن کے احکامات کو نافذ نہیں کرتے۔ ایک ہی صف میں محمود و ایاز کا تصور محض نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔”
انہوں نے مسلم سماج کو خود احتسابی کی دعوت دیتے ہوئے کہا:
“قصور کسی ایک جماعت، کسی عالم یا کسی لیڈر کا نہیں۔ اگر ہماری تنظیمیں ہمیں راستہ نہیں دکھاتیں تو یہ ہماری اپنی غلطی ہے کہ ہم نے قرآن کو اپنا رہنما نہیں بنایا۔اقبال احمد نے دو ٹوک انداز میں کہا:
“مسلمانوں نے اسلام کو نہیں بچایا بلکہ اسلام نے مسلمانوں کو بچایا ہے۔ ‘آئی لو محمد’ کہنے سے پہلے یہ طے کریں کہ ہمیں واقعی محمد ﷺ سے محبت ہے یا نہیں، کیونکہ محبت کا اصل ثبوت اطاعت اور عمل میں ہوتا ہے۔”
انہوں نے تعلیم، روزگار اور خواتین کے مسائل پر زور دیتے ہوئے کہا:
“دین کے ساتھ تعلیم، معاشی جدوجہد اور سماجی بہتری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ قوموں کو کم از کم مشترکہ پروگرام (Minimum Program) بنانا ہوگا۔ وہ چیزیں تلاش نہ کریں جو آپ نہیں کر سکتے، بلکہ جو کر سکتے ہیں اس پر خلوص کے ساتھ عمل کریں۔”
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا:
“پرفیکشن ہر انسان میں تلاش نہ کریں، مثبت چیزوں کے پیش نظر آگے بڑھیں۔ کام کرنے سے پہلے نتیجے کے خوف میں مبتلا نہ ہوں، مثبت کوشش خود راستہ بناتی ہے۔ یاد رکھیں، کل قیامت کے دن تم سے تمہارا ہی حساب لیا جائے گا۔”
تاریخ سے جڑی قومیں ہی زندہ رہتی ہیں۔ معروف صحافی اقبال احمد نے کہا کہ جو قومیں اپنی تاریخ کو فراموش کر دیتی ہیں، وہ اپنا وجود بھی برقرار نہیں رکھ سکتیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر
ڈاکٹر زکریا صدیقی نے کہا کہ:
“ایسے کئی ممالک ہیں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، اس کے باوجود وہ کسمپرسی کی حالت میں ہیں، جس کی بنیادی وجہ علمی اور سائنسی زوال ہے۔”
انہوں نے مسلمانوں کے سنہری دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
“گولڈن ایج آف عربک سائنس میں ہمارے سائنسدانوں نے دنیا کی رہنمائی کی، یہاں تک کہ ٹاپ سائنسدانوں میں مسلمان شامل تھے۔”
انہوں نے زور دیا کہ:
“قرآنی فکر میں عقل کے ساتھ دل کا بھی دخل ہے اور ہمارے تمام فیصلوں میں قرآن ہی ہمارا اصل رہنما ہونا چاہیے۔”سید شاہ علی سجاد نے نیت اور اخلاص پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اخلاص بڑی مشکل سے آتا ہے، لیکن ذرا سی لغزش پر ختم ہو جاتا ہے۔ آج اکثر لوگ یہی چاہتے ہیں کہ میرا بچ جائے اور دوسرے کو نقصان ہو۔
انہوں نے کہا:
“جن لوگوں نے واقعی دین کا کام کیا، وہ مخلص تھے، چاہے کوئی سنے یا نہ سنے۔ڈاکٹر امتیاز الرحمن نے کہا:
“اس سطح کی فکری گفتگو سننے کے مواقع کم ملتے ہیں، حالانکہ ہمارے سماج میں صلاحیت، تدبر اور کام کرنے کا جذبہ رکھنے والے افراد کی کمی نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ آج عزت اور پہچان انہیں ہی ملتی ہے جو اننوویشن اور تجدید کے عمل سے گزرتے ہیں۔
اس موقع پر تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جب کہ افتتاحی خطاب میں ٹرسٹی اکمل شریف نے اغراض ومقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔اس موقع پر کثیر تعداد میں خواتین ومرد موجود تھے۔ اہم شرکائے مجلس میں پروفیسر ڈاکٹر شاہد رزمی, محمد شوکت, شبیر ,اعظمی, حبیب مرشد خان ,محمود سجاد, تسلیم کوثر وغیرہ کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں.

