نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ممتاز سائنس دان اور اسٹرکچرل بایولوجسٹ پروفیسر محمد امتیاز حسن کو حکومت ہند کے محکمۂ حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی جانب سے 805 لاکھ روپے کا ایک اہم تحقیقی گرانٹ عطا کیا گیا ہے۔ یہ گرانٹ ایک خصوصی سائنسی پروگرام کے تحت فراہم کیا گیا ہے، جس کا مقصد سر اور گردن کے کینسر کے بھارتی مریضوں میں “کینسر کیشیکشیا” کے اسباب اور اثرات کو سمجھنا ہے۔
یہ تحقیق انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اور دیگر معروف اداروں کے اشتراک سے کی جائے گی۔ کینسر کیشیکشیا ایک سنگین حالت ہے جس میں مریض کا وزن تیزی سے کم ہوتا ہے، عضلات کمزور ہو جاتے ہیں، جسم میں سوزش بڑھ جاتی ہے اور زندگی کا معیار متاثر ہوتا ہے۔ اندازاً سر اور گردن کے کینسر کے تقریباً ستر فیصد مریض اس کیفیت سے متاثر ہوتے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت جدید سائنسی طریقوں کے ذریعے تحقیق کی جائے گی، جن میں جسمانی اور حیاتیاتی عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مریضوں کی نفسیاتی کیفیت کا بھی مطالعہ کیا جائے گا، تاکہ بیماری کے مکمل اثرات کو سمجھا جا سکے۔ مزید برآں، مختلف تجرباتی طریقوں کے ذریعے اس تحقیق کے نتائج کی تصدیق بھی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں بروقت تشخیص اور مؤثر علاج ممکن ہو سکے۔
یہ کثیر ادارہ جاتی منصوبہ ڈاکٹر بی بوروہ کینسر انسٹی ٹیوٹ، میسور یونیورسٹی، HCG کینسر ہسپتال اور انسٹی ٹیوٹ آف بایوانفارمیٹکس اینڈ اپلائیڈ بایوٹیکنالوجی سمیت کئی اہم اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتا ہے۔
پروفیسر امتیاز حسن کو یہ اعزاز کینسر بایولوجی اور ادویات کی دریافت کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ وہ سینکڑوں تحقیقی مقالوں کے مصنف ہیں اور کئی قومی سطح کے منصوبوں کی قیادت کر چکے ہیں۔ انہیں رائل سوسائٹی آف کیمسٹری اور رائل سوسائٹی آف بایولوجی کی فیلوشپ بھی حاصل ہے۔
پروفیسر حسن نے اس موقع پر کہا کہ یہ گرانٹ ان کی ٹیم کی صلاحیتوں پر اعتماد کا مظہر ہے اور وہ اس تحقیق کے ذریعے مریضوں کے علاج میں بہتری لانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
یہ گرانٹ بھارت میں سائنسی تحقیق کے فروغ کی ایک اہم مثال ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس کے ذریعے کینسر کے مریضوں کے لیے بہتر علاج اور نئی سہولیات کے دروازے کھلیں گے۔

